شام اور ایران کی ایٹمی تنصیبات اور اسرائیل

(IAEA) کے کیمرے ایرانی ری ایکٹر ز کی روزانہ لاکھوں تصاویر لیتے ہیں 6 ستمبر 2007ء کی رات اسرائیلی جیٹ طیاروں نے دیر الزور کا ایٹمی ری ایکٹر تناہ کر دیا

ہفتہ مئی

shaam aur Iran ki atomi tansibat aur Israel
محسن فارانی
اسرائیل اب تک انکاری تھا کہ 2007ء میں شام کے ایٹمی ری ایکٹر کی تباہی میں اس کا ہاتھ تھا لیکن 21 مارچ 2018ء کو اس نے پہلی بار تسلیم کر لیا کہ مشتبہ شامی نیوکلیئر ری ایکٹر پر ٹاپ سیکرٹ فضائی حملہ صہیونی ریاست ہی کا کارنامہ تھا۔ اس سے پہلے دیگر ذرائع سے اس اسرائیلی جارحانہ کارروائی کی خبریں آتی رہی تھیں مگر اسرائیل نے اس رسمی طور پرکبھی تسلیم نہیں کیا تھا۔

اب اسرائیل کے وزیرانٹیلی جنس کے مجرمانہ اعتراف کے ساتھ اس حملے کے متعلق نیا ڈی کلاسیفائڈ (غیرخفیہ مواد) جاری کیا گیا ہے اور تل ابیب کی طرف سے اسے ایران کے خلاف وارننگ قرار دیا جارہا ہے جس کا شام میں فوجی اڈا بھی اسرائیل کی نظروں میں ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامینن نیتن یاہو بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین 2015ء معاہدہ ترمیم کا محتاج ہے یا اسے مکمل طور پر منسوخ کر دیا جائے۔

(جاری ہے)

دوسری طرف ”گریٹر اسرائیل“ یعنی اسرائیل کے لا ابالی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ماہ نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد کہہ چکے ہیں کہ 12 مئی تک ایران کے ساتھ معاہدہ ”فکس“ کیا جائے ورنہ امریکہ اس معاہدے سے نکل جائے گا جبکہ واشنگٹن کے یورپی اتحادیوں میں سے جرمنی ، فرانس اور روس اس معاہدے کی پاسداری کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے اعتراف جرم کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع ایویڈورلائبرمین نے فخریہ کہا ہے کہ ”ہماراشام کی ایٹمی تنصیبات کوتباہ کر دینا شرق الاوسط میں ہر ایک کے لئے ایک پیغام ہے“ اسرائیلی جاسوسوں کے ہاتھوں کوالا لمپور میں فلسطین سکالر اور اس کے رکن فادی محمد البطش کی کوالا لمپور (ملائشیا) میں شہادت اسرائیل کے انہی ابلیسی عزائم کا شاخسانہ ہے۔


 اسرائیل کے انٹیلی جنس منسٹر یسرائیل کاٹز نے اپنے وزیر دفاع کے بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کبھی اجازت نہیں دے گا کہ ایران جیسے ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہوں جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔ وہ مواد جواب ڈی کلاسیفائی (غیر خفیہ ) کیا گیا ہے اس میں اسرائیلی حملے کی فوٹیج اور ہدف کے بارے میں خفیہ آرمی انٹیلی جنس کا جاری کردہ بیان شامل ہیں۔

تصاویر میں نیوکلیئر ری ایکٹر کی عمارت حملے سے پہلے اور حملے کے بعد اس کاملبہ دکھائے گئے ہیں۔ ایک اسرائیلی فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی شام میں دیرالزور کے علاقے میں صحرائی مقام پر حملہ اس لئے کیا گیا تھا کہ وہاں ایک ایٹمی ری ایکٹرزیر تعمیر تھا جبکہ حکومت شام کا کہنا تھا کہ وہاں کوئی ایٹمی ری ایکٹر تعمیر نہیں کیا جارہا تھا۔

اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ” 5 اور 6 ستمبر 2007ء کی درمیانی رات اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا جیٹ طیاروں نے شامی نیو کلیئر ری ایکٹر پر کامیاب حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا جبکہ وہ زیر تعمیر تھا۔ وہ مکمل ہونے کے قریب تھا۔ اس کامیاب آپریشن سے اسرائیل اور پورے خطے کو لاحق خطرے ‘یعنی شامی نیوکلیئر صلاحیت کا صفایا کر دیا گیا۔یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ خود اسرائیل ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور اس کی ایٹمی تنصیبات اور ایٹم بموں کا ذخیرہ پوری عرب دنیا اور عالم اسلام کے لئے خطرہ ہیں مگراسرائیل کی پشتیبان امریکہ اوریورپی طاقتوں اور یہود و نصاری کی لونڈی اقوام متحدہ نے اس سنگین خطرے سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں مگر اسلامی ممالک کے ایٹمی پروگرام ان کی نگاہوں میں خار بن کرکھٹکتے ہیں۔


اسرائیل کے شامی ایٹمی تنصیب پر حملے کے اگلے سال 2008ء میں امریکی حکام نے شام پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایک خفیہ نیوکلیئر ری ایکٹر تیار کرنے میں کوشاں رہا ہے۔ جسے اسرائیل نے حملے میں تباہ کر دیا۔ پھر امریکہ کے ایک اٹا مک واچ ڈاگ ( ایٹمی نگران کتا) نے 2011ء میں اعلان کیا کہ شامی سائٹ کے بارے میں غالب امکان ہے کہ وہ ایک ایٹمی ری ایکٹر تھا اور فراہم شدہ اطلاعات
سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی مدد سے تعمیر کیا جا رہا تھا۔

ادھر اسرائیل نے اپنے حالیہ انکشافات میں کہا ہے کہ حساس سکیورٹی صورت حال کے باعث اس حملے کے بارے میں راز داری رکھنا ضروری تھا کیونکہ اس سے جنگ چھڑ جانے کا امکان تھا۔ اسرائیل نے اپنی اس جارحانہ کارروائی کے جواز میں بعد کی صورتحال کا ذکر کیا ہے۔ کہ کسی طرح داعش کے جنگجووٴں نے شامی خانہ جنگی کے دوران میں دیرالزور کے بیشتر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور شامی صدر بشار الاسدنے ماضی میں اور حال ہی میں اپنے عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعال کئے ہیں۔

’آپریشن آرچرڈ“ کے نام سے اسرائیل کے مذکورہ حملے کی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی خفیہ آپریشن تھا جس کی تفاصیل بہت کم افراد کے علم میں تھیں۔ اس حملے میں امریکہ کے فراہم کردہ ایف 16 اور ایف 15 طیارے استعمال ہوئے تھے اور یہ آپریشن 5 ستمبر 2007ء کو رات 10:30 بجے شروع ہوا تھا اور اسرائیلی طیارے اگلے دن 2.30 بجے واپس آ گئے تھے۔ اسرائیل کی عرب ممالک کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔

مصر اور عراق کے کئی ایٹمی سائنسدان یہودی ایجنٹوں نے فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں خفیہ کاروائیاں کر کے شہید کر دیے تھے۔ اسرائیلی جاسوسوں کی ایسی کارروائیاں اوریورپی مسیحی ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے بروئے کار لائی جاتی تھیں۔1970ء کی دہائی میں جب سوویت روس نے عراق کو مگ لڑاکا طیارے دیے تو ایک عراقی مسیحی پائلٹ کو اسرائیلی خفیہ اینی موساد نے اس طرح ہموار کیا کہ وہ ایک عراقی مگ طیارہ اڑا کر اسرائیل لے گیا تھا۔

ایک عراقی ایٹمی سائنسدان پیرس کے ایک ہوٹل میں پراسرار طور پر مردہ پایا گیا تھا۔2016ء میں ایک تونسی فلسطینی محمد الزواری کو جوڈرون سپیشلسٹ تھا، صفاقس شہر میں اسرائیلی ایجنٹوں نے شہید کر دیا۔ جہاں تک ایران کے جوہری معاہدہ( 2015ء ) کا تعلق ہے، اقوام متحدہ، روس، چین اور یورپی یونین کے مطابق ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے مگر امریکہ اور اسرائیل الزام لگاتے رہتے ہیں کہ ایران معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بدستور یورانیم کی افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکہ کی دھمکیوں کے جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے 24 اپریل2018ء کو اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دی ہے کہ وہ جوہری معاہد ے میں شامل رہیں ور نہ انہیں بھیا نک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ایرانی ٹی وی پر براہ راست خطاب میں کہا کہ میں وائٹ ہاوس میں موجو شخصیات سے کہہ رہا ہوں کہ اگر انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو حکومت ایران پورے عزم کے ساتھ حرکت میں آئے گی۔

علاوہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف ایک امریکی ہفت روزہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں کوئی نئی شرط نہیں عائدی جاسکتی اور نہ اس میں ردوبدل ہوسکتا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(IAEA) بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا ہیڈ آفس وی آنا (آسٹریا) میں ہے، اس کے ہیڈ کوآرڈینیٹرکورنیل سیوراتا نے کہا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے کی زمہ داریاں نبھائی ہیں جبکہ غیرملکی میڈیا کے مطابق آئی اے ای اے کے نگران کیمروں کے ذریعے سے روزانہ لاکھوں کی تعداد میں تصاویر کھینچی جاتی ہیں اور ہر ماہ مختلف ذرائع سے معلومات یکجا کر کے ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے پھر بھی واشنگٹن کی ایرانی ایٹمی پروگرام کے بارے میں تسلی نہیں ہوتی ہاں یہودنواز واشنگٹن کو اسرائیلی ایٹمی ذخیرے کے متعلق کامل تسلی ہے۔

دریں اثنا صدر فرانس عمانوایل میکغوں نے واشنگٹن میں 25 اپریل کو امریکی کانگرس کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لئے ہر اقدام کیا جائے گا۔ ادھر صدرٹرمپ ایرانی معاہدے کو ”پاگل پن“ اور مضحکہ خیز قرار دے چکے ہیں کیونکہ” اس کی پابندیاں 2025ء میں ختم ہونی شروع ہو جائیں گی“ اسی لیے فرانسیسی صدر نے امریکی کانگریس میں اعلان کیا ایران کبھی نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھے گا۔

نہ پانچ سال میں، نہ دس سال میں۔۔۔ کبھی نہیں !“
 3 مئی کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو کوئٹرس نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایران سے کیے جانے والے بین الاقوامی جوہری معاہدے سے نہ نکلے ورنہ جنگ کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے جبکہ حکومت ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی الزامات جھوٹے ہیں اور جوہری معاہدے سے امریکہ کی ممکنہ دستبرداری پر ہم بھی ڈیل ختم کردیں گے۔ ادھر جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ جر منی ڈیل پر قائم ہے اور اسرائیل ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق رپورٹ (IAEA)سے شیئر کرے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

shaam aur Iran ki atomi tansibat aur Israel is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 12 May 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.