پاکستان میں کرپشن کا زہر

قیام پاکستان کے وقت قوم قناعت پسندی ،محبت ، اخوت ایثار قربانی حب الوطنی کے جذبات سے سرشار تھی ،لالچ نام کی کوئی چیز نہیں نظر آتی تھی۔ کرپشن کا تصور بھی نہیں تھا۔ کیونکہ اس قوم کی قیادت قائداعظم جیسے محبت وطن دیانتدار ہاتھوں میں تھیں۔

جمعہ جنوری

Pakistan Main Curroption Ka Zehar
رانا بلند اختر:
قیام پاکستان کے وقت قوم قناعت پسندی ،محبت ، اخوت ایثار قربانی حب الوطنی کے جذبات سے سرشار تھی ،لالچ نام کی کوئی چیز نہیں نظر آتی تھی۔ کرپشن کا تصور بھی نہیں تھا۔ کیونکہ اس قوم کی قیادت قائداعظم جیسے محبت وطن دیانتدار ہاتھوں میں تھیں، قائداعظم نے اپنی تمام دولت قوم کو دان کردی۔ قائداعظم اور ان کے خاندان کے کسی فرد کے نام کوئی جائیداد ،کوئی فارم ہاوٴس، کوئی مربعے ،کوئی پلازے ،کوئی بنک بیلنس ،فارن کرنسی اکاونٹس ،کوئی انڈسٹری یا سوس اکاونٹس نہیں تھے۔

قائداعظم کے قریبی ساتھی قائد ملت نواب لیاقت علی خان جو کہ بہت بڑے جاگیر دار اور نواب تھے ،امیر آدمی تھے۔جب شہید ہوئے تو انکی جیب سے مبلغ 13روپے برآمد ہوئے اور انکی بنیان میں سوراخ تھے۔

(جاری ہے)

قیام پاکستان کے وقت شروع شروع میں خلوص ومحبت ،حب الوطنی ،ایثار وقربانی کے واقعات دیکھنے میں آئے جس نے انصار مدینہ کی یاد تازہ کر دی۔ لالچ ،رشوت اور کرپشن کا کوئی تصور نہ تھا۔

اگر کوئی لیڈر یا بڑا آدمی کسی چھوٹے ملازم کو خوشی سے دس بیس روپے دے دیتا تھا تو اسے بخشش کہا جاتا تھا لیکن اب تو بھتہ اور رشوت گن پوائنٹ پر لی جاتی ہے ،مہاجرین کی آباد کاری میں بھی ایثار وقربانی دیکھنے میں آئی مجھے یاد ہے کہ میرے والد صاحب جو کہ سرکاری افسر تھے اور کٹر مسلم لیگی تھے ،ضلع سیالکوٹ میں مہاجرین کی آبادکاری کے کام پر تعینات تھے انہیں سیالکوٹ شہر میں ایک بہت بڑی دومنزلہ بلڈنگ جس کے 35/36 کمرے تھے الاٹ کر دی گی ،بلڈنگ جس سندر سنگھ بھاٹیہ ایک ہندو کی ملکیت تھی جو ہندوستان چلا گیا تھا جس میں سپریم کورٹ کے اٹارٹی جنرل راوٴ یوسف وغیرہ رہائش پذیر رہے، بلڈنگ سامان سے بھری پڑی تھی ،سونے چاندی کے برتن بھی تھے۔

میرے والد نے ضرورت کے مطابق 10/12 بستر اور پلنگ ،چارپائیاں اور 50/60 برتن ،کچھ فرنیچر اور کپڑے وغیرہ رکھ کر باقی تمام سامان نیچے کی منزل میں مہاجرین کے پول کے لیے جمع کروا کر سیل کروا دیا جسے بعد میں سرکاری ٹرکوں پر لے جایا گیا، کوئی قیمتی چیز انہوں نے اپنے لیے نہیں رکھی ۔ ملک کے گوشے گوشے سے ایسی مثالیں دیکھنے میں آتی تھی۔ والد صاحب مختلف عہدوں پر رہے اور کرپشن کے بے شمار مواقع میسر تھے وہ چاہتے تو پچاس کی دہائی میں کروڑ پتی بن سکتے ہیں لیکن وہ صرف دو سو روپے پر گزارہ کرتے تھے۔

لاہور میں انار کلی ، مال روڈ ،شاہ عالمی ، بھاٹی ،لوہاری ، موچی دروازہ، دہلی دروازہ، میکلورڈ روذ ،قلعہ گجر سنگھ،کریشن نگر،ماڈل ٹاوٴن ،محکمہ سیٹلمنٹ کی ملی بھگت سے دھڑا دھڑا برائے نام قیمت پر الاٹ ہوتا رہا اور یہ طبقہ لوٹ کھسوٹ الاٹمنٹوں کے چکر میں پڑ گیا جس سے ملک میں کرپشن کی بنیاد پڑی۔ مستحق لوگ محروم رہے بعد میں عدالتوں کے چکر اور کرپشن کی چکی میں پستے رہے ۔

پھر جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگا دیا۔ کنونشن مسلم لیگ وجود میں آئی، اس نے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے کے لیے بچا کھچا پاکستان اپنے منظور نظر لوگوں کو الاٹ کرنا شروع کر دیا۔ بڑے بڑے زرعی فارم، گھوڑی پال اور گردموڈ کی سکیمیں بناکر الاٹ کئے گے۔ منظور نظر لوگوں اور سیاسی لوگوں کو امپورٹ ، ایکسپورٹ لائسنس ،قرضے اور فیکٹریوں کے لائسنس ،روٹ پرمٹ (اس وقت ایک پرمٹ کی قیمت 7/8 لاکھ روپے ہوتی تھی جو آج کروڑوں روپے کے برابر تھی)صرف بیان حلفی کی بنیاد پر لاکھوں ایکڑ اراضی اور جائیدادیں الاٹ کی گئیں۔

اس طرح آمرانہ نظام مضبوط ہوا۔ اس نظام اور نوکر شاہی اور عدالتوں کے کارندوں نے عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک ہانک بے بس کر دیا اور یہ طبقہ ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا ملک کی دولت 22 خاندانوں میں مرتکز ہو گئی اس طرح کرپشن کا ناسور ملک وقوم کے ان طبقات میں سرایت کر گیا۔ اس کشمکش کرپشن ،لوٹ مار، استحصال ،بین الصوبائی تعصبات کی وجہ سے قائداعظم کا پاکستان دولخت ہو گیا۔

قدرت نے ایک شخص ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں ایک لیڈر عطا کیا۔ جس نے ٹوٹے پھوٹے ملک کو جوڑا ،قوم کو مایوسیوں سے نکالا اور نہ صرف استحصال زدہ قوم کو بائیس خاندانوں کے سیاسی ،معاشی اور سماجی استحصال او ر لوٹ کھسوٹ سے نکالنے کا نعرہ لگایا۔ بھٹو کی مرکزی وصوبائی کابینہ کے ارکان اور پارٹی عہدیداران وزارتوں اور حکومت کے اعلی عہدوں پر فائز رہے۔

جیلیں اور قلعے کاٹتے رہے ،کوڑے کھاتے رہے لیکن ان کے خلاف کرپشن کا کائی سکینڈل منظر عام پر نہیں آیا اور نہ ہی ضیاء الحق ان کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس بنا سکا۔ بھٹو دور میں MPA کی تنخواہ 750 روپے تھی اور معمولی الاونسز ہوتے تھے اور انہیں کروڑوں روپے ڈویلپمنٹ کے نام پر اور قرضے اور پرمٹ نہیں ملتے تھے ان کے پاس پچارو ، انٹرکولر ، پراڈو اور مرسیڈیز گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں اور نہ ہی کلاشنکوف بردار گن مین کی فوج ہوتی تھی۔

تمام ڈسٹرکٹ پریزیڈنٹ ،سیکرٹری جنرلز کو بھی 1974 ماڈل کرولا کے پرمٹ وزیراعظم کی جانب سے ملے مجھے بھی یہ پرمٹ ملا لیکن میں نے بھٹو صاحب کو شکریہ کے ساتھ واپس کر دیا کہ میرے پاس گاڑی خریدنے کے لیے پیسے نہیں اور پرمٹ بلیک نہیں کرنا چاہتا۔ اس وقت ایک 1974 ماڈل کرولا کا پرمٹ بلیک میں 26000 ہزار روپے میں بکتا تھا جو کہ اچھی خاصی رقم ہوتی تھی میرے علاوہ سیکرٹری جنرل چودہدی عثمان ایڈوکیٹ اور شیخوپورہ کے صدر اسلام خان نے بھی یہ پرمٹ شکریہ کے ساتھ واپس کر دیے۔

اکثر لوگ آخر تک بھٹو کے ساتھ شریک اقتدار رہے لیکن جنرل ضیاء الحق کسی پر کوئی کرپشن یا کوئی مالیاتی سکینڈل کا کسی نہیں بنا سکا نہ ہی کوئی کرپشن کا کیس منظر عام پر آیا ۔ میں بھٹو پروگرام سے متاثر ہو کر 1968 میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا اور تادم تحریر پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک ہوں لیکن لیکن پیپلز پارٹی کے کرپٹ اور نام نہاد ٹولے سے میرا کوئی تعلق نہیں۔

میں ڈسٹرکٹ لاہور اور قصور کا پریذیڈنٹ تھا لیکن ہمارے پاس کوئی فنڈز نہیں ہوتے تھے۔ دفتر ٹیلیفون اور اخبار وغیرہ کی بھی سہولت میسر نہیں تھی، میں پنجاب آفس کادفتر اور فون استعمال کرتا تھا ۔ ہمارے علاقہ کے MNA نے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے علی گڑھ پبلک سکول سے ملحقہ 24 ایکڑ اراضٰ جسکا ملتان روڈ کا 8 ایکڑ فرنٹ تھا محکمہ اوقاف سے میرے نام الاٹ کرادی جسکی آج کل قیمت اربوں روپے ہے لیکن میں نے محکمہ کو واپس کر دی جسکا ریکارڈ آج بھی موجود ہے ،غرضیکہ اس دور کے سیاسی کارکنوں میں پیسہ اور جائیدادیں بنانے کا رجحان نہیں تھا جیسا کہ آج کل ہے اسی لیے ذوالفقار بھٹو اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کوئی کرپشن کا سکینڈل نہیں آیا، کاش ایسے کرپٹ ،قومی دولت لوٹں ے والے کو ملک دشمن اور غدار قرار دے کر تختہ دار پر لٹکا یا جا سکے ،قوم کا پیسہ چوری کرنے والوں کو کم ازم کم ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جا سکے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Pakistan Main Curroption Ka Zehar is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 22 January 2016 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.