خوش قسمتی کی دستک

آج معاشرے میں جس قدر انسانوں کی تقسیم کر دی ہے ،صرف اور صرف معاشرتی رتبوں کی بنا پر۔ کوئی افسر ہے تو کوئی چپڑاسی اور اسی طرح انسان کے لئے اپنے جذبات کی تقسیم کر دی گئی ہے مگر ہم یہ سمجھتے نہیں کہ تقسیم ہمیشہ مزید تقسیم کو جنم دیتی ہے جو اصل چیز کو ختم کردیتی ہے

Asma tariq اسماء طارق پیر فروری

khush qismati ke dastak
 سیاسی بحران بڑھ رہا ہے جو ملک و قوم کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش میں ہے ۔ اور کسی کو کچھ فرق پڑنا ہے یا نہیں مگر عام آدمی کی زندگی مزید تلخ ضرور بن جانی ہے۔ مہنگائی میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے جس سے زندگیاں تلخ بن رہی ہیں اور لوگ پریشان ہیں مگر امید کی جاتی ہے کہ آنے والے سالوں میں کچھ بہتری آئے اور خوشحالی ہمارے مقدروں کا بھی حصہ بنے۔

پاکستان میں حکمرانوں کی ناچاقیوں کی وجہ سے ملکی حالات مزید خراب ہو رہے ہیں اور ہر کوئی حالات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرا رہا ہے اور خود کو بری الذمہ قرار دے رہا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ہمیں کام کرنے نہیں دے رہی ہے اور حکومت کا کوئی کام مکمل ہونے نہیں دے رہا۔ اپوزیشن کا شور ہے حکومت احتساب کے عمل سے انتقام لے رہی ہے جو بھی ہو ایک بات تو طے ہے اب اس عمل کو روکنا نہیں چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ اونٹ کس ڈگر بیٹھتا ہے۔

(جاری ہے)

عوام کو اس قصے سے دور ہی رہنا چاہیے۔ کسی سرگرمی کا حصہ نا بنتے ہوئے اپنے کام دھندے پر توجہ دینی چاہیے۔ اللہ اللہ کرکے کہ لاکھوں لوگوں اور فوج کی بیشمار قربانیوں کے بعد ملک میں امن قائم ہوا ہے۔ اب اس امن کو قائم رہنا چاہیے اور اس کے لیے ہم سب کو مل کر کوششیں کرنی ہیں۔تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہے، اور فساد کا باعث بننے والی تمام چیزوں سے دور رہنا ہے، فرقے بندیوں سے خود کو دور رکھنا ہے، اپنی رائے کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کی رائے کا بھی اخترام کرنا ہے، کسی بھی عمل کو انجام دینے سے پہلے اس کی سچائی کا علم لینا ہے۔

 
اس سال شکر گزاری کو اپنی عادت بنا کر خوش قسمتی کو اپنے دروازے پر دستک دینے کی دعوت دیں۔ کیوں شکر گزاری ہے خوش قسمتی کی گنجی ہے ۔فرمایا گیا : جو جتنی شکرگزاری کرے گا اسے اتنا ہی دیا جائے گا اس لیے شکر واجب ہے۔ زندگی میں ہر چیز کی اہمیت ہے ایسے ہی جذبات ہیں۔وہ جذبہ محبت ہو یا نفرت ،لڑائی ہو یا صلح ،غضہ ہو یا پیار ، ہمدردی ہو یا سخت دلی۔

ان جذبات کا درست اور بروقت استعمال ہی انسان کو انسان کی معراج پر قائم رکھتا ہے ۔نرم دلی اور ہمدردی ہی انسان کو انسان رہنے دیتی ہے۔ بہت سی ناخدائی کا وجود اسی ہمدردی کے عدم موجودگی کی وجہ سے ہے۔
آج معاشرے میں جس قدر انسانوں کی تقسیم کر دی ہے ،کیٹگریز بنا دی گئی ہیں صرف اور صرف معاشرتی رتبوں کی بنا پر۔ کوئی افسر ہے تو کوئی چپڑاسی اور اسی طرح انسان کے لئے اپنے جذبات کی تقسیم کر دی گئی ہے مگر ہم یہ سمجھتے نہیں کہ تقسیم ہمیشہ مزید تقسیم کو جنم دیتی ہے جو اصل چیز کو ختم کردیتی ہے۔

اس کے معاشرتی مقام و رتبے کو دیکھ کر اس کے لیے جذبات اور رویوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔لوگ خود سے اونچے طبقے کے لوگوں کو عزت و احترام سے نوازتے نہیں تھکتے اور ڈرتے ہیں کہ یہ اونچے لوگ ان کی تذلیل نا کر دیں مگر یہی لوگ خود سے نچلے طبقے کے لوگوں کو انسان نہیں سمجھتے اور ان کی تذلیل کے عمل سے باز نہیں آتے۔اس وقت معاشرے میں عجب صورتحال ہے ہر کوئی اپنی عزت و وقار کو بچانے میں مصروف ہے مگر اس کے باوجود وہ دوسروں کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

خیر یہاں تذکرہ یہ ہے کہ نرم دلی اور ہمدردی کا ہے تو اگر انسان میں یہ احساس نا ہو تو وہ خود کو انسانیت کے درجے سے گرا لیتا ہے اور اپنے اصل سے کٹ جاتا ہے۔ دل میں ہمدردی ہونا بھی ایک نعمت ہے جس کا شکر واجب ہے۔
انسان دنیا کی کسی بھی چیز کا مالک کیوں نہ بن جائے مگر وہ ہمدردی اور محبت کے جذبے کے بغیر کوئی تعلق قائم نہیں رکھ سکتا۔ وہ کتنی بھی بلندیوں کا مالک کیوں نہ بن جائے مگر وہ اس جذبہ کے بغیر کسی کے دل میں گھر نہیں کر سکتا۔

انسان ہمدردی اور محبت کا طالب ہے اور اس لیے لازم ہے کہ وہ یہ جذبہ دوسروں کے لیے بھی محسوس کرے۔اس لیے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے اگر یہ جذبہ آپ کے دل میں موجود ہے۔
ڈھونڈنیوالا ستاروں کی گزرگاہوں کا 
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا 
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا 
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

khush qismati ke dastak is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 February 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.