"میں اور عید"

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم بچوں کی عید کی خوشیاں نئے کپڑوں اور کسی بیری کے درخت کی باہر کو نکلی نسبتآ سیدھی اور مضبوط شاخ پر رسی سے ڈلے جھولے، اپنے ہاتھوں نقلی پستول بمعہ لکڑی کے کارتوس اور نکتی بوندی کی خریداری سے مشروط ہوا کرتی تھیں۔

جمعرات فروری

Main Aur Eid
ارشد محمود:
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم بچوں کی عید کی خوشیاں نئے کپڑوں اور کسی بیری کے درخت کی باہر کو نکلی نسبتآ سیدھی اور مضبوط شاخ پر رسی سے ڈلے جھولے، اپنے ہاتھوں نقلی پستول بمعہ لکڑی کے کارتوس اور نکتی بوندی کی خریداری سے مشروط ہوا کرتی تھیں۔ تب گاوٴں میں بجلی آئی تھی نہ ٹی وی۔ اشیاء ضروریات کی قلت نے گاوٴں کے لوگوں کو ایک دوسرے سے بہت کَس کے باندھ رکھا تھا۔

صبح کا آغاز نسبتآ سَوکھے گھرانے کے چولہے میں جلتی آگ سے انگارہ لینے جیسے سوشل انٹرایکشن سے ہوتا۔ جن گھروں میں لیاری (دودھ دینے والی گائے بھینس کو لیاری کہتے ہیں) نہ ہوتی وہ لیاری والے گھروں سے چائے اور شیر خوار بچوں کے لیے ایک پاوٴ سے آدھا کلو دودھ لینے جاتے اور رات بھر کے احوال کا تبادلہ کر لیتے۔

(جاری ہے)

کپڑوں کی سلائی کے لیے تب پیسے دینے کا رواج نہ تھا۔

مردانہ کپڑے سیپ (فصل پر سالانہ گندم کے دانوں کی ایک مخصوص مقدار) پر درزی سے سلائی اور عورتوں اور بچوں کے کپڑوں کی سلائی کسی ہنر مند باجی یا خالہ سے کرائی جاتی اور عوضانے کے طور پر اس کے گھر کا کام کاج کر دیا جاتا یا اس کے لیے تحفةََ ساگ یا گھر میں پکا کوئی سالن لے جایا جاتا۔
امی جی بھی ہمارے محلہ کی وہ باجی خالہ تھیں جو لڑکیوں کو سلائی کڑھائی سکھاتیں اور ساتھ ہی ان کے کپڑوں کی اپنے ہاتھوں ناپ پر کاٹ دیتیں۔

پھر عید کے قریب صحن میں لگے دھریک کے درخت کے نیچے محلہ کی عورتوں کا بلا ناغہ اکٹھ ہوتا۔ کچھ کپڑے سلائی کر رہی ہوتیں، کچھ۔ عید کے لیے آٹا گوندھ کے اس میں مختلف رنگوں کی آمیزش سے رنگدار سوئیاں نکال رہی ہوتیں، کچھ دال میں مصالحہ جات مکس کر کے "وڑیاں" بناتیں۔
چھوٹی عید کے قریب بڑے خوابوں میں لت پت مجھ پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ محلہ بھر کے بچوں کے نئے کپڑے سل رہے ہیں اور میرے کپڑے نہیں لائے گئے۔

اس لیے مجھے پرانے کپڑے پہننا پڑیں گے۔ یہ خبر کچھ اتنے سسپینس سے لیک کی گئی کہ میرا عید کی خوشیوں پر بہت فوکسڈ دماغ کسی اور پہلو پر سوچ ہی نہیں سکا۔ میں نے ایک لمحہ میں صورتحال کا جائزہ لیا اور اس خبر پر خوش ہونے والی خواتین اور ان کے کھلکھلاتے بچوں سے انتقام کا پروگرام بنا لیا۔
کیونکہ شام تک سلے ان سلے کپڑوں کی اچھی خاصی تعداد سلائی مشین کے آس پاس کپڑوں والی پیٹی پر اگلے روز کے لیے رکھ دی جاتی، جو کہ آج رات مجھے بھری سردیوں میں جلانے کے لیے کافی تھی۔

میں چارپائی پر لحاف میں دل ہی دل میں سب کو سبق سکھانے کے منصوبے بناتا رہا۔ نہ جانے کس وقت آنکھ لگی اور صبح صادق کو دادی جان کی چکی چلانے کی آواز کے ساتھ کھل گئی۔ امی جی نماز کے بعد کمرے سے باہر چولہے پر چائے اور رات کے بچی روٹیوں کو گھی لگا کر ناشتہ کے لیے گرم کر رہی تھیں۔ کمرہ میں ابھی اندھیرا تھا اس لیے لالٹین جل رہی تھی۔ لالٹین کی روشنی نے میرے زرخیز ذہن میں انتقامی کارروائی روشن کر دی۔

اگلے لمحے میں سرو کانا ہاتھ میں لیے لالٹین کا شیشہ اونچا کر کے اسے جلا چکا تھا۔ جب کانے نے اچھی طرح آگ پکڑ لی تو اگلی باری سلائی مشین کے ارد گرد پڑے کپڑوں کی تھی، جنہیں متوقع پہننے والوں کے چہروں پر دن کے شرارت بھرے تاثرات اور کارروائی کے بعد تاسف بھرے احساسات سے حسد و لطف کشید کرتے جذبات کے ساتھ بھسم ہوتا دیکھا کیا۔ آگ کے اچھی طرح روشن ہونے کے ساتھ ہی پکڑے جانے کا ڈر نہ جانے کہاں سے آن وارد ہوا۔

اور میں نے موقع واردات سے لحاف کے اندر محفوظ پناہ گاہ کی طرف دوڑ لگا دی۔ جب تک دادی جان اگلی کوٹھڑی سے دھوئیں اور روشنی کو دیکھ کر شور مچاتیں میں لحاف کے اندر آگ سے چند فٹ کے فاصلہ پر ایسے بے سدھ پڑا تھا جیسے مردہ۔
امی اور قریبی محلہ والوں کی بروقت کارروائی سے آگ پر تو قابو پا لیا گیا لیکن کپڑوں کی ایک بڑی تعداد جل چکی تھی۔ ریسکیو کے بعد امی کی جاسوسانہ حس نے لحاف میں پناہ لیتے وقت ادھ بجے کانے کو دیکھ لیا۔

اور اپنی چلم کی نڑی سے لحاف کے اوپر سے میری خوب مالش کی۔ نہ جانے مار کا ڈر تھا یا انتقام کی تکمیل کی خوشی، مجھے اس مار کا ذرا سا بھی درد نہ ہوا۔ یا شاید ماں کی مامتا غصہ میں بھی لحاف کو پیٹ رہی تھی۔
اس عید پر میرے علاوہ محلہ کے کافی بچے پرانے کپڑوں میں عید کرتے اگر امی جی ہنگامی بنیادوں پر ایک دو قریبی سہیلیوں کی مدد سے دن رات ایک کر کے دوبارہ کپڑے خرید کے سی نہ دیتیں تو۔

Your Thoughts and Comments

Main Aur Eid is a khaas article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 February 2017 and is famous in khaas category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.