میرپور معصومہ سے درندگی ۔۔۔ معاشرے اور اداروں کی ناکامی

ملزمان نے بارہ سالہ بچی کوبہلا پھسلا اور دھمکیوں کے ذریعے زیادتیوں کا نشانہ بناتے ہوئے حاملہ کر دیا، یہ ہمارے معاشرے کی سب سے ستم رسیدہ ماں کی بیٹی ہے، جسکی ماں گھروں میں صفائی کپڑے برتن دھوکر دووقت کی روٹی خود اور اس بچی کو کھلاتی ہے اسطرح کے ستم رسیدہ مجبور بے کس افراد انکے بچوں کو انکی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ظلم و درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے

طاہر احمد فاروقی ہفتہ 27 جولائی 2019

mirpur masooma se darindagi, muashray aur idaron ki nakami
آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ شریعت ٹریبونل بینچ نے بارہ سالہ بچی کے ساتھ درندگی کرنے والے دو ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرتے ہوئے گرفتار کرادیا ہے، ان ملزمان نے بارہ سالہ بچی کوبہلا پھسلا اور دھمکیوں کے ذریعے زیادتیوں کا نشانہ بناتے ہوئے حاملہ کر دیا، یہ ہمارے معاشرے کی سب سے ستم رسیدہ ماں کی بیٹی ہے، جسکی ماں گھروں میں صفائی کپڑے برتن دھوکر دووقت کی روٹی خود اور اس بچی کو کھلاتی ہے اسطرح کے ستم رسیدہ مجبور بے کس افراد انکے بچوں کو انکی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ظلم و درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور نظام نہیں بلکہ نظام کو اپنے پنجہ استبداد میں جکڑ ے شیطان نماء انسا ن ناصرف ظلم کرتے ہیں بلکہ ظلم کے شکار مظلوموں کا جینا عذاب بنا دیئے ہیں۔


اس کیس میں ناصرف بچی کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس کی آواز کو دباتے ہوئے پی ڈی ایس پی کے کمزور ربنائے کیس قاضی عدالت میں مصلحت کے ہاتھوں ضمانت کے نام پر رہا کر دیا گیا کہ کمزور ناتواں باپ کو ڈرا دھمکا کر سمجھوتہ کے نام پر شیطانی طاقت کا زور دکھایا گیا، مگر اس بچی کی ماں کو کروڑوں بار سلام و خراج تحسین ہے جس نے ہمت نہیں ہاری، جسکے نتیجہ میں ہائی کورٹ شریعت ٹریبونل بینچ کے سامنے کیس کھل گیا، جسٹس چوہدری منیر نے نچلی عدالت کے ضمانت کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے ان ملزمان کو گرفتار کر ا دیا ہے، تیسراملزم کریمنل کورٹ میں اپنا کیس زیر کارروائی ہونے کے باعث باہر ہے ناصرف جسٹس منیر بلکہ ایڈووکیٹ جنرل کے ڈی خان کا کردار انکے احساس کے جذبے کی سلامتی کا گہوارہ ہے۔

(جاری ہے)

 نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ اس ماں کیطرف سے ماں ہونے کا فریضہ نبھا رہی ہیں، تاہم یہ کیس اور اس سے پہلے بہت سارے ایسے مقدمات میں ملزمان کو پولیس کے دباؤ کا شکار طرز عمل ماتحت عدلیہ کے کمزور فیصلے کیوں وقوع پذیر ہوئے ہیں یہ المیہ ہے جو بہت سی خوبیوں والے معاشرے پر کلنگ کا داغ ہے اگرچہ یہ عوام کے شعورکا کریڈٹ ہے کہ یہاں جرائم وباء کیطرح نہیں ہیں نہ کہ بجٹ سے مراعات یافتہ عناصر کا اس میں عمل دخل ہے مگر رب کریم کی مقدس ہستیوں کیطرح معصوم بچوں کے ساتھ درندگی پر معاشرے کا بیدار کردار قابل فخر ہونا چاہیے۔

مظفرآباد ایک ایک معصوم طالبہ کے اغواء ہونے پر سارے شہر نے باہر نکل کر عظمتوں کا باب رقم کیا تھا اب یہ شعور جذبہ پھر چاہیے کیونکہ خطہ کے مزاج سرکاری سطح پر ایسا ساری مشینری میں داخل ہو چکا ہے قصور قانون نہیں دیکھتا بلکہ چہرے دیکھے جاتے ہیں ،برادری علاقہ اور تعلق اثر رسوخ آئین قانون کا درجہ رکھتے ہیں، جو ہر معاملے اور سطح پر یہ عذاب بنتا جارہا ہے ناموں کے لاحقے عزت کردار کی نگہبانی کے بجائے، ذلالت ظلم کی پشت بانی ہوتے جارہے ہیں، یہی اس بچی اور اس جیسی دیگر مظلوموں کو انصاف دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،جسکی درندگی کا شکارناصرف جنسی بلکہ انصاف میرٹ حقوق کے حوالے سے محروم کمزور طبقات کو مریض بنا چکی ہے۔

 ان مظلوموں کی کوئی برادری علاقہ نہیں ہوتا مگر ان ناموں پر یہ بیوقوف بن کر ظلم کو سینے سے لگاتے چلے آرہے ہیں،اور ظالموں کے پشت بانی ہر ہر جماعت ادارے شعبہ مکاتب فکر میں منظم نیٹ ورک بنائے موجود ہیں جو اپنے ناجائز کاموں کیلئے جماعت برادری، علاقہ رنگ ونسل کے نام پر ان کو تحفظ دیتے ہیں، محض بہت ہی مجبوری ہو جائے تو بیان دیکر دکھاوا کیا جاتا ہے، ورنہ تعلیمات اسلامی یا کسی قانون میں کہاں لکھا ہے کہ پہلے کو کھڑپینچ سے تعلق دیکھا جائے ذات برادری جماعت علاقہ دو لت،ا ختیا ر بدمعاشی کو سامنے رکھ کر پوچھا جائے، اور پھر نام نہاد پرچے انکی آڑ میں دولت خوشنودی کا حصول مذہب بنا لیا جائے اس کیس میں بھی ایسا ہوا ہے جن میں کمزوری دکھانے والوں کو نشان عبرت بنا یا چاہیے یہ تو بھلا ہوا سکی ماں اور جسٹس منیر کے ڈی کے ڈی خان نبیلہ ایوب کا اسکا سہارا بنے ہیں اور انسپکٹر جنرل پولیس اولیاء سے محبت رکھنے والے ہیں وہ اسطرف خصوصی توجہ دیں اس بچی کی حاملہ صورت اور بچے کی پیدائش ڈی این اے ظالموں کو نشان عبرت بنانے کی امید ہے اسی بچی او ر اسکی ماں کو تحفظ دیں ورنہ ظالم انکا گلہ بند کرنے کے درپہ ہیں، نیز چیف جسٹس صاحبان اور آئی جی پی کم ازکم ماتحت عدلیہ اور پولیس کے آفیسران کو چاروں صوبوں اور چاروں صوبوں کے آفیسران کو یہاں تبادلہ کر کے نظام کو درست کریں ورنہ یہ سلسلہ چلتا رہا تو پھر نہ جانے کب آتش فشاں بن کر برباد کر دے۔

 

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

mirpur masooma se darindagi, muashray aur idaron ki nakami is a social article, and listed in the articles section of the site. It was published on 27 July 2019 and is famous in social category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.