سندھ کی سیاسی بساط

تبدیلیوں کا فیصلہ ”شاطر“ کب کرے گا؟ حکومت مخالف اتحادوں کی خبروں نے سیاسی حلقوں کو چونکا دیا ہے۔ ابھی پیرپگاروکی زیر قیادت الائنس کی خبریں پرانی نہیں ہوئی تھیں کہ گنے کے آبادگاروں کے اتحاد اور سندھی قوم پرستوں کے اکٹھے ہونے کی اطلاعات سامنے آگئیں

ہفتہ جنوری

Sindh Ki Siyasi Basaat
الطاف مجاہد:
حکومت مخالف اتحادوں کی خبروں نے سیاسی حلقوں کو چونکا دیا ہے۔ ابھی پیرپگاروکی زیر قیادت الائنس کی خبریں پرانی نہیں ہوئی تھیں کہ گنے کے آبادگاروں کے اتحاد اور سندھی قوم پرستوں کے اکٹھے ہونے کی اطلاعات سامنے آگئیں اور بعض حلقوں کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ ی دونوں الائنس آگے چل کر گرینڈ الائنس کا حصہ بھی بن جائیں گے۔

سوال یہ پیدا ہو رہاہے کہ پہلے سے اس اتحاد میں موجود سائیں جلال محمود شاہ اور ایاز لطیف پلیجو کی موجودگی کے بعد قادر مگسی ،صنعان قریشی یا دیگر قوم پرستوں کی شمولیت سے مزید کیا استحکام آئے گا؟ سندھ کی سیاست پر نگاہ رکھنے والوں کاکہنا ہے کہ محض پی پی پی حکومت کی مخالفت میں قائم اتحاد سے حکمران جماعت کو تقویت ہی ملے گی کسی ایجنڈے ، منشور یا پھر صوبے کے سلگتے ایشوز پر گفتگو کی بجائے محض حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بنانے کا مقصد یہی سندھ کی سیاست میں کچھ اور ہی لیا جائے گا۔

(جاری ہے)

سندھ متحدہ محاذ سے ایس این اے اور سپنا تک جبکہ متحدہ جمہوری محاذ سے ماضی کے سندھ ڈیمو کریٹک الائنس کی تشکیل تک کے عوامل تلاش کئے جائیں تو ٹارگٹ پی پی پی ہی تھی۔ لیکن اپنے قیام کے 46 برس بعد بھی صوبے کے شہروں اور دیہات میں پی پی پی کا متبادل تلاش نہیں کیا جاسکا ہے۔ گوکہ اس عرصے میں پی پی پی کی مشکلات بڑھی ہیں اور ووٹ بنک گھٹا ہے لیکن سندھ کے دیہی سماج میں کرپٹ بیوروکریسی اور اقتدار پسند وڈیرے کی موجودگی کے باعث حالات میں کسی تبدیلی کی توقع عبث ہے۔

سندھ کی سیاست میں ایک بھونچال آصف علی زرداری کے بہنوئی اور فریال تالپور کے شوہر میر منور تالپور کے خلاف احتسابی کارروائی پر بھی سامنے آیا ہے جس پر پی پی پی برہم ہے اور وہ اسے انتقامی عمل سے تعبیر کرتی ہے۔ رینجرز کے اختیارات کا تنازعہ بھی اپنی تمام ترشدت کے ساتھ وفاق اور صوبہ کے معاملات پر اثر انداز ہو رہاہے۔ رینجرز کے چھاپے، گرفتاریوں اور کارروائیاں اب بھی جاری ہیں جو وفاق کے دئیے گے اختیارات کے تحت اسے حاصل ہیں۔

ایسے میں پی پی پی مخالف گرینڈ الائنس کا قیام اس لیے ایک مشکل مرحلہ ہو سکتا تھا لیکن یپر پگاروکی زیر صدارت اجلاس میں شریک مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف نے ابتدائی مرحلے پر شمولیت سے معذرت کر لی۔ لیکن ن لیگ میں شامل ارباب غلام رحیم ،ممتاز بھٹو، ظفر علی شاہ اور غلام مرتضیٰ جتوئی اس اتحاد کا باضابطہ حصہ ہے۔ مسلم لیگ ن اس اتحاد کا حصہ بننے سے کیوں گریزاں ہے؟ اس معاملے پر مسلم لیگ ن کے اسماعیل راہو نے ،جوپارٹی کے صوبائی صدر بھی ہیں۔

موقف اختیار کیا کہ پہلے ایجنڈا ،قواعد وضوابط اور مقاصد طے کیا جائیں جو ہم مرکزی قیادت کو بھیجیں گے اور اگر منظوری ملی تو شمولیت کا فیصلہ کریں گے اور یہ بھی کہ اتحاد میں شمولیت کا طریق کار کیا ہے ؟ اس وقت شمولیت کا معیار کیا ہے اور آئندہ کن ضوابط کے تحت جماعتوں کو شامل کیاجائے گا؟ اس اتحاد میں شامل ممتاز بھٹو ،ارباب غلام رحیم اور ممتاز بھٹو کے فیصلے سے متعلق سوال پر ان کا جواب تھا کہ یہ لوگ ماضی میں بھی آزادانہ فیصلے ذاتی حیثیت میں کرتے رہے ہیں۔

البتہ اجلاس میں مسلم لیگ ن کا وفد میری سربراہی میں شریک تھا اور اس میں سینیٹر نہال ہاشمی، شاہ محمد شاہ، حکیم بلوچ ، شفیع جاموٹ اور اعجاز شیرازی شامل تھا۔ سندھ میں قیادت کی تبدیلی کے سب سے بڑے خواہش مند علی قاضی نے حالیہ اتحاد کو ”راجوانی“ یعنی باثر افراد کے اتحاد سے تعبیر کیا ہے۔ اس حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ گرینڈ الائنس کوئی متبادل سیاسی اتھاد نہیں بلکہ یہ ایسا انتخابی اتحاد ہے جو مڈٹرم الیکشن یا الیکشن 2018 سے قبل ہوم ورک کا خواہاں ہے کیونکہ الیکشن 2013 سے قبل تشکیل دیا گیا انتخابی اتحاد وہ اہداف حاصل نہیں کر سکا تھا جس کی انہیں توقع تھی۔

اسی دوران سندھ کابینہ کے ایک رکن میر ہزار خان بجارانی نے استعفیٰ دے دیا، وہ سندھ کابینہ میں شامل تھے لیکن وزیر بے محکمہ تھے۔ چند ماہ قبل انہیں تعلیم کا محکمہ الاٹ ہوا تھا جو بوجوہ انہوں نے قبول نہیں کیا کہ سیکرٹری تعلیم اللہ پیچوہو رشتے میں آصف علی زرداری کے بہنوئی اور ممبر نیشنل اسمبلی ڈاکٹر عذرا کے شوہر ہیں۔ سندھ کے اساتذہ ان کی برطرفی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں ۔

میرہزار خان بجارانی کے حامیوں کا موقف ہے کہ ایک طرف سنیئر وزیر مراد علی شاہ ہیں جن کے پاس پلاننگ ،آب پاشی ،خزانہ اور توانائی کے قلم دان ہیں تو گیان چند ایسرانی کے پاس ایکسائز ،جنگلی حیات، جنگلات اور اقلیتی امور کے محکمے ہیں۔ جام خان شورو کے پاس بلدیات ،فشریز اور لائیواسٹاک کی وزارتیں ہیں اور وزیر داخلہ سہیل انور سیال کوجیل خانہ جات اور اینٹی کرپشن کا قلمدان بھی سونپا گیا ہے۔

اس منظر نامے میں میر ہزار خان بجارانی کو محکمہ سے محروم رکھنا کسی طور مناسب نہ تھااور اب ان کا فیصلہ صوبے میں حکومت کی پالیسیوں سے ناراض افراد کا حوصلہ بڑھائے گا لیکن بہت سے لوگوں کو یاد ہے کہ میر ہزار خان بجارانی نے 96ء میں بھی پی پی چھوڑ کر پی پی(ش ب) جوائن کی تھی۔لیکن بعد میں وہ دوبارہ پی پی میں شامل ہو گے تھے۔الیکشن 2013 کے بعد ان کا نام ممکنہ وزیراعلیٰ کے طور پر لیا جارہا تھا لیکن قرعہ فال سید قائم علی شاہ کا نکلا۔

کیا پی پی پی مخالف اتحاد میں شامل میر ہزار خان بجارانی کے دوست انہیں اپنی سمت لانے کی حکمت عملی اختیار کریں گے ؟ یا ناراضی کے باوجود میر ہزار خان بجارانی پی پی کا حصہ ہی رہیں گے؟ یہ بات ابھی واضح نہیں لیکن سندھ کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کے خواہش مندبہت سے آپشنز سامنے رکھے ہوئے ہیں۔ پہلا مرحلہ تحریک عدم اعتماد کا ہے جو وہ ٹیسٹ کیس کے طور پر اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف لانا چاہتے ہیں کہ سیکرٹ بیلٹنگ میں شاید وہ پانسہ پلٹ دیں لیکن بات پھر وہی ہے کہ مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کی رضا مندی اور معاونت کے بغیر پیرپگاروکی فنکشنل لیگ شاید ہی کسی تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کراسکے۔

ویسے بھی آغا سراج درانی کہتے ہیں کہ یہ اتحاد پیرپگارہ کے خلاف سازش ہے جس ے وہ ان سے ملاقات کر کے واضح کریں گے۔ بہرحال سندھ میں سیاسی سطح پر گرما گرمی ہے اور اہم فیصلے بھی متوقع ہیں کب تک؟ یہ فیصلہ مہرے نہیں کریں گے بلکہ شاطر کرے گا۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Sindh Ki Siyasi Basaat is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 23 January 2016 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.