پاکستان میں کورٹ میرج میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان

کورٹ میرج میں طلاق کے اثرات اس مرد پر زیادہ نہیں پڑھتے کیونکہ اس کو کسی نہ کسی صورت اس کے خاندان والے معاف کر دیتے ہیں مسئلہ اس عورت کے لیے بنتا ہے جو کہ گھر سے بھاگ کر سارے رشتے ختم کرکے ایک شخص کے لیے آتی ہے

منگل جنوری

Pakistan Main Court Marriage Main Talaq Ka Bharta Hua Rohjaan
فوزیہ عنبرین کھٹانی
اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں فیملی سسٹم نافذ ہے لیکن وقت و حالات کے ساتھ ساتھ وہ اپنی  اصل صورت بھی بدلتا جاتا ہے ۔پہلے پہل ہمارے ملک میں خاندان کے بڑے بچوں کی شادیاں جہاں طے کردیتے تھے بچے ہنسی خوشی اس فیصلے کو قبول کرلیتے تھے لیکن اب پاکستان جو کہ اسلامی اقدار پر قائم ملک ہے وہاں پر پسند کی شادی رواج پا رہی ہے پاکستان میں کورٹ میرج کا رواج روزبروز  بڑھتا  ہوا نظر آ رہا ہے وہاں اس میں طلاق کی شرح بھی ارینج میرج  سے تین گناہ زیادہ ہے ۔


پاکستان میں کورٹ میرج کی وجوہات بہت سی ہیں جن میں سے چند کا ذکر میں یہاں کر رہی ہو ں۔
دین سے دوری؛ والدین کی نافرمانی؛ تعلیم کی کمی؛ سوشل میڈیا کا منفی استعمال؛ آزادانہ ماحول (میرا جسم میری مرضی) ذہنی دباؤ کا شکار ؛ بے جا آزادی؛ والدین سے تعلقات میں کمی؛ یہ سب وہ  وجوہات ہیں ۔

(جاری ہے)

جو کہ آج کے دور میں عام ہیں مسئلہ یہ نہیں کہ کوٹ میرج کرنا گناہ ہے مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوٹ میرج بچوں نے کرلی ہے تو خاندان کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو معاف کرکے ان کے درمیان اچھے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کریں ۔

دیکھنے میں آتا ہے کہ پاکستان میں جب بچے کوٹ میرج کر لیتے ہیں تو خاندان والے سب سے پہلے ان سے منہ موڑ لیتے ہیں جو کہ سراسر غلط رویہ ہے ۔اسی وجہ سے دیکھنے میں آتا ہے کہ کورٹ میرج میں طلاق کا رجحان بھی ارینج میرج  سے زیادہ ہے
کورٹ میرج میں طلاق کی چند وجوہات یہ بھی ہیں
غربت؛ والدین کا نا خوش ہونا ؛اسلام سے دوری؛ معاشرے کا دباؤ ؛خاندان کا الگ ہو جانا؛ وغیرہ وغیرہ
کورٹ میرج میں طلاق کے اثرات اس مرد پر زیادہ نہیں پڑھتے کیونکہ اس کو کسی نہ کسی صورت اس کے خاندان والے معاف کر دیتے ہیں مسئلہ اس عورت کے لیے بنتا ہے جو کہ گھر سے بھاگ کر سارے رشتے ختم کرکے ایک شخص کے لیے آتی ہے اب جب اس شخصیت سے  بھی رشتہ ختم ہو جائے تو وہ دنیا میں الگ تھلگ رہ جاتی ہے تو اس کا مقدر دارالامان کرائسز  سنٹر یا پھر طوائف کا کوٹا ہی ہوتا ہے
بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل کوٹ میرج کے حسین دنوں  کا تو ضرور سوچتے ہیں ۔

لیکن وہ اس کے منفی اثرات کو نظرانداز کر جاتے ہیں چلے کچھ وقت کے لئے یہ سوچ لے کہ وہ دو لوگ جہنوں نے  کورٹ میرج کی اور بعد میں الگ ہوگئے ۔اور ایک نئے سرے سے اپنی زندگیاں شروع کر لے لیکن مسئلہ تو ان بچوں کا اس اولاد کا ہوتا ہے ۔جو کہ ان کی کورٹ میرج کی وجہ سے دنیا میں آئی ہے وہ بچے ساری عمر احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں اور اپنے والدین سے شدید نفرت کرتے ہیں نفسیاتی طور پر بھی بے چین ہوتے ہیں چڑچڑے ہوتے ہیں اور  دنیا سے بیزار ہو جاتے ہیں ۔

اور آخر کار وہ اس سب کا بدلہ معاشرے سے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے لیتے ہیں ۔
دراصل کورٹ میرج کوئی غلط فعل نہیں ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کورٹ میرج کے اثرات و نتائج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اب تک کچھ اچھے نہیں رہے۔
احساس کا انداز بدل جاتا ہے ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی
کورٹ میرج میں کمی لانے کے لیے کچھ سفارشات درج ذیل ہیں ۔


۔اسلام کو عام کرنا ؛میڈیا کے منفی کردار کو کم کرنا؛ مغرب کے رویے کا جواب دینا ؛جائیداد کی منصفانہ تقسیم؛ خاندان کا مثبت رویہ؛ رسم و رواج سے آگاہی؛  تعلیم و تربیت پر زور؛ قانون کو اسلام کے مطابق بنانا؛ بچوں سے تعلقات میں بہتری ؛
الغرض اگر ہم بحثیت والدین؛ اساتذہ ؛رہنما اپنے بچوں اور اپنے ارد گرد کے بچوں کی شخصیت کی تکمیل کرنے کی کوشش کریں گے ان کو اچھے برے کی تمیز سکھائیں گے ۔

تو ہی ہمارا معاشرہ ہمارا ماحول ہمارا پاکستان بہتر ہو سکتا ہے
کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں جب پتہ چلتا ہے تو بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو نہیں اس لئے ہمیں کیا !!
یہ جو ہمیں کیا !!! ہے نا
یہی بات ہماری آنے والی نسلیں تباہ کر رہی ہے۔ کیونکہ ہم سب بے فکری کی نیند سو رہے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔اس لیے بہتر یہ ہے کہ ابھی سے جاگے اور اپنے ارد گرد دیکھیے کیونکہ
پاکستان ہم سے ہے اور ہم پاکستان سے ہیں

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Pakistan Main Court Marriage Main Talaq Ka Bharta Hua Rohjaan is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 21 January 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.