کراچی سیوریج کا نظام درہم برہم

زمانے بدلتے جارہے ہیں مگر ہمارے ملک کا نظام کب بدلے خدا جانے ،کراچی جیسے بڑے شہر میں ہر دوسرے علاقے میں لوگ پریشان ہیں اور ان تما م کی ذ مے دار ہماری حکومت کی لاپروائی ہے۔ ہر علاقے کے گٹر اور نالوں کا برا حال ہے ان سے اٹھنے والے تعفن اور بدبو نے لوگو ں کو سخت ازیت میں مبتلا کر رکھا ہے کہیں برسات کی وجہ سے نالے بھر جاتے ہیں

بدھ جنوری

Karachi Sewerage Ka Nizaam Darham Barhaam
زمانے بدلتے جارہے ہیں مگر ہمارے ملک کا نظام کب بدلے خدا جانے ،کراچی جیسے بڑے شہر میں ہر دوسرے علاقے میں لوگ پریشان ہیں اور ان تما م کی ذ مے دار ہماری حکومت کی لاپروائی ہے۔ ہر علاقے کے گٹر اور نالوں کا برا حال ہے ان سے اٹھنے والے تعفن اور بدبو نے لوگو ں کو سخت ازیت میں مبتلا کر رکھا ہے کہیں برسات کی وجہ سے نالے بھر جاتے ہیں توکہیں ان نالوں کی وجہ سے گٹر۔

کیوں کہ سالوں سے ان کی صفائی کی طرف نگاہ اٹھانے والا کوئی نہیں ہے جب نالے صفا ئی نہ ہونے کے باعث منہ تک بھر جاتے ہیں تو پانی گٹر کے راستے باہر آنے لگتا ہے جو عوام کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ نمازیوں کو نماز کے لیے جانے میں دشواری پیش آتی ہے غلیظ پانی کے گندے چھنیٹے ان کے صا ف کپڑوں کو بھی ناپاک کر دیتے ہیں خواتین کو گھر سے نکلنے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کن مشکلات سے گھر سے باہر نکلتی ہیں وہ بیان سے باہر ہے۔

(جاری ہے)

بچے اسکولوں کے لیے گھر سے نکلتے ہیں تو اسکول پہنچنے سے پہلے ہی ان کے یونیفارم گندے ہو جاتے کیوں کہ بچے توا ٓخربچے ہیں وہ اپنی دنیا کے بادشاہ ہوتے ہیں بے دھیانی میں ان کے کپڑے گندے ہوجاتے ہیں۔ اس کا اندازہ تو صرف وہی عوام لگا سکتے ہیں جو ان مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں حکو متی نمائندے تو اس صورتحال سے بے خبر ٹھنڈی مشینوں میں بیٹھ کر ان کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔

مشکلات سے گزرتے ہیں تو صرف معصوم عوام ،جن کی آواز حکومتی اداروں اور ان کے نمائندوں تک میڈیا کی زبانی پہنچتی تو ہے مگر ان کے کانوں پر تو جیسے جوں ہی نہیں رینگتی تو پھر کون سنے گا ان کی آواز کو ،کون دور کرے گا ان کی تکلیف کو ،اب تو جیسے خواب ہی لگنے لگا ہے سب ۔ اکثرکئی علاقوں میں گٹر کے ڈھکنے نہیں ہو تے آئے دن بچے گٹر میں گر کر مر جاتے ہیں ہمارے قانون کے رکھوالے بھی یوں تو بڑے دعوے کرتے ہیں مگر ان کی موجودگی میں ہی ہیروئنچی گٹر کے ڈھکنے چرالیتے ہیں اور وہ یوں ہی تماشا دیکھتے رہ جاتے ہیں،اس کے لیے ان کے پاس کوئی قانون نہیں ہے اور اس وجہ سے کئی بچے گٹر میں گر کر مر جاتے ہیں آخر کب تک یہ سلسلہ یو ں ہی چلتا رہے گا اب تو لوگوں کے گھر بھی اس گندے بدبو دار پانی سے بچے نہیں رہے، لانڈھی انصاری ٹاون نمبر3 میں گلیو ں میں سیوریج کاپانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو رہا ہے جس سے وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں گندے پانی کی وجہ سے مچھر پیدا ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ نمونیے جیسے موضی مرض کا شکار ہو رہے ہیں اور ا پنی قیمتی جانو ں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

غلیظ پانی کی بدبو اور اس سے اٹھنے والے تعفن سے لوگو ں کا سانس لینا بھی دشوار ہو رہا ہے لوگو ں کے بیان کے مطابق پچھلے 3ماہ سے یہ پریشانی ہے تمام شکایا ت کے باوجود کسی پر بھی عمل در آمد نہیں ہو۔201 سال سے یہا ں پر کسی چیز کی کوئی ڈیمولش نہیں ہوئی 27 دسمبر کو ڈی سی سینٹرل کیپٹن فرید نے خصو صی رپورٹ میں کہا کہ حاجی مرید گوٹھ پر واقعہ گجر نالے پر ناجائز اور غیر قانونی مکانات کو مسمار کر دیا ہے تاکہ گجر نالے کا ترسیل کی کام با آسانی انجام دیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کے گجر نالہ سیوریج کی روک تھام کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ پورے کرا چی کے نالوں کا پانی اس نالے میں ا ٓکر گرتا ہے ان کے مطابق1910 میں اس کا عرض تقریباََ1022فٹ تھا اور اب اس کی چوڑائی کم ہو کر 5فٹ سے10 فٹ رہ گئی ہے۔ اب ہم اس کی چوڑائی کو ترسیل کے بعد 80 فٹ تک لے جائیں گے جس کی وجہ سے سیوریج کے مسئلے پر خاطر خواہ قابو پایا جا سکتا ہے کیوں کہ شہر کے تمام علاقوں کے گٹروں کا پانی اس گجر نالے میں گرتا ہے اس کی ترسیل کا کام جاری وساری ہے۔

دیکھتے ہیں حکومتی دعوے داروں کے دعوے کب سچے ہوتے ہیں کیا یہ سلسلہ یوں ہی چلے گا یا پھر حکومت کے کان کھڑے ہوں گے اور اس تما م صورت حال پر قابو پانے کے لیے کچھ اقدامات کرے گی بھی یا نہیں۔ تمام سیاست دانوں نے اپنی دکانیں سجا رکھی ہیں اور معصوم عوام یوں ہی پریشان ہوتے رہیں گے نئے قانون بنتے رہیں گے عوام کے سامنے آتے رہیں گے مگر ان کا کوئی فائدہ عوام کے لیئے نہیں۔

ہرنئی آنے والی حکومت عوام کو صرف دلاسے ہی دیتی ہے مگر عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہردور میں معصوم عوام بہتر حالات اور بہتر مستقبل کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔ ان کی آنکھیں کچھ نیا اچھا تلاش ہی کرتی رہ جاتی ہیں مگر پھر ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر وہ انتظار کی صولی پر لٹک جاتے ہیں ۔کہ شاید اب کوئی تبدیلی یا انقلاب آجائے یا پھر کوئی ہماری زندگی میں پیش آنے والے مسائل کو حل کرسکے اور ہمیں ان الجھنوں سے نکال سکے جن کی وجہ سے ہم سالوں سے پریشان اور بے بس ہیں۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Karachi Sewerage Ka Nizaam Darham Barhaam is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 January 2017 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.