نریندرا مودی کی آبی جارحیت

بھارت میں جب سے قصائی صفت نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں ان کو اس وقت تک چین نہیں آتا ہے کہ جب تک وہ پاکستان کیخلاف کوئی نہ کوئی جارحانہ اقدام نہ کریں یا خطہ میں دوسرے پڑوسی ملک کے معاملات میں دخل اندازی کر کے ٹانگ نہ اڑائیں۔ یہ دراصل ان کی وہ اذیت پسند ذہن و تخریبی سوچ ہے

پیر جنوری

Narendra Modi Ki Aabi Jarhiyat
بھارت میں جب سے قصائی صفت نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں ان کو اس وقت تک چین نہیں آتا ہے کہ جب تک وہ پاکستان کیخلاف کوئی نہ کوئی جارحانہ اقدام نہ کریں یا خطہ میں دوسرے پڑوسی ملک کے معاملات میں دخل اندازی کر کے ٹانگ نہ اڑائیں۔ یہ دراصل ان کی وہ اذیت پسند ذہن و تخریبی سوچ ہے کہ پڑوسیوں کو مسائل و مشکلات سے دوچار کر کے شائد وہ خطہ کے ”چوہدری “ بن جائیں گے۔

یہ پرانے دقیانوسی خیالات اور پتھر کے زمانے کا انداز فکر ہے کیونکہ آج دنیا بہت آگے جا چکی ہے اور اعلیٰ سفارتی آداب کو نظر انداز کر کے کسی ملک کا کوئی بھی لیڈر دوسرے کیخلاف جارحانہ اقدام کرئیگا تو اسے عالمی سطح پر اچھا تصور نہیں کیاجائے گا۔ مودی جہاں پاکستان کیخلاف آبی جارحیت کر کے معاہدہ سندھ طاس توڑنے کے درپے ہیں تو وہاں وہ آئے روز بنگلا دیشی حکومت کو مختلف فرامین جاری کر کے پریشان کیے ہوئے ہیں اورنیپال کی سرحدی ناکہ بندی کرنے کی دھمکیاں تو روز کا معمول ہے۔

(جاری ہے)

بنگلا دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کو دھمکی آمیزہ لہجے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے ملک میں ہندو اقلیت غیر محفوظ ہیں تو انہیں مودی سرکار کو آئینہ دکھانا چاہیے تھا کہ کیا بھارت میں مسلمان ، عیسائی اور سکھوں کے علاوہ دیگر اقلیتیں چین سے رہ رہی ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کی گود میں چوری کھا کر پلنے والا مودی تو اپنے ملک کے عوام پر قہر آلودہ احکام جاری کر کے انہیں اذیتیں دے رہا ہے حالیہ کرنسی بحران سے بھارتی عوام کی مشکلات ان کی طرف سے ہڑتال اور ہڑتالیوں پر لاٹھی چارج نے مودی سرکار کو اپنے ہی وطن میں متنازعہ و عوام دشمن بنا دیا ہے۔

لیکن نریندر مودی پاکستان کیخلاف زہر اگلنا گویا اپنا سرکاری فرض سمجھتے ہیں اور بقول ان کے اس طرح شائد وہ بھارتی عوام میں مقبولیت پا لیں گئے۔ سندھ طاس معاہدہ پچاس سال قبل 1960ء میں طے پایا تھا اور یہ صرف پاک بھارت تک ہی محدود نہیں ہے اس کے ضامنوں میں عالمی بنک ، امریکہ ، جرمنی ، کینیڈا ،آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، اٹلی ، فرانس اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔

اس لیے معاہدہ سندھ طاس کی منسوخی کو ئی معمولی بات نہ ہو گی۔ مودی سرکار بخوبی جانتی ہے کہ اسی معاہدہ کے تحت پاکستان کے تین دریا ستلج ، راوی ، اور بیاس مکمل طورپر بھارت کو دئیے گئے ہیں جبکہ بھارت اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی بار مغربی دریاوٴں سندھ ، جہلم اور چناب کا پانی بھی چوری کرتا چلا آرہا ہے۔ بھارت دریائے نیلم پر کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے اور نریندر مودی دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ ان مغربی دریاوٴں کا پانی بھی روک کر پاکستان کو بنجر بنا دیں گے اور انہوں نے معاہدہ سندھ طاس کی منسوخی کیلئے ایک اعلیٰ اختیارات کی حامل کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے ۔

کنٹرول لائن پر آئے روز کی بلا اشتعال چھیڑ چھاڑ کے بعد نریندر مودی کی آبی جارحیت کے آگے بند باندھنے کیلئے حکومت پاکستان کو عالمی و سفارتی سطح پر اقدامات اٹھانے ہونگے۔ اسلام آباد سے ورلڈ بنک کو محض ایک خط لکھنے پر ہی اکتفانہ کیاجائے بلکہ ماہرین کا ایک خصوصی وفد بھیجا جائے اور سفارتی سطح پر اہل افراد کے وفود تشکیل دے کر ضامن مماملک کو نریندر مودی کی آبی جارحیت کے گھناوٴنے عزائم سے آگاہ کیاجائے کہ وہ بھارتی سرکار کو باور کرائیں کہ عالمی معاہدوں کی پابندی لازم ہوتی ہے اور مودی سرکاری کی ایسی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ہر محاذ پر موٴثر و جاندار حکمت عملی طے کرنا ہو گی۔

بھارت حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کیلئے ہندووٴں کو آباد کر رہی ہے اور انہیں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ بھی جاری کیے جارہے ہیں۔ اقوام عالم کو بھی اسکا نوٹس لینا چاہیے کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بھارت صریحاً خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے اگر اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ لیگ پنشنرز کی طرح ناکام ہو گیا تو پھر عالمی امن کی قطعی ضمانت نہیں دی جا سکے گی اور بالخصوص نریندر مودی کے ظالمانہ اقدامات خطہ کو تباہی سے دوچار کرینگے اگر تیسری عالمگیر جنگ ہوئی تو دنیا قطعی محفوظ نہیں رہے گی اور برصغیر و جنوبی ایشیاء سے اٹھنے والی چنگاری عالمی امن کو تہس نہس کر دے گی لہٰذا نریندر مودی کو باور کرایا جائے کہ وہ سرحدی دہشت گردی و آبی دہشت گردی سے باز رہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Narendra Modi Ki Aabi Jarhiyat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 January 2017 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.