
جو تیری بزم سے نکلا سو پریشان نکلا
14 اگست کو پاکستان قائم ہوا۔ قائداعظم پہلے گورنر جنرل اور لیاقت علی پہلے وزیراعظم بنے۔ دونوں رہنما پاکستان کو آئین نے دے سکے۔ آزاد ریاست کی سمت متعین ہونے کی بجائے دس سال ملک محلاتی سازشوں کا شکار رہا
پیر 31 جولائی 2017

(جاری ہے)
ایوب خان کے صدارتی انتخابات میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی کر کے شکست سے دوچار کیا۔ اگر مادر ملت کو کامیاب ہونے دیا جاتا پاکستان کی حالت سنور اور سنبھل جاتی۔ دل کے عارضہ کے باعث جب ایوب خان کی امور مملکت پر گرفت ڈھیلی ہوئی تو ایوبی آمریت کے خلاف سیاسی جماعتوں کی احتجاجی تحریک کا فائدہ اٹھا کر آرمی چیف جنرل یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کا اعلان ہوا۔ مغربی پاکستان کے سرمایہ داروں، جاگیرداروں، بیورو کریٹس اور جرنیلوں نے مشرقی پاکستان کو کالونی سمجھ کر استحصال کیا تو چھ نکات وجود میں آئے۔ 70 کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پی پی پی نے اکثریت حاصل کی۔ یحییٰ خان کے اقتدار چھوڑنے سے انکار اور بھٹو مجیب مفاہمت نہ ہونے پر بھارت نے فائدہ اٹھایا جس کے نتیجے میں ملک دولخت ہو گیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے 1971ئ میں اقتدار سنبھالا، متفقہ آئین، ایٹمی صلاحیت کا حصول اور عوامی شعور ان کے یادگار کارنامے ہیں تاہم 1977ئ کے الیکشن میں پی این اے کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر مبنی تحریک سے امریکہ کو بھٹو کو عبرت کی بدترین مثال بنانے کا موقع ملا۔ جنرل ضیاءالحق نے شب خون مارا، اقتدار پر قبضہ کیا، مارشل لا لگا اور بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔روس کے افغانستان پر حملے، ضیاءالحق کے روس کے خلاف جہاد اور اس کے نتیجے میں روس کو شکست کے بعد امر یکہ نے اپنی کامیابی حاصل ہونے پر جنرل ضیاءکو تنہا چھوڑ دیا اور وہ عبرت ناک انجام سے دوچار ہوئے۔ 1988ءسے 1999 تک بینظیر بھٹو اور نواز شریف جو دو بار اقتدار میں رہے یہ تمام عرصہ محاذ آرائی اور کرپشن کے الزامات کا دور تھا۔ 1999ءمیں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹا، اقتدار پر قبضہ کیا، نائن الیون کے بعد ٹیلی فون کال پر امریکہ کی شرائط قبول کیں۔ اس دوران اکبر بگٹی اور بینظیر بھٹو شہید ہو گئیں۔2008ءمیں ایک بار پھر جمہوری دور شروع ہوا۔ 2008-13ءتک پہلے آصف زرداری اور پھر اس کے بعد نواز شریف برسر اقتدار آئے۔ عمران خان کی قیادت میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کے علاوہ تحریک انصاف نے سیاسی اہمیت حاصل کی۔ آج پھر پاکستان پانامہ کیس، جے آئی ٹی رپورٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تاریخ کے ایک اور دور داخل ہوا ہے۔جولائی کا مہینہ پاکستانی حکومتی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ 5 جولائی 1977ءکو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹا گیا اور بعد میں تختہ دار پر پہنچایا گیا۔ اس مرتبہ 40 برس بعد جولائی کا مہینہ ایک مرتبہ پھر ملک و قوم کیلئے آزمائش کی گھڑی ثابت ہو رہا ہے۔ مگر ان 4 دہائیوں میں عام انتخابات اور 2 آمریتوں سمیت 10 بار کی حکومتوں کے عرصہ اقتدار میں ملک و قوم گرم و سرد حالات سے گزر کر پہلے سے زیادہ پختہ عزم ہے۔ آج ہم جس طویل سیاسی سفر کے بعد اسی مقام پر پہنچے ہیں ا±س کا اولین تقاضا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں تحمل بردباری اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوری عمل کو مضبوط بنائیں اور اجتماعی شعور کو مقدم رکھا جائے۔ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
متعلقہ مضامین :
مضامین و انٹرویوز کی اصناف
مزید مضامین
-
تجدید ایمان
-
جنرل اختر عبدالرحمن اورمعاہدہ جنیوا ۔ تاریخ کا ایک ورق
-
کاراں یا پھر اخباراں
-
ایک ہے بلا
-
سیلاب کی تباہکاریاں اور سیاستدانوں کا فوٹو سیشن
-
”ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان“ کسان دوست پالیسیوں کا عکاس
-
بلدیاتی نظام پر سندھ حکومت اور اپوزیشن کی راہیں جدا
-
کرپشن کے خاتمے کی جدوجہد کو دھچکا
-
بھونگ مسجد
-
پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا عزم
-
کسان سندھ حکومت کی احتجاجی تحریک میں شمولیت سے گریزاں
-
”اومیکرون“ خوف کے سائے پھر منڈلانے لگے
مزید عنوان
Jo Teri Baazm Se Nikla So Pareshaan Nikla is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 31 July 2017 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.