ایم ایل ون پراجیکٹ‘اعظم سواتی کیلئے بڑا چیلنج

سیاسی بحران اور بھارتی جنگی محاذ آرائی نے ترقیاتی منصوبے کھٹائی میں ڈال دئیے

بدھ جنوری

ML1 project - azam swati k liye bara challange
راؤ محمد شاہد اقبال
سچ تو یہ ہے کہ ریل گاڑی،انجن اور درجن بھر ڈبے اپنے ہمراہ لے کر چلنے والی جدید دنیا کی ایک عام سی سواری سے بڑھ کر بھی بہت کچھ ہے مگر یہ بات شاید وہ عاقبت نا اندیش افراد سمجھ ہی نہیں سکتے جن کے نزدیک ریل گاڑی ہمیشہ سے فقط ایک سستی اور عوامی سواری سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں رہی ہے۔عام مشاہدہ ہے کہ ایسے ہی افراد کے ”دست انتقام“ میں جب ریل گاڑی کی انتظامی باگ دور تھما دی جاتی ہے تو پھر وہ ہی حال ہوتا جو اس وقت پاکستان ریلوے کا ہو چکا ہے یعنی ریل گاڑی پٹری پر چلتی کم ہے اور پٹری سے اترتی زیادہ ہے۔

پاکستان میں ریل گاڑی کو محفوظ ترین سواری سے ایک پُر خطر سواری بنانے میں سب سے زیادہ کردار ان وزیروں کا رہا ہے جن کی وجہ شہرت ایک ”ٹرانسپورٹر“ کی تھی لیکن نیرنگی سیاست دوراں نے انہیں کسی”سیاسی حادثہ“ میں وزارت ریلوے عطا کر دی تھی خاص طور پر غلام احمد بلور نے تو وزیر ریلوے کے منصب پر فائز ہو کر ریل گاڑی کی خواب ناک سواری کو خوف ناک سواری بنانے میں اپنی طرف سے کوئی کسر ہی نہ اٹھا رکھی تھی،وہ تو عین دم آخری ،ریل گاڑی کے سفر سے عشق کرنے والے چند نیک لوگوں کی دعائیں قبول ہوئیں اور قسمت نے ریل گاڑی پر ایسی یاوری کی کہ غلام احمد بلور انتخابات میں شکست کھا کر اپنے گھر کے ہو رہے اور پاکستان ریلوے نزاعی حالت میں ہی سہی بہرکیف خواجہ سعد رفیق کی”انتظامی پناہ“ میں آگئی۔

(جاری ہے)


آپ خواجہ سعد رفیق کی سیاست سے لاکھ اختلاف کریں مگر آج پاکستان میں جو ریل گاڑی پٹری پر چلتی نظر آرہی ہے بلاشبہ وہ انہی کی شبانہ روز محنت کی ہی مرہون منت ہے۔ویسے تو حال ہی میں وزارت ریلوے سے سبکدوش ہونے والے وزیر شیخ رشید نے بھی ریل گاڑی کو پٹری پر ”سبک رفتار“ رکھنے کی بھرپور کوشش کی مگر موصوف اپنی فطری عجلت پسندی میں مسافر بردار 100 ریل گاڑیاں ایک ہی وقت میں چلانے کے جنون میں ایسے مبتلا ہوئے کہ وہ بھول ہی گئے کہ مسافر بردار ریل گاڑی نہیں بلکہ مال بردار ریل گاڑی کما کر دیتی ہے۔

شیخ جی !نے مسافر ریل گاڑی تو جوق درجوق خوب چلائیں،مگر مال بردار ریل گاڑیوں کو پٹری پر رواں دواں رکھنے میں وہ اتنا کامیاب نہ ہو سکے جیسا کہ ان سے توقع کی جا رہی تھی خاص طور پر ان کے دور وزارت میں آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس کا مسلسل ایک سال تک معطل رہنا ایک ایسا قومی نقصان ہے جس کی تلافی کرنے میں شاید برسوں لگیں ،واضح رہے کہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس سے مراد وہ ریل سروس ہے جو اسلام آباد،تہران اور استنبول کے مابین 2009ء میں شروع کی گئی تھی۔


آئی ٹی آئی اصل میں اسلام آباد،تہران اور استنبول کی مخفف ہے یعنی آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس سے پاکستان،ایران اور ترکی کے درمیان بذریعہ ریل تجارتی روابط استوار ہو سکتے ہیں جبکہ اسی مال بردار ٹرین سروس نے مستقبل قریب میں چین اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں تک بھی پہنچنا ہے،اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان ریلوے کے نئے وزیر باتدبیر اعظم سواتی نے اپنی وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلی جو خوش کن خبر سنائی ہے وہ یہی ہے کہ پاکستان،ترکی اور ایران نے اسلام آباد سے تہران اور پھر استنبول تک ایک بار پھر سے آئی ٹی آئی کنٹینر ریل سروس بحال کرنے پر کامل اتفاق کر لیا ہے جس کے بعد اس بین الاقوامی ریل سروس کے 2021 ء کی پہلی سہ ماہی میں باقاعدگی کے ساتھ چلنے کے امکانات انتہائی روشن ہو گئے ہیں اچھی طرح سے ذہن نشین رہے کہ پاکستان اور ترکی کے مابین ریل گاڑی چلانے کی اولین کوشش 1960ء میں کی گئی تھی،اس وقت اس ٹرین سروس کو ”آر سی ڈی ٹرین“ کا نام دیا گیا تھا،مگر بد قسمتی سے کچھ ترکی میں اچانک سے پیدا ہونے والے بحرانی سیاسی حالات اور کچھ بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگلی محاذ آرائی نے اس عظیم الشان منصوبے کو کھٹائی میں ڈال دیا اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دوسری کوشش 1985 ء میں اس وقت کی گئی جب پاکستان اور ترکی کے مابین اکنامک کو آپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) کا قیام عمل میں آیا۔

ای سی او تنظیم کے تحت اس ٹرین سروس کا نام”ای سی او ٹرین“رکھ دیا گیا مگر نام کی تبدیلی اور ای سی او اتحاد،دونوں مل کر بھی بین الاقوامی ریل گاڑی کاغذی منصوبے کو عملی منصوبے میں بدل نہ سکے بالآخر 2009ء میں پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری، ایران کے صدر احمدی نژاد اور ترکی کے صدر عبداللہ گل کی باہمی دلچسپی نے ماضی کے اس عظیم الشان منصوبے کو ”گولڈ ٹرین سروس“ کے نام سے پٹری پر چڑھا ہی دیا گیا اور یوں اسلام آباد،ایران اور ترکی کے درمیان رک رک کر ہی سہی بہرحال مال بردار ریل گاڑی چلنے لگی۔


2009ء میں شروع ہونے والی”گولڈ ٹرین سروس“ میں سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ طے کیے گئے روٹ کے مطابق یہ مال بردار ریل گاڑی اسلام آباد سے لاہور اور سکھر کے راستے سے گزرتی ہوئی کوئٹہ پہنچی تھی جہاں سے آگے یہ ریل گاڑی بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان سے ہوتی ہوئی ایران کے سرحدی شہر زاہدان تک پہنچ کر رک جاتی تھی اور یہاں پاکستانی ریل گاڑی کا سفر اختتام پذیر ہو جاتا تھا کیونکہ زاہدان سے استنبول تک جو ریل کی پٹری بچھی ہوئی ہے وہ جدید اور یورپین ساختہ ہے لہٰذا اس پٹری پر پاکستانی ریل گاڑی چل ہی نہیں سکتی تھی پس اس لئے زاہدان کے مقام پر ایرانی حکام پاکستانی ٹرین سے تجارتی سامان اتار کر اپنی ریل گاڑی میں منتقل کر دیتے تھے پھر ایرانی ریل گاڑی وہاں سے استنبول تک کا سفر کرتی تھی تاہم گزشتہ برس یہ طے پایا کہ پاکستان اپنے ریلوے نظام کو بھی اَپ گریڈ کرے گا۔

پاکستان ریلوے کی فوری اور جدید ترین اَپ گریڈیشن کے لئے چین نے پاکستان ریلوے کے لئے ایم ایل ون منصوبہ متعارف کروا کر اسے سی پیک کا لازمی جز بنا دیا۔ایم ایل ون منصوبہ کے مکمل ہونے کے بعد پاکستانی ریل گاڑی صرف استنبول تک ہی نہیں بلکہ کہیں آگے تک بھی سفر کرنے کے قابل ہو جائے گی ۔
یاد رہے کہ سی پیک میں شمولیت کے بعد اس عظیم الشان منصوبے کا نام اب”آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین“ رکھ دیا گیا ہے لیکن آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کو ایک بین الاقوامی مال بردار ریل گاڑی میں تبدیل کرنے کے لئے ازحد ضروری ہے کہ پاکستان ریلوے کی بحالی کے لئے شروع کئے گئے چین اور پاکستان کا مشترکہ ایم ایل ون منصوبہ جلد از جلد مکمل کر لیا جائے۔

کیونکہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کی کامیابی کے لئے ر فتار سب سے فیصلہ کن کردار کی حامل ہو گی۔خدا نخواستہ اگر یہ ٹرین سمندری جہاز کے مقابلے میں اپنی منزل مقصود پر قدرے تاخیر سے پہنچتی ہے تو پھر اس منصوبہ کی تمام تر افادیت ختم ہو کر رہ جائے گی۔یاد رہے کہ ایک سمندری جہاز کو پاکستان سے استنبول تک پہنچنے میں کم و بیش 22 سے 24 دن لگ جاتے ہیں مگر آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین یہ فاصلہ 7 سے 10 ایام میں مکمل کر سکتی ہے لیکن تب جب یہ مال بردار ریل گاڑی اپنی اُسی رفتار سے سفر کرے جو اس کے لئے مقرر کی گئی ہے اور مقررہ رفتار میں آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین چلانے کے لئے پاکستان ریلوے میں تکنیکی نوعیت کی انقلابی تبدیلیاں کرنے کی شدید ضرورت ہے۔


پاکستان ریلوے کے نئے نویلے وزیر سواتی کے لئے یہ ہی سب سے بڑا چیلنج ہو گا کہ آیا وہ ایم ایل ون منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کروا پاتے ہیں یا نہیں؟،نیز یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ وہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کی راہ میں حائل دیگر تکنیکی اور انتظامی رکاوٹوں کو کس طرح سے دور کرتے ہیں؟ کیونکہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کو چلانا مسئلہ نہیں ہے بلکہ تیز رفتار کے ساتھ چلانا ایک بڑا چیلنج ضرور ہو گا اگر پاکستان یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر یقینی سی بات ہے کہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین کا دائرہ سفر فقط ترکی اور ایران تک محدود نہیں رہے گا کیونکہ ون روڈ،ون بیلٹ منصوبے کے تناظر میں اس مال بردار ریل گاڑی نے گوادر سے گزرتے ہوئے افغانستان،روس،یورپ اور وسطی ایشیائی ممالک تک بھی جانا ہے دوسری جانب آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس کے ذریعے تجارتی مال درآمد اور برآمد کرنے کے اخراجات سمندری جہاز کے مقابلے میں انتہائی ارزاں ہوں گے جبکہ قلیل مدت میں سامان یورپ کی تجارتی منڈیوں تک بھی با آسانی پہنچایا جا سکے گا۔

یورپی ممالک پاکستان سے اپنی چاول،چمڑا،یوریا کھاد اور اسکریپ وغیرہ کی ضرورت پوری کر سکیں گے جبکہ پاکستان یورپی ممالک سے سینیٹری اشیاء،ٹائلز اور ہارڈ ویئرز کا سستا سامان منگوا کر اپنا قیمتی زرمبادلہ بچا سکے گا دراصل آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس کو مستقبل میں پوری دنیا کے لئے نقل و حمل کا ایک زبردست تجارتی منصوبہ قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ یہ عظیم الشان ریل منصوبہ پاکستان کو بین الاقوامی تجارت کا مرکز بھی بنا دینے کی بھی پوری طرح سے قدرت رکھتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آئی ٹی آئی کنٹینر ٹرین سروس کو پٹری پر ڈالنے میں پاکستان ریلوے کتنی عجلت اور انتظامی دانش مندی کا مظاہرہ کرتا ہے؟،بقول شاعر
”کون کتنا ضبط کر سکتا ہے،پتا چل جائے گا،
ریل جب چلنے لگی گی،فیصلہ ہو جائے گا“

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

ML1 project - azam swati k liye bara challange is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 13 January 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.