سندھ مسلم لیگ (ن) میں انقلاب

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیر اعلی پنجاب کے دورہ کراچی کے بعد مسلم لیگ سندھ میں انقلاب آ گیا اور مسلم لیگ سندھ کی پوری قیادت کو تبد یل کر کے نئے عہدے داروں کو نامزد کر دیا گیا

بدھ مئی

Sindh muslim league N mein inqilab
شہزاد چغتائی
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیر اعلی پنجاب کے دورہ کراچی کے بعد مسلم لیگ سندھ میں انقلاب آ گیا اور مسلم لیگ سندھ کی پوری قیادت کو تبد یل کر کے نئے عہدے داروں کو نامزد کر دیا گیا جس کا مقصد مسلم لیگ کو سندھ اور کراچی میں فعال کرنا اور آئندہ الیکشن کے لئے پارٹی کو مستحکم کرناہے۔ شہباز شریف کی کراچی آمد پر ہی مسلم لیگ (ن) کے اختلافات نمایاں ہو گئے تھے۔

جب مسلم لیگ سندھ کے صدر بابو سرفرازجتوئی کو گورنر ہاوٴس کے باہرتپتی دوپہر میں کھڑا کر دیا گیا شہباز شریف کی روانگی کے چار روز بعد بابو سرفراز جتوئی پر برق گرائی گئی ان کی جگہ سندھ کی ڈرائیونگ سیٹ شاہ مجھے شاہ کے حوالے کر دی گی۔ شاہ محمد شاہ پہلے مسلم لیگ سندھ کے جنرل سیکرٹری تھے ان کی جگہ سلیم ضیاء کو جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

بابو سرفراز جتوئی کارنر کر دیئے گئے۔ مسلم لیگ سندھ کی قیادت کی تبدیلی کا عموی طور پر خیر مقدم کیا گیا ‘مسلم لیگ سندھ کے رہنمااعظم لوہانی نے شاہ محمد شاہ اور سلیم ضیاء کو مبارکباد دی۔ مسلم لیگ کے بزرگ رہنما اقبال خاکسار کہتے ہیں کہ شہباز شریف مسلم لیگ (ن) میں گروپنگ سے سخت نالاں ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دورے میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جب تک مسلم لیگ میں اختلافات ختم نہیں ہوں گے وہ کرا چی نہیں آئیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شہباز شریف کی آمد کے موقع پر مسلم لیگ (ن) ایک نہیں کئی گروپوں میں تقسیم دکھائی دی۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر بابوسر فراز جتوئی کی بے چارگی دیکھی نہیں جاتی
تھی۔ اس سے قبل جب پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود کراچی آ ئے تھے تو بابو سر فراز جتوئی منظر سے تقر یبا آؤٹ دکھائی دیئے تھے ۔گورنر ہاوٴس میں دوسرا گروپ چھاپا رہا۔ مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کنونشن میں خواتین کی بڑی تعداد موجودتھی پارٹی کے صدر شہباز شریف کا کارکنوں نے دو گھنٹے تک بڑے تحمل سے انتظار کیا جب شہباز شریف پنڈال میں داخل ہوئے تو کارکنوں کا جوش و خروش عروج پر تھا۔

وہ کرسیوں پر کھڑے ہو گئے‘ تالیاں بجائیں اور نعرے بازی کی۔ کارکنوں نے مسلم لیگ کے پرچم بھی لہرائے۔ شہبازشریف کی تقریر کے دوران بھی زبردست نعرے بازی کی گئی۔ پورا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ شہباز شریف نے آصف زرداری اور عمران خان کو ایک تھالی کے چٹے بٹے قرار دیا۔ شہباز شریف سے دن بھر ملاقات کرنے والے وفود گورنر ہاوٴس میں پریس کا نفرنس کرتے رہے۔

ان کے ہمراہ وفا قی وزیر مشاہد اللہ خان ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ سب سے آخر میں شہباز شریف نے پریس کانفرنس کی۔ جب شہباز شریف سندھ کے مختلف وفود سے بات چیت کر رہے تھے تو (ن) لیگ سندھ کے صدربابو سرفراز جتوئی باہر کھڑے تھے۔ ایک صحافی نے مشاہد اللہ خان سے سوال کیا کہ آپ سندھ کے مسائل حل کرنے آئے ہیں اور مسلم لیگ سندھ کی قیادت کو باہر کھڑا کیا ہوا ہے۔

دورہ کراچی کے موقع پر شہباز شریف کی پیر پگارا سے ملاقات نہیں ہوسکی حالا نکہ شہباز شریف اور پیر پگارا ایک دوسرے سے ملنا چاہتے تھے۔ پیر پگارا نے کہا کہ شہبازشریف چائے پینے آئے گے تو خوشی ہو گی ۔لیکن شہباز شریف کا پروگرام تبدیل ہو گیا اور انہوں نے دورہ مختصر کر دیا۔ پہلے شیڈول میں ان کی پیرپگارا سے ملا قا ت طے تھی۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی آمد پر ایم کیو ایم کی وکٹیں گرنے کا عمل تیز ہو گیا اور ایم کیوایم کے سابق اور مولانا تنویرالحق تھانوی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے تو رکن صوبائی اسمبلی سمیتا افضال پاک سرزمین پارٹی کا حصہ بن گئیں۔

ایم کیو ایم کے دوسرے ارکان اسمبلی بھی پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ پہلے ایم کیوایم فاروق گروپ اور ایم کیوایم خالد مقبول گروپ ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے لیکن گزشتہ اتوار کوپاک سرزمین پارٹی اور ڈاکٹر فاروق ستارکے درمیان کشیدگی عروج پرپہنچ گئی۔ اس دن کراچی میں پریس کانفرنسوں کا سیلاب آ گیا۔ سب سے پہلی پریس کانفرنس ڈاکٹر فاروق ستار نے صبح5 بجے گھر کے سامنے سڑک پر کی۔

پی آئی بی گروپ کی جانب صبح 4بجے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو پیغامات جاری کئے گئے کہ فاروق ستار 5 بجے پریس کانفرنس کریں گے۔ اس طرح یہ پاکستان کی سیای تاریخ کی پہلی پریس کا نفرنس تھی جو کہ 5بجے ہوئی۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین 7 بجے پریس کا نفرنس کر چکے ہیں۔ الطاف حسین درجنوں بارصبح5ے اور 7 کے خطاب بھی کر چکے ہیں لیکن صبح 5بجے انہوں نے بھی پریس کانفرنس نہیں کی۔

ادھر پیپلز پارٹی بتدیج اسٹیبلیشمنٹ کی آنکھوں کا تارا بنتی جارہی ہے لیکن پیپلز پارٹی پرتلوار بھی لٹک رہی ہے۔ قومی سیاست میں ہونے والی ڈرامائی تبدیلیوں کے بعد سیاستدان بہت زیادہ الجھ گئے اور فیصلہ سازی سے گریز کررہے ہیں جو سیاستدان پیپلز پارٹی سے اڑان بھرنا چاہتے ہیں۔ ان کی مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں۔ سندھ میں معاملات بہت زیادہ گھمبیر ہیں‘ جہاں گرینڈ ڈیمو کر یٹک الائنس اور پیپلز پارٹی دونوں ابہام کا شکار ہیں۔

گرینڈ ڈیمو کر یٹک الائنس کے بعض رہنما خود کلامی میں یہ سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ جب پیپلز پارٹی کو آگے لانا تھا تو ہم سے بڑے بڑے جلسہ عام کے لئے تیار نہیں۔ مہر قبیلے کے سربراہ علی گوہر شاہ سے پیر پگار کی ملاقات نے سندھ کے سیاسی سکوت کو توڑ ڈالا اور سندھ کی سیاست میں بھونچال آ گیا۔ کنگری ہاؤس بتدریج سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جارہا ہے۔

فنکشنل مسلم لیگ کے ذرائع نے بہت پہلے دعویٰ کیا تھاکہ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی سے ہمارے رابطے قائم ہیں‘ اس بات کی تصدیق پیر پگارا اور سردار مہر کی ملاقات سے ہوگئی۔ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے سردارعلی گوہر مہر اور پیر پگارا کی ملا قات کو معمول کا رابطہ قرار دیا اور کہا اس ملاقات سے پیپلز پارٹی کو کوئی تشویش نہیں۔ لاہور میں پیر پگارا کا مشن اس وقت کامیاب ہو گیا ۔جب منقسم مسلم لیگ اتحاد کی جانب بڑھنے گی۔ پیر پگارا اور چوہدری شجاعت کی ملاقات اور ایک پلیٹ فارم مسلم لیگیوں کیلئے خوشجری اورمتحدہ مسلم لیگ کے قیام کیلئے ایک سنگ میل ہے۔ مسلم لیگ کے دوقد آور رہنماوٴں کا مشن کامیاب ہونے کے امکانات ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Sindh muslim league N mein inqilab is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 02 May 2018 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.