بیج سے تناور درخت تک: اردوپوائنٹ کے 26 سالہ سفر کی داستان
یہ 26 برسوں پر پھیلی ہوئی ایک ایسی رفاقت کی داستان ہے جس میں صحافت، دوستی، محنت، مشکلات، خوشیاں، مایوسیاں، امیدیں اور وقت کے ساتھ بدلتی ہوئی ایک پوری دنیا شامل ہے
میاں محمد ندیم
جمعرات 13 اگست 2026

(جاری ہے)
ہر شخص کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے، انٹرنیٹ ہماری زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے، سوشل میڈیا نے خبر اور رائے کے درمیان فاصلے تقریباً ختم کردیے ہیں اور مصنوعی ذہانت صحافت کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔
مگر 1999 میں؟پاکستان جیسے ملک میں نیوز ویب سائٹ کا تصور ہی عجیب محسوس ہوتا تھا۔لیپ ٹاپ عام نہیں تھے، اسمارٹ فون کا کوئی تصور نہیں تھا، ڈائل اَپ انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا سے رابطہ ہوتا تھا، انٹرنیٹ کے اخراجات منٹوں کے حساب سے برداشت کرنا پڑتے تھے اور مین اسٹریم میڈیا پر اخبارات، نیوز ایجنسیاں اور نشریاتی ادارے مکمل طور پر چھائے ہوئے تھے۔ایسے وقت میں ویب سائٹ شروع کرنا محض مشکل فیصلہ نہیں تھا، یہ شاید اپنے وقت کے بہاوکے خلاف کھڑے ہونے کے مترادف تھا۔اور اسی بہاو کے خلاف ایک نوجوان نے تیرنے کا فیصلہ کیا۔علی چوہدری نے اردوپوائنٹ شروع کیا۔شاید اس وقت خود علی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ چھوٹا سا قدم آنے والے برسوں میں پاکستان کے ڈیجیٹل میڈیا کی تاریخ کا ایک اہم باب بن جائے گا۔آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اردوپوائنٹ کا آغاز دراصل ایک ویب سائٹ کا آغاز نہیں تھا، یہ ایک خواب کا آغاز تھا۔ایک ایسا خواب جسے پورا کرنے کے لیے نہ راستہ واضح تھا، نہ آمدن کا کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ، نہ وسائل کی فراوانی اور نہ یہ یقین کہ لوگ اسے قبول بھی کریں گے۔مگر خواب شاید اسی کا نام ہے کہ انسان امکانات سے زیادہ اپنے یقین پر بھروسہ کرے۔مجھے اردوپوائنٹ کی 25ویں سالگرہ کی تقریب میں ادارے کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس طویل سفر کی یادیں شیئر کرنے کا موقع ملا تھا۔بطور مدیر اردوپوائنٹ کے ساتھ کام کرتے11سال جیسے پلک جھپکتے میں گزرگئے‘آج ہم بڑھاپے کی دہلیزپر کھڑے ہیں مگر علی چوہدری ہے کہ اس عزم کو بوڑھا ہونے ہی دیتااور یہی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے-ایک سال گزرنے کے بعد بھی جب اس تقریب اور اس پورے سفر کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اصل کہانی شاید ان اعداد و شمار سے کہیں بڑی ہے جو کسی ادارے کی کامیابی بیان کرتے ہیں۔ان دنوں کی ہے جب وسائل محدود تھے مگر خواب بہت بڑا تھا۔
اور سب سے بڑھ کر اس شخص کی کہانی ہے جس نے ہمت نہیں ہاری۔
میں ٹیکنالوجی کے معاملے میں ہمیشہ خود کو نالائق سمجھتا رہا ہوں۔ آج سائبر سکیورٹی، ڈیٹا بیک اَپ، سرور، کلاﺅڈ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل سکیورٹی ہماری عام گفتگو کا حصہ ہیں، مگر پچیس، چھبیس سال پہلے ہم جیسے ”اولڈ اسکول“ صحافیوں کے لیے تو سائبر سکیورٹی کا لفظ بھی اجنبی تھا۔ہمیں صرف خبر سے مطلب تھا۔خبر لکھنی ہے، خبر دینی ہے اور اخبار میں چھپوانی ہے۔اخبار کا محاذ بھی اپنی جگہ مشکل تھا، مگر اس کی ایک حد تھی۔ صفحہ مکمل ہوا، اخبار پریس چلا گیا اور ایک دن کا کام ختم۔مگر ویب سائٹ؟یہ ایسا محاذ تھا جہاں کام کبھی ختم نہیں ہوتا تھا۔نہ دن کی چھٹی، نہ رات کا سکون، نہ ہفتہ وار تعطیل۔سال کے 365 دن، چوبیس گھنٹے۔ایک خبر ختم ہوئی تو دوسری آگئی۔ دوسری ختم ہوئی تو تیسری منتظر تھی۔اور اس سب کے ساتھ ویب سائٹ کی تکنیکی ضروریات، سرور، انٹرنیٹ، بیک اَپ اور سکیورٹی کے مسائل اپنی جگہ موجود تھے۔آج ہم بیک اَپ کے لیے چند کلکس کرتے ہیں، مگر اس وقت ڈیٹا محفوظ رکھنا بھی ایک چیلنج تھا۔کئی مرتبہ سائبر حملوں نے پوری ویب سائٹ کو شدید متاثر کیا۔سوچیے، جس چیز کو بنانے میں دن رات لگے ہوں، وہ ایک حملے میں آپ کے سامنے بکھر جائے تو انسان پر کیا گزرتی ہوگی؟
لیکن شاید شکست اور کامیابی کے درمیان اصل فرق یہی ہوتا ہے۔کچھ لوگ مشکل دیکھ کر راستہ چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ لوگ مشکل دیکھ کر راستہ دوبارہ بناتے ہیں۔علی چوہدری نے ہر بار راستہ دوبارہ بنایا۔آمدن کا سوال بھی کسی بڑے امتحان سے کم نہیں تھا۔اخبارات اشتہارات پر چلتے تھے، ٹیلی ویژن کے لیے بھی اشتہارات کا ایک واضح نظام موجود تھا، مگر ویب سائٹ کے لیے اشتہار کون دے؟جب لوگوں کی اکثریت کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ویب سائٹ کیا ہوتی ہے تو اسے اشتہار دینے پر کیسے آمادہ کیا جائے؟یہ وہ زمانہ تھا جب ویب سائٹ بنانا شاید کاروبار سے زیادہ ایک یقین تھا۔لیکن علی نے اسی یقین کو اپنی طاقت بنایا۔2001 میں پاکستان میں نجی ٹیلی ویژن چینلز کے لائسنس جاری ہوئے اور میڈیا کی دنیا بدلنے لگی۔ ٹیلی ویژن نے خبر کی رفتار بڑھائی، لیکن اردوپوائنٹ تو اس سے کئی برس پہلے انٹرنیٹ پر رئیل ٹائم نیوز کا سفر شروع کرچکا تھا۔آج ہم اسے لائیو کوریج کہتے ہیں۔اس وقت یہ ایک نیا تصور تھا۔اسی لیے جب اردوپوائنٹ کے سفر کو پاکستان کی صحافتی تاریخ کے تناظر میں دیکھتا ہوں تو علی چوہدری کے حصے میں دو نمایاں اعزاز ضرور آتے ہیں اردو زبان میں نیوز ویب سائٹ کے ابتدائی اور تاریخی سفر کا حصہ بننا، اور خبر کو رئیل ٹائم میں عوام تک پہنچانے کے ڈیجیٹل تصور کو بہت پہلے اپنانا۔لیکن اردوپوائنٹ کی کہانی صرف ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں۔یہ لوگوں کی کہانی بھی ہے۔دنیا بھر میں اردو سے محبت کرنے والے وہ لوگ جنہوں نے اسے پڑھا، اسے قبول کیا، اس پر اعتماد کیا اور اسے اپنے گھروں تک پہنچایا۔بیرونِ ملک بیٹھا ایک پاکستانی جب اپنے وطن کی خبر اردو میں پڑھتا تھا تو شاید اس کے لیے وہ صرف ایک خبر نہیں ہوتی تھی۔وہ اپنے وطن سے ایک تعلق ہوتا تھا۔ایک یاد ہوتی تھی۔ایک گھر کی خوشبو ہوتی تھی۔اردوپوائنٹ نے اس تعلق کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا۔سال 2000 ہی میں دنیا بھر میں اردو پڑھنے اور سمجھنے والوں تک رسائی کا سلسلہ مضبوط ہونا شروع ہوگیا تھا۔ہم بھی اگرچہ آغاز ہی سے اردوپوائنٹ کے ساتھ تھے، لیکن جزوی طور پر برادرم شاہد نذیر چوہدری، راقم اور کچھ دوسرے دوست اپنی اپنی ملازمتوں کے ساتھ اردوپوائنٹ کے لیے مواد اکٹھا کیا کرتے تھے۔وہ زمانہ بھی عجیب تھا۔اپنی نوکری، اپنی مصروفیات اور اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ اردوپوائنٹ کے لیے وقت نکالنا۔کبھی خبر تلاش کرنا، کبھی مواد جمع کرنا، کبھی کسی واقعے کی تفصیل حاصل کرنا۔آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ شاید ہمیں خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہم ایک تاریخ کے ابتدائی صفحات لکھ رہے ہیں۔چھ صفحات کے اخبار کے لیے جتنا مواد چاہیے ہوتا تھا، ویب سائٹ اس سے کہیں زیادہ مانگتی تھی۔میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ اخبار ایک محدود جگہ ہے، مگر ویب سائٹ ایک ایسا اندھا کنواں ہے جس میں جتنا بھی مواد ڈالتے جائیں، کم ہی لگتا ہے۔اخبار میں آج کی خبر اگلے دن پرانی ہوجاتی ہے۔ڈیجیٹل میڈیا میں خبر کی عمر کبھی کبھی چند منٹ ہوتی ہے۔یہاں گھڑی کی سوئی کے ساتھ دوڑنا پڑتا ہے۔یہاں ایک منٹ کی تاخیر بھی فرق پیدا کرسکتی ہے۔اور اس مسلسل دوڑ میں اردوپوائنٹ آگے بڑھتا رہا۔پھر وقت بدل گیا۔ڈائل اَپ ختم ہوا، براڈ بینڈ آیا۔کمپیوٹر سے لیپ ٹاپ آیا۔لیپ ٹاپ سے اسمارٹ فون آیا۔پھر سوشل میڈیا آیا۔فیس بک، یوٹیوب، ایکس، انسٹاگرام، شارٹ ویڈیوز، لائیو اسٹریمنگ اور اب مصنوعی ذہانت۔دنیا نے صرف ٹیکنالوجی نہیں بدلی، خبر دیکھنے، پڑھنے اور سمجھنے کا انسان کا انداز بھی بدل دیا۔لیکن اس پورے سفر میںجو ایک چیز نہیں بدلی وہ اردوپوائنٹ کامسلسل سفر ہے۔یہی شاید کسی ادارے کی اصل کامیابی ہے کہ وہ وقت کے ساتھ صرف زندہ نہ رہے بلکہ وقت کے ساتھ خود کو بدلتا بھی رہے۔اور پھر اس سفر کا ایک انتہائی ذاتی پہلو ہے جسے میں کبھی نظرانداز نہیں کرسکتا۔مجھے آج بھی 1999 کا وہ پرعزم نوجوان یاد ہے جس سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔آج جب علی چوہدری کو دیکھتا ہوں تو کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ وقت انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے۔وہ نوجوان جس کے ہاتھ میں ایک خواب تھا، آج اس خواب کا ایک پورا ادارہ سامنے کھڑا ہے۔آج صرف اردو پوائنٹ کے ہی نہیں ہماری دوستی کے بھی 26 برس مکمل ہوگئے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں۔یہ میری زندگی کے 26 برس ہیں۔یہ ایسے برس ہیں جن میں ہم نے بہت سے لوگوں کو آتے جاتے دیکھا، بہت سے اداروں کو بنتے اور ختم ہوتے دیکھا، ٹیکنالوجی کو کئی نسلیں بدلتے دیکھا اور دنیا کو کئی بار اپنی شکل تبدیل کرتے دیکھا۔مگر کچھ رشتے وقت کے ساتھ کمزور نہیں ہوتے۔وہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے ہیں۔علی کی ایک خوبی نے ہمیشہ مجھے متاثر کیا ہے۔کامیابی نے اس کے اندر غرور پیدا نہیں کیا۔اللہ سبحان وتعالیٰ نے جتنا نوازا، اس کے عجز و انکسار میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا گیا۔یہ وصف ہر شخص کے حصے میں نہیں آتا۔بلندی پر پہنچ کر زمین کو یاد رکھنا، اپنے ساتھیوں کو یاد رکھنا، اپنے آغاز کو یاد رکھنا اور ان لوگوں کو نہ بھولنا جنہوں نے سفر کے ابتدائی دنوں میں ساتھ دیا—یہی اصل کامیابی ہے۔اردوپوائنٹ کی کامیابی صرف علی چوہدری کی کامیابی نہیں۔یہ پوری ٹیم کی کامیابی ہے۔ندیم احمد، سید فیضان ہاشمی، فہد شبیر اورابتدائی ٹیم کے دوست آج ان کے بالوں میں بھی ہماری طرح چاندی اترآئی ہے بے شمار ساتھی۔اگر ہر نام لکھنا شروع کردوں تو شاید مضمون ختم ہوجائے اور ناموں کی فہرست ختم نہ ہو۔ہر کامیاب ادارے کے پیچھے ایسے ہی خاموش کردار ہوتے ہیں جن کے نام اکثر شہ سرخیوں میں نہیں آتے، مگر ان کی محنت ادارے کی بنیاد میں شامل ہوتی ہے۔اور پھر وہ قارئین ہیں جنہوں نے اس سفر کو حقیقت بنایا۔دنیا بھر میں پھیلے اردوپوائنٹ کے قارئین۔جنہوں نے کبھی محبت دی، کبھی تنقید کی، کبھی غلطی کی نشاندہی کی اور کبھی ایک چھوٹے سے پیغام کے ذریعے پوری ٹیم کا حوصلہ بڑھا دیا۔میڈیا ادارے عمارتوں، کمپیوٹروں اور سرورز سے نہیں بنتے۔میڈیا ادارے قارئین کے اعتماد سے بنتے ہیں۔یہ اعتماد ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا۔اس کے لیے برسوں تک مسلسل موجود رہنا پڑتا ہے۔خبر کے مشکل وقت میں بھی موجود رہنا پڑتا ہے۔غلطی ہو تو اسے درست کرنا پڑتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر اپنے قاری کو یہ احساس دینا پڑتا ہے کہ اس کی آواز اہم ہے۔اردوپوائنٹ کے 26 سالہ سفر کو دیکھتے ہوئے میرے لیے یہ صرف ایک کامیاب ویب سائٹ کی داستان نہیں۔یہ ایک ایسے خواب کی کہانی ہے جس نے ناممکن دکھائی دینے والے راستے پر پہلا قدم رکھا۔پھر اس قدم کو دوسرے قدم نے، دوسرے کو تیسرے نے اور یوں ہزاروں قدموں نے ایک راستہ بنا دیا۔ہر تناور درخت کبھی ایک چھوٹا سا بیج تھا۔وہ بیج زمین میں دبا۔اندھیرے سے گزرا۔بارشیں برداشت کیں۔دھوپ سہی۔آندھیوں کا مقابلہ کیا۔کئی شاخیں ٹوٹیں۔کئی موسم گزرے۔مگر وہ بڑھتا رہا۔اردوپوائنٹ بھی ایک ایسا ہی بیج تھا۔اور اس بیج کو تناور درخت بنانے میں علی چوہدری نے اپنی جوانی لگا دی۔آج اس درخت کے سائے میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں قارئین آتے ہیں۔اس کی شاخیں دنیا کے مختلف حصوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔اس کی جڑوں میں 26 برس کی محنت ہے۔اس کے تنے میں پوری ٹیم کی قربانیاں ہیں۔اور اس کے پتوں میں ہر اس قاری کی محبت ہے جس نے اسے کھولا، پڑھا اور پھر دوبارہ واپس آیا۔شاید اسی لیے اردوپوائنٹ کی 26ویں سالگرہ میرے لیے صرف جشن کا موقع نہیں بلکہ یاد کرنے کا موقع بھی ہے۔یاد کرنے کا کہ ہم کہاں سے چلے تھے۔یاد کرنے کا کہ راستہ کتنا مشکل تھا۔یاد کرنے کا کہ کتنی بار لگا ہوگا کہ شاید یہ سفر رک جائے گا۔اور پھر یہ دیکھ کر خوش ہونے کا کہ سفر رکا نہیں۔26 سال گزر گئے، مگر کہانی ختم نہیں ہوئی۔بلکہ شاید اصل کہانی اب شروع ہوئی ہے۔کیونکہ آج اردوپوائنٹ کے سامنے وہ چیلنجز نہیں جو 1999 میں تھے، مگر آج کے چیلنجز بھی کم نہیں۔ مصنوعی ذہانت، فیک نیوز، ڈیپ فیک، سائبر سکیورٹی، سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا اور بدلتے ہوئے صحافتی تقاضے ایک نئی جنگ ہیں۔وہی ادارے آگے جائیں گے جو ایک بار پھر اپنے وقت سے آگے سوچ سکیں گے۔اور جس ادارے نے 1999 میں ناممکن دکھائی دینے والے راستے پر قدم رکھا ہو، اس سے مستقبل کے بارے میں امید رکھنا بالکل فطری ہے۔اللہ سبحان وتعالیٰ اردوپوائنٹ کو مزید ترقی دے، اس کے سفر کو مزید طول دے اور اسے اردو زبان، صحافت اور پاکستان کے ڈیجیٹل میڈیا کے لیے مزید موثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور علی چوہدری کے لیے بس اتنی سی دعا ہے کہ اللہ اسے وہی عاجزی، وہی حوصلہ اور وہی خواب دیکھنے والی آنکھیں عطا رکھے جو 1999 میں تھیں۔کیونکہ شاید انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنا بڑا درخت بن گیا۔اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے اندر موجود اس چھوٹے سے بیج کو کبھی نہ بھولے جس سے اس کا سفر شروع ہوا تھا۔ اردوپوائنٹ کے 26 سال مکمل ہونے پر علی چوہدری، پوری ٹیم اور دنیا بھر میں موجود اس کے قارئین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
متعلقہ مضامین :
مضامین و انٹرویوز کی اصناف
مزید مضامین
-
افغانستان پر سوویت یونین کا قبضہ اور جنرل اختر عبدالرحمان
-
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
-
تجدید ایمان
-
ٹکٹوں کے امیدواروں کی مجلس اورمیاں نواز شریف کا انداز سخن
-
جنرل اختر عبدالرحمن اورمعاہدہ جنیوا ۔ تاریخ کا ایک ورق
-
کاراں یا پھر اخباراں
-
صحافی ارشد شریف کا کینیا میں قتل
-
ایک ہے بلا
-
عمران خان کی مقبولیت اور حکومت کو درپیش 2 چیلنج
-
سیلاب کی تباہکاریاں اور سیاستدانوں کا فوٹو سیشن
-
”ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان“ کسان دوست پالیسیوں کا عکاس
-
بلدیاتی نظام پر سندھ حکومت اور اپوزیشن کی راہیں جدا
مزید عنوان
UrduPoint K 26 Years Ki Dastan is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 13 August 2026 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.