سلام میرے محسن

آج الحمدللہ بہت بڑے بڑے اجتماعات میں تقریر کا موقع ملتا رہتا ہے، ہزاروں کے مجمع میں بھی گھبراہٹ چھو کر بھی نہیں گزرتی تب اپنے اساتذہ کا مجھ پر کیا گیا احسان یاد آتا ہے۔ بے شک میرے استاد نے میرے ہنر کو پہچان کر میری شخصیت کو مضبوط کیا تھا، اور آج الحمدللہ اپنے ہی سکول میں بھی تقریر کا موقع ملتا ہے تو دل خوشی سے شاد ہوجاتا ہے

سید مصعب غزنوی ہفتہ اکتوبر

Salam mere mohsin
سن 2013 کی بات ہے ابھی ایک ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا گورنمنٹ ہائی سکول میں نہم کلاس میں داخلہ لیئے ہوئے۔ میں بضد تھا کہ مجھے ایک پرائیویٹ سکول میں ہی پڑھنا ہے جو کہ ہمارے علاقے کا نامی گرامی سکول تھا، کیونکہ وہاں پر طالب علم نمایاں ترین نمبروں سے پاس ہوا کرتے تھے۔ اساتذہ نے مجھے بہت سمجھایا کہ یہاں ہی پڑھتے رہو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

مگر میں نے اچانک سکول جانا ترک کردیا اور دو تین دن سے سکول نہیں جارہا تھا کہ اب مجھے دوسرے سکول ہی جانا ہے، گھر والے بھی میری یہ بات مان گئے اور میرا سرٹیفیکیٹ لینے کیلئے میرے ماموں کلاس انچارج صاحب کے پاس پہنچ گئے۔ مگر جب وہ واپس آئے تو ان کے پاس سرٹیفیکیٹ نہیں تھا، میں نے بڑی حیرانگی سے پوچھا تو کہنے لگے تمام ٹیچرز نے مجھے اچھے سے سمجھایا ہے کہ بچے کو یہاں ہی پڑھنے دیں یہ بچے کیلئے بہتر ہے۔

(جاری ہے)

تو میں نے ان کے اصرار پر ان کی تجویز مان لی، اب چونکہ استاد کا معاملہ تھا اور میرے تمام اساتذہ کے ساتھ اچھے تعلقات تھے تو مجھے مجبورا اس ہی سکول میں جانا پڑا۔ اساتذہ کی کچھ ناراضگی تو برداشت کرنا پڑی مگر استاد اپنے بچے سے ذیادہ دیر تک کیسے ناراض رہ سکتا ہے۔
دراصل بات یہ ہے کہ استاد اپنے طلباء کے معاملے میں نہایت باریک بین ہوتا ہے، اسے اپنے شاگرد کی ہر قابلیت کی بھنک لے جاتی ہے اور پھر اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح اپنے طالب علم کی اس قابلیت کو نکھارا جائے۔

یہی وجہ تھی کہ مجھے میرے اساتذہ سکول بدلنے نہیں دے رہے تھے، جس کا مجھے وقتی طور پر تو اندازہ نہیں ہوا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے اس بات کا بھرپور اندازہ ہوگیا۔
نومبر کا مہینہ تھا سردیاں آچکی تھیں ہم سب کلاس فیلوز فری پیریڈ میں گرم گرم چادروں میں لپٹے ”یسو پنجو“ کھیل کر اپنے ہاتھ سیکنے میں محو تھے کہ کلاس میں حکیم صاحب کو آتا دیکھ ہم سب جلدی سے سیدھے ہوکر اپنی اپنی نشست پر براجمان ہوگئے۔

حکیم صاحب اردو کے استاد تھے اور غیر نصابی سرگرمیوں کے انچارج بھی، انہوں نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرکے بتایا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے غیر نصابی مقابلہ جات کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اگر آپ میں سے کوئی بچہ کسی مقابلہ میں حصہ لینا چاہتا ہے تو اپنا نام لکھوا سکتا ہے، اور اس کے بعد روز ایک پیریڈ اسے مقابلہ کی تیاری کروائی جائے گی۔

ہم نے بات ایک کان سے سنی اور دوسرے سے نکال دی، ہمیں کیا غرض مقابلہ جات سے؟ کیونکہ ہم تو پڑھنے لکھنے اور کھیلنے پر ہی دیہان دے سکتے ہیں باقی چیزیں کبھی ہم نے کہاں سوچیں؟ مگر میرے تعجب کی تب انتہا نہ رہی جب حکیم صاحب نے کلاس میں اعلان کیا کہ میں نے دو مقابلہ جات سیرت النبی کوئز اور فی البدیہہ تقریر کیلئے خود ہی مصعب کا نام چن لیا ہے۔

 اب چلیں سیرت النبی کوئز کا تو مجھے سمجھ تھوڑی بہت آگئی کہ نبی پاک کی سیرت کے حوالے سے کچھ ہے مگر یہ فی البدیہہ تقریر کس بلا کا نام ہے، کیا فارسی میں تقریر کرنا ہے یا عربی میں۔ بس کیا تھا کہ ایک دم سے سر پر جیسے کسی نے بھاری بھرکم بوجھ لاد دیا ہو اور جسے ہم اٹھانے سے قاصر ہوں۔ اب سب کلاس والوں کی ہم توجہ کا مرکز بن گئے اور سب ہمیں بہت خوش نصیب سمجھنے لگے جسے استاد نے خود ہی منتخب کیا ہے۔

مگر ہماری حالت انتہائی پتلی تھی کیونکہ جو بھی ہو اب روز محنت کرنا پڑے گی، اور اس کیلئے میں بلکل تیار نہیں تھا۔
اب روز ایک پیریڈ میرا اور کچھ 20 سے 25 اور دوسرے طلباء کا لائبریری میں ہوا کرتا، جس میں ہم زور و شور سے تیاری کیا کرتے مقابلہ کی۔ حکیم صاحب اپنی ذمہ داری بہت احسن طریقے سے ادا کرتے، جب کبھی سکول ٹائم کے بعد بھی ضرورت محسوس ہوتی کہ ابھی تیاری ہوسکتی ہے تو تمام لڑکوں کو اپنے گھر تیاری کیلئے بلا لیا کرتے۔

آخر کار مقابلہ کا دن آپہنچا اور پوری تحصیل میں ہم اول ٹہرے جس پر اساتذہ کی طرف سے خوب داد سمیٹی۔ مگر ابھی تو مرحلہ شروع ہوا تھا، کچھ دنوں بعد دوسرے شہر مقابلہ تھا ہم لوگ 2 موٹرسائیکلوں پر سخت دھند میں گھروں سے نکلے اور مقابلہ کیلئے حکیم صاحب کے ہمراہ وقت سے کچھ 30 منٹ پہلے پہنچ گئے۔ میں چونکہ موٹرسائیکل ڈرائیور تھا تو کانپ کانپ کے برا حال ہورہا تھا، اور ساتھ ساتھ دعا کررہا تھا کہ خدا کرے مقابلہ سے پہلے پہلے میں نارمل ہوجاؤں۔

اس دفعہ مقابلہ میں ہماری دوسری پوزیشن ٹہری کیونکہ یہ پورے ضلع کا مقابلہ تھا، ہمارے باقی ساتھیوں کا سفر یہاں تمام ہوا۔ اب ہم بورڈ کے مقابلہ کیلئے کوالیفائی کرچکے تھے، بورڈ کے امتحان والے دن معلوم ہوا کہ وہاں ہم صرف سفید رنگ کی شلوار قمیض میں ہی مقابلہ میں حصہ لے سکتے ہیں اب یہ نئی مصیبت تھی کیونکہ میرے پاس کوئی سفید شلوار قمیض نہیں تھی۔

مگر اللہ کے حکم سے قد میرا بڑا تھا جس بنا پر ماموں کی شلوار قمیض مل گئی اور وہ پہن کر ملنگ بن کر ہم مقابلہ کیلئے پہنچے۔ اب یہاں ہمارے ساتھ بے ایمانی کی گئی اور سازش کے تحت ہمیں مقابلہ سے باہر کردیا گیا۔ حکیم صاحب نے اس پر خوب شور مچایا مگر کسی نے ایک نہ سنی کیونکہ پوزیشنز پہلے سے ہی فیصل آباد کے مقامی سکولز میں تقسیم ہوچکی تھیں۔ اب ہم دلبرداشتہ ہوکر واپس لوٹ آئے مگر الحمدللہ اپنے سکول میں بہترین عزت افزائی کی گئی۔

 
اور سچ فی البدیہہ تقریر تو بتانا بھول ہی گیا، وہ ہوا کچھ یوں کہ ہم نے حاضریں کے سامنے آج تک تقریر نہ کی تھی اس وجہ سے جب مقابلہ میں تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تو لوگوں کو دیکھتے ہی ہاتھ پاؤں پھول گئے اور ہم اپنی ساری تیاری بھول گئے۔ جس پر حکیم صاحب نے ذرا بھر نا ڈانٹا بلکہ اگلے سال کیلئے دوبارہ تیاری کیلئے حوصلہ مزید بڑھایا۔
آج الحمدللہ بہت بڑے بڑے اجتماعات میں تقریر کا موقع ملتا رہتا ہے، ہزاروں کے مجمع میں بھی گھبراہٹ چھو کر بھی نہیں گزرتی تب اپنے اساتذہ کا مجھ پر کیا گیا احسان یاد آتا ہے۔

بے شک میرے استاد نے میرے ہنر کو پہچان کر میری شخصیت کو مضبوط کیا تھا، اور آج الحمدللہ اپنے ہی سکول میں بھی تقریر کا موقع ملتا ہے تو دل خوشی سے شاد ہوجاتا ہے، کہ یہی میرے استاد جن کی بدولت اللہ نے اس قدر عزت سے نوازا ہے، آج ان کے سامنے تقریر کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
بے شک میرے استاد میرے محسن ہیں جنہیں معلوم تھا کہ پرائیویٹ ادارے میں غیر نصابی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دی جاتی، جس وجہ سے میں ضائع ہوجاؤں گا، اس لیئے انہوں نے مجھے ضد کے باوجود کہیں جانے نہیں دیا۔ اور انہوں نے میری شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔
سلام استاد آپ کی عظمت کو

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Salam mere mohsin is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 05 October 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.