خان سرفراز خان یونیورسٹی چکوال

میاں نواز شریف کی موٹر وے ،راجہ پرویز اشرف کی مندرہ چکوال سوہاوہ دورویہ سڑکیں۔تاج برطانیہ کی ریلوے لائن اور خان سرفراز خان کے دیئے گئے کالج کے تحفے کے علاوہ اہل چکوال کو ملا ہی کیا ہے

جمعرات فروری

Khan Sarfraz Khan university chakwal
تحریر: شوکت نواز تارڑ

میرا قلم نہیں تسبیع اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہردم حساب رکھتا ہے
ہر درخت اپنے پھل اور ہر جسم اپنے چہرے سے پہچانا جاتا ہے۔مگر میں اُن مجبوریوں کا کیاکروں جومجھے مجبورکئے ہوئے ہیں۔میں ان بے اعتنائیوں کا کیا علاج کروں جومجھے دُور کئے ہوئے ہیں۔

کہتے ہیں دنیا گول ہے مگر میں نے جدھر سے بھی دیکھا دنیامطلبی ہی نظر آئی ۔ہم بے بس نہیں بے حس ہیں۔ ٹھہرے رہنے سے وقت نہیں رُکتے ۔رُکے رہنے سے فاصلے نہیں کٹتے؟حالات بدلنے کے لئے ذہن بدلنے پڑتے ہیں۔
ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب
توبہ توبہ خدا خدا کیجئے
ہم جوہوتے ہیں وہ چھپاتے ہیں۔

(جاری ہے)

جو دکھاتے ہیں وہ ہوتے نہیں؟جس نیت سے طوائف برقع پہنتی ہے اسی نیت سے کئی داڑھی رکھ لیتے ہیں؟یہ سب کچھ منافقت نہیں تو کیا ہے؟ گھٹن اور بلاجوازقدغن نے شعور کو زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے ۔

گر شعور پہ پہرے نہ ہوتے توآج ہم بے بسی کی تصویر نہ ہوتے ۔سب کو ایک سا بنانے کی خواہش رکھنے والے یک رنگ چڑیوں اور ایک جیسے کوؤں کو کیوں نہیں دیکھتے؟منٹو کہتے ہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ زندگی کتوں والی گزار کر حساب انسانوں والا دینا ہوگا۔
شکوہ ظلمت ِشب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کیاشہر کے دل میں سینکڑوں کنال اراضی اور ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت دے کر اس عظیم درسگاہ کی بنیاد رکھنے والے خان سرفراز خان کی عزت افزائی اہل چکوال پہ قرض نہیں؟کیاحق کا حق یہ نہیں ہوتاکہ اسے حقدار کی طرف لوٹا دیا جائے ؟تاکہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اہل چکوال احسان فراموش ہیں۔

اس درسگاہ سے کتنی ماؤں کے کتنے لخت ِجگر سیراب ہوئے؟۔کتنی ماؤں کے فرزند جرنیلی ، کرنیلی کے منصب پر سرفراز ہوئے۔کتنے گھروں کے چراغ جج بنے۔کتنے نامور وکلا کہلائے ۔کتنے مایہ ناز ڈاکٹر اور کتنے نامور سپوت درخشاں ستارے بن کے ابھرے۔عظیم قومیں اپنے ہیروز کو کبھی نہیں بھولتیں۔گر یہ درسگاہ بچوں کو اعلی تعلیمی سہولتیں فراہم نہ کرتی تو کتنے گوہر گراں مایہ گمنامی کے اندھیروں میں کھوجاتے۔

کتنے شعورکسمپرسی کے ہاتھوں پسماندہ رہ جاتے؟
قطع کیجئے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
وہ شہر جو آج شرح خواندگی میں پنجاب بھر میں پہلے نمبروں پر ہے اسکا باعث کون تھا؟راجہ یاسر سرفراز کے انداز سیاست سے اختلاف اپنی جگہ ۔لیکن راجہ صاحب کی تعلیمی خدمات سے انکار ممکن نہیں ۔راجہ یاسرفراز کی انتھک کاوش پہ خراج تحسین پیش کرنے کو دل چاہتا ہے ۔

مگرانتہائی دکھ ہوتا ہے کہ جب اس عظیم منصوبے پر طالب علموں کے ذریعے سیاست چمکائی جاتی ہے۔گرمیاں نواز شریف کے نام پر ہسپتال ہوسکتے ہیں؟ بے نظیر بھٹو کے نام پہ ائیرپورٹ اور اسپتالوں اور شہروں کے نام رکھے جاسکتے ہیں؟ باچا خان کے نام پہ اداروں کے نام رکھے جاسکتے ہیں؟توکیا یہ ہمارا فرض نہیں بنتا ؟کیا یہ خان سرفراز خان کا حق نہیں بنتا؟کہ اس یونیورسٹی کو خان سرفرازخان یونیورسٹی کے نام سے منسوب کردیا جائے۔

غیرتمند ہمیشہ محسن کے احسا ن مند رہتے ہیں۔
اسکی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
جوقومیں اپنے ہیروز کی قدر کرتی ہیں وہی قومیں عظیم قومیں کہلاتی ہیں ۔قیام پاکستان کے وقت ملک کی معاشی حالت انتہائی خستہ تھی ۔چکوال کا محل وقوع دور افتادہ ہونے کے ساتھ ساتھ معروضی حالات بے حد پسماندہ تھے ۔

سوائے ریلوے کے پکی سڑک بھی موجود نہ تھی۔ایسے میں چکوال کے باسیوں کیلئے تعلیمی ادارے کا قیام بڑے جوکھوں کا کام تھا۔خان صاحب نے نا صرف زمین عطیہ کی بلکہ عمارت کی تعمیر کیلئے ایک لاکھ نقد بھی مرحمت فرمائے ۔یہ تعلیم دوستی کی عمدہ مثال تھی۔
قرب کے نا وفا کے ہوتے ہیں 
جھگڑے سارے انا کے ہوتے ہیں
میاں نواز شریف کی موٹر وے ،راجہ پرویز اشرف کی مندرہ چکوال سوہاوہ دورویہ سڑکیں۔

تاج برطانیہ کی ریلوے لائن اور خان سرفراز خان کے دیئے گئے کالج کے تحفے کے علاوہ اہل چکوال کو ملا ہی کیا ہے ۔سکھ سرداروں کے بنائے گئے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱اور ہوسٹل چکوال کے ماتھے کاجھومر تھے۔لیکن ہم نے محسنوں کے ساتھ ان کے احسان بھی بھلا دئیے ۔انکی خوبصورت یادیں بھی مسمار کر دیں۔آج ریلوے اسٹیشن بھی اپنی بے بسی پہ ماتم کررہا ہے۔ آج ہمارے پاس سنہری موقعہ ہے کہ ہم خان سرفراز خان کے مان کو ٹوٹنے نہ دیں۔ خان صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کایہی معتبر طریقہ ہے کہ ان کی یادگار کو انہی کے نام سے منسوب کردیا جائے ۔
ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے
حال جیسا بھی ہے لوگوں کو سناؤں کیسے

Your Thoughts and Comments

Khan Sarfraz Khan university chakwal is a Educational Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 27 February 2020 and is famous in Educational Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.