جوہری ہتھیار کا بٹن ہر وقت میز پر ہوتا ہے‘ کم جونگ

ٹرمپ کی کِم جونگ کو دھمکی، میراجوہری بٹن بڑا طاقتور ہے اور کام بھی کرتا ہے․․․․․ شمالی کوریا نے گذشتہ سال کئی میزائل کے تجربے کیے اور اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا

بدھ جنوری

Johri Hathyar  ka Button  har waqt maiz par Hota hy kim Jong
رمضان اصغر:
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کی دھمکی کے جواب میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار چلانے والے بٹن سے زیادہ بڑ ابٹن ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے مابین اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے امکانات کو بھی مسترد کردیا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی مندوب نیکی ہیلی نے واضح کیا کہ واشنگٹن شمالی کو بطور جوہری ملک ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ 2 جنوری کو شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے سال کے موقعے پر ٹی وی زنٹرویو میں کہا تھا کہ امریکاکسی بھی صورتحال میں جنگ کا آغاز نہیں کرسکتا کیوں کہ جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن ہر وقت ان کی میز پر ہو تا ہے ۔

شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کے ایک سنیئر نمائندے کے ساتھ غیر معمولی ملاقات میں امریکا کی جانب سے ”جوہری بلیک میلنگ“ کو ہتھیاروں کے معاملے پر بڑھتے تناؤ کا شاخسانہ قرار دے دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ نے اقوام متحدہ کے سینئر اہلکار سے غیر معمولی ملاقات میں باضابطہ روابط رکھنے پر اتفاق کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے اہلکار جیفری فلیمنٹین حال ہی میں امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان تنازع کو ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت کے لیے اپنا 5 روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد پیانگ یانگ سے چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے۔

شمالی کوریا نے اپنی تاریخ کے طاقتور ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزایل (آئی سی ایم )کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس میزائل تجربے کے بعد شمالی کوریا امریکا کے تمام شہروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اہلکار ن اپنے اس دورے میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ ہو اور نائب وزیر خارجہ پاک میونگ کک سے ملاقات کی۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریانے اقوام متحدہ کے اہلکار سے کہا کہ امریکا کی شمالی کوریا کویرغمال بنانے کی پالیسی اور ایٹمی جنگ کی دھمکی جزیرہ نما کوریا میں حالات کی خرابی کے ذمہ دار ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پیانگ یانگ نے اقوام متحدہ کے ساتھ ہر سطح پر بات چیت کے لیے راہ ہموار کرنے پر اتفاق کیا تاہم شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کی جانب سے ایسا کوئی پیغام سامنے نہیں آیا۔

جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے آغاز کے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا پر اس کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام اور ایٹمی میزائل تجربے کی وجہ سے سفارتی پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ شمالی کوریا نے امریکا تک مار کرنے والے اپنے ایک اور طاقت ور ترین بین البراعظمی بلیسٹک میزائل(آئی سی بی ایم)کے کامیاب تجربے کے بعد ملک بھر میں جشن منایا۔

ان تقاریب میں شریک افراد نے کامیاب میزائل تجربے کی حمایت میں بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’ ہم ان ہواسنگ 15 کے کامیاب تجربے کی خوشیاں منارہے ہیں جو پوری دنیا کے سامنے چوسن (شمالی کوریا)کی طاقت اورعظمت کا مظاہرہ کررہا ہے۔ ماہرین کا ماننا تھا کہ پیانگ یانگ کے اس میزائل تجربے کے بعد وہ واشنگٹن سمیت امریکا کے کسی بھی شہر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل ہوگیا۔

بیانگ یانگ کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے اس تجربے کے بعد شمالی کوریا کو ایٹمی ریاست قرار دے دیا تھا۔ مذکورہ تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے اب تک بین البراعظمی رینج کی صلاحیت کے حامل میزائل کا تیسرا تجربہ تھا اس سے قبل بھی پیانگ یانگ 2 مرتبہ ایسے میزائل تجربات کرچکا ہے۔ کم جونگ ان کے بقول شمالی کوریا نے2017 کے دوران جوہری اورمیزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

سال نو کے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اب ان ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر تیاری پر توجہ دینے کا وقت آگیا ہے۔ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے سال نو کے اپنے پیغام میں جوہری حملے کی دھمکی دی ہے۔ ان کے بقول جوہری بم کا بٹن ہمیشہ ان کی میز پر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دھمکی نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ کم جونگ اُن کے بقول ان کے ملک کو جوہری ہتھیار اور میزائل بڑے پیمانے پر تیار کرنے اور تنصیب کرنے کے عمل کا لازمی طور پر تیز کرنا ہوگا، شمالی کوریا کسی بھی طرح کے امریکی جوہری خطرے سے نمٹ سکتا ہے اور ہماری جوہری صلاحیت امریکا کو آگ سے کھلینے سے روک سکتی ہے۔

اپنے اس خطاب میں انہوں نے اپنے حریف ملک جنوبی کوریا کے لیے خیر سگالی کا ایک بھی پیغام بھیجا۔انہوں نے دونوں ممالک سے فوجی تناؤ میں کمی اور باہمی روابط کو بہتر کرنے کے لیے کہا۔کم جونگ ان کے بقول فروری میں جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کھیلوں میں شمالی کوریا کا دستہ بھیجا جاسکتا ہے، ونٹر اولمپکس میں شمالی کوریا کی شرکت لوگوں کے مابین اتحاد کے اظہار کا ایک بہترین موقع ہے اور ہم ان کھیلوں کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

عالمی سطح پر تنہائی کے شکار شمالی کوریا نے گزشتہ برس ستمبر میں ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا تھا۔ اس بارے میں جاپانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ بم 160 کلو ٹن وزنی تھا ۔ یہ بم اس بم سے دس گناہ زیادہ طاقت رکھتا تھا، جسے امریکا نے 1945ء میں جاپانی شہر ہیرو شیما پر گرایا تھا۔جوہری ہتھیاروں کو لانچ کرنا دراصل ٹی وی چینل کو تبدیل کرنے سے زیادہ پچیدہ ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں بسکٹ اور فٹ بال شامل ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس کوئی سچ مچ کا جوہری بٹن نہیں ہے۔گذشتہ سال 20جنوری کو ایک فوجی معاون سابق امریکی صدر براک اوباک کے ہمرا ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں ایک چمڑے کا بیگ لے کر گیا۔ ڈونلڈ ترمپ کے بطور امریکی صدر براک اوباما کے ہمرا ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور امریکی صدر حلف اٹھانے کے بعد وہ فوجی معاون اس چمڑے کے بیگ کے ہمراہ اس جانب چلا گیا جہاں ٹرمپ کھڑے تھے۔

چمڑے کا یہ بیگ ”دی نیوکلیئر فٹ بال“ کے نام سے مشہور ہے۔ امریکی کے جوہری ہتھیاروں کو لانچ کرنے کے اس ”جوہری فٹبال“ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگست میں ایک ماہر نے سی این این کو بتایا تھا کہ ٹرمپ گالف کھلیتے ہیں تو یہ ”دی نیوکلیئر فٹ بال“ ایک چھوٹی گاڑی میں ان کا پیچھا کرتا ہے۔ اگر عوام کبھی اس جوہری فٹبال کے اندر جھانکیں تو وہ مایوس ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ کوئی بٹن نہیں ہے اور وہاں کوئی گھڑی نہیں ہے۔

اس کے بجائے وہاں مواصلاتی آلات اور کتابیں ہیں جن میں تیار جنگی منصوبے ہوتے ہیں۔ ان منصوبوں کو فوری فیصلہ لینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ 1980ء میں وائٹ ہاؤس کے ایک سابق ڈائر یکٹر ملٹری آفیسر بل گللے نے کہا تھا کہ یہ تجویز کرتے ہیں کہ جوابی کاروائی ، کم درمیانے یا شدید درجے کی ہوگی۔ شکٹ، ایک ایسا کارڈ ہے جس میں کوڈ ہوتے ہیں۔ صدر کو ہمیشہ یہ کارڈ اپنے ساتھ رکھنا ہوتا ہے۔

یہ فٹبال سے الگ ہوتا ہے اگر امریکی صدر کو حملہ کرنے کا حکم دینا ہو تو وہ اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لئے کوڈ استعمال کرے گا۔ امریکی کا صدر بن جانے کے بعد اے بی سی نیوز نے ٹرمپ سے پوچھا کے وہ بسکٹ وصول کرنے کے بعد کیسا محسوس کرتے ہیں صدر ٹرمپ نے جواب دیا، جب وہ وضاحتکرتے ہیں کہ یہ کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے اور اس طرح کی تباہی جس کے بارے میں آپ بات کررہے ہیں یہ ایک بہت ہی ہوش مندی کا لمحہ ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ یہ بہت زیادہ خوفناک ہے ۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کے ایک فوجی معاون رابرٹ پیٹرسن نے دعویٰ کیا کہ کلنٹن نے ان کوڈز کو گم کردیا تھا ۔ ان کے مطابق کلنٹن اس بسکٹ کو اپنی پینٹ کی جیب میں اپنی کریڈٹ کارڈز کے ہمراہ ایک ربر بینڈ میں رکھتے تھے۔ رابرٹ پیٹرسن کے مطابق ایک صبح جب مونیکا لیونسکی کا سکینڈل منظر عام پر آیا تو کلنٹن نے تسلیم کیا کہ انھوں نے کچھ وقت کے لیے یہ کوڈز نہیں دیکھے تھے۔

امریکی سٹریٹیجک کمانڈ کے ایک ماہر سی رابرٹ نے کمیٹی کو بتایاکہ جیسا کہ ان کی تربیت کی گئی ہے وہ امریکی صدر کے جوہری ہتھیاروں کو لانچ کرنے کے حکم کی صرف اس صورت میں پیروی کریں گے جب وہ قانونی ہو۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا تھا کہ امریکہ کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کرسکتا، کیونکہ جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن ہر وقت اُن کی میز پر موجود ہوتا ہے۔

سال نو کے موقع پر ٹی وی پر نئے سال کے اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ پورا امریکہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی پہنچ میں ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ ھی کہا کہ یہ حقیقت ہے ، کوئی دھمکی نہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر مزید اقتصادی پابندیوں عائد کرنے کی ایک قرار داد منظور کرلی ہے ان پابندیوں کی قرار داد پر رائے شمار بائیس دسمبر کو ہوئی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی جو نئی قرار داد کی منظور کی ہے اُسے امریکا نے اپنے حلیفوں سے مشورہ کرکے تیا رکیا تھا ایسا بھی خیال کیا گیا ہے کہ امریکا نے اس قرار داد پیش کرنے سے قبل شمالی کوریا کے سب سے بڑے حلیف ملک چین سے بھی مشورہ کیا تھا۔ سلامتی کونسل میں امریکی مندوب نکی ہیلی قرار داد پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے بیرون ملک کام کرنے والے شمالی کوریائی باشندوں کی واپسی کو بھی قرار داد میں شامل کیا ہے ۔

ابتداء میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ بیرونی ممالک میں کام کرکے اپنے ملک شمالی کوریامیں مقیم خاندانوں کو رقوم بھیجنے والے ان باشندوں کو بارہ ماة یا ایک سال کے اندر اندر واپس بھیجا جائے لیکن آخری وقت پر ملک بدری کی مدت ایک سال کے بجائے دو سال کردی گئی ۔ شمالی کوریا کی فوجیں 25 جون 1950ء کو جنوبی کوریا میں داخل ہو گئی تھیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد چند دنوں بعد ہی جنوبی کوریا کے تقریباََ تمام حصے پر کمیونسٹ کوریا کی فوجیں قابض ہوچکی تھیں۔

تین سال جاری رہنے والی اس جنگ میں تقریباََ4.5 ملین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ شمالی کوریا پر یہ اقتصادی پابندیان اُس کی طرف سے جوہری ہتھیار سازی اور بیلسٹک میزائل تجربات کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے اس قرار داد کی منظور ی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔اس کے ہمسایہ ملک جنوبی کوریا نے شمالی کوریائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ اشتعال انگیزیوں کے سلسلے کو ترک کردے۔

Your Thoughts and Comments

Johri Hathyar ka Button har waqt maiz par Hota hy kim Jong is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 17 January 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.