یوم جمہوریہ پر بھارت کے چہرے پر کالک

ساری دنیا نے دیکھا کہ کشمیریوں نے کس طرح بھارت کے چہرے پر کالک مل دی ہے۔ یہ بھارت کا یوم جمہوریہ تھا، کشمیری ہر سال یہ دن یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، اس یوم جمہوریہ پر بھی کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا اور اس انداز سے منایا کہ پوری ریاست جمو ں و کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن کی کیفیت تھی، سڑکوں ، بازاروں اور گلیوں میں سناٹا تھا، صرف بھارتی فوجی ٹرکوں کا شور تھا۔

جمعرات جنوری

Yom e Jamhooria Par Bharat K Chehray Par Kalak
اسد اللہ غالب:
ساری دنیا نے دیکھا کہ کشمیریوں نے کس طرح بھارت کے چہرے پر کالک مل دی ہے۔ یہ بھارت کا یوم جمہوریہ تھا، کشمیری ہر سال یہ دن یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، اس یوم جمہوریہ پر بھی کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا اور اس انداز سے منایا کہ پوری ریاست جمو ں و کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن کی کیفیت تھی، سڑکوں ، بازاروں اور گلیوں میں سناٹا تھا، صرف بھارتی فوجی ٹرکوں کا شور تھا۔

حریت کانفرنس کے سربراہ سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت جب تک کشمیریوں کے جمہوری مطالبات تسلیم نہیں کرتا اورا سکی فوج کاآ خری سپاہی بھی ریاست سے نکل نہیں جاتا ، تب تک بھارت کو یوم جمہوریہ منانے کا حق حاصل نہیں ہے اور دنیا کو بھی اس کے جمہوریت کے علم بردار ہونے کے دعوے کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔

(جاری ہے)

کیا ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف بھارت اپنے آپ کو سب سے بڑی جمہوریت قراردیتا ہے اور دوسری طرف لاکھوں کشمیریوں کے جمہوری حقوق غصب کئے بیٹھا ہے اور وہ بھی سات آٹھ لاکھ فوجی طاقت کے بل پر۔

اور اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ فرانسیسی صدر اولاندے نے اس یوم جمہوریہ میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی، اس طرح وہ بھی ایک غاصب ملک کو تقویت دینے کا باعث بنے ہیں۔فرانس اور دیگر مغربی ممالک جمہوریت کا ڈھنڈورا بہت پیٹتے ہیں مگر عملی طور پر ان کا اپنا کردار اس سے قطعی طور پر لگا نہیں کھاتا۔اولاندے کی آنکھیں اور کان اگر کھلے ہوں تو انہیں کشمیریوں کے احتجاج کی خبر ضرور ملنی چاہئے تھی۔

بھارت کے لوگ دوسروں کے منہ پر کالک مل کر فخر محسوس کرتے ہیں، انہوں نے ہمارے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کے میزبان کا منہ کالا کیا ور ایک کشمیری رکن اسمبلی کا منہ بھی کالا کیا مگر کشمیریوں نے ایک ہی روز میں سارے بدلے اتار لئے اور ایسا احتجاج کیا کہ دنیا کے سامنے بھارت کا سیاہ چہرہ نمایاں ہو گیا۔پاکستان شروع دن سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔

پاکستان نے اب تک کئی جنگیں صرف کشمیر کی خاطر لڑی ہیں اور دنیا کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی تصادم ہوتا ہے تو یہ ایٹمی تباہی پر منتج ہو سکتا ہے۔بر صغیر کے سوا ارب انسانوں کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔اس خطبرے کو ٹالنے کے لئے بھارت ا ور پاکستان پر عالمی دباؤ ہے کہ وہ آمنے سامنے بیٹھ کر پر امن مذاکرات کے ذریعے باہمی اختلافات کا حل تلاش کریں ، پاکستان نے ان مذاکرات کا ہمیشہ خیر مقدم کیا مگر بھارت کسی نہ کسی بہانے مذاکرات سے فرار کی راہ اختیار کر لیتا ہے، اب بھی مودی کی پاکستان آمد کے بعد یہ توقع پیدا ہوئی کہ دونوں ملکوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا،اس کے لئے تاریخ بھی طے ہو گئی تھی مگر پٹھانکوٹ کے ڈرامے نے ساری بازی الٹ کر رکھ دی۔

کشمیر کا تنازعہ کیا ہے۔تقسیم ہند اور آزادی کے ایجنڈے کی رو سے کشمیر کو مسلمان اکثریتی ملحقہ ریاست ہونے کے ناطے پاکستان کا حصہ بننا تھا مگر ریاست کے غیر مسلم حکمران نے بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا اور بھارتی فوج نے جارحیت کر کے ریاست پر جبری قبضہ جما لیا۔اس سے پاک بھارت جنگ چھڑ گئی جس پر بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو سلامتی کونسل جا پہنچے ا ور سیز فائر کی بھیک مانگی۔

سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے استصواب کروایا جائے ا ور کشمیری عوام فیصلہ کریں کہ وہ کس کے ساتھ شامل ہونا پسند کرتے ہیں، وہ دن اور آج کا دن، بھارت نے یہ استصواب نہیں کروایا۔ بد قسمتی سے ان دنوں پاکستانی رائے عامہ کا ایک حصہ بھارت پر فریفتہ دکھائی دیتا ہے اور دوستی کے نام پر کشمیر کو پس پشت دھکیلنا چاہتا ہے۔

مگر اس وقت پاکستان میں ایک کشمیری وزیر اعظم ہیں، وزیر دفاع بھی کشمیری ہیں اور وزیر ریلوے بھی کشمیری،اور کئی سرکاری مناصب پر بھی کشمیری براجمان ہیں اسلئے توقع رکھنی چاہئیے کہ وہ کشمیریوں کی کاز کو فراموش نہیں کریں گے۔ دوسری طرف چین جیسا ہمارا قریبی ہمسایہ ا ور دوست بھی ہمیں یہ مشورہ دے رہا ہے کہ جس طرح اس نے ہانگ کانگ کی واپسی کے لئے پچاس برس تک انتظار کیا، اور تائیوان کی واپسی کے لئے وہ مزید انتظار کر رہا ہے، اس طرح پاکستان بھی وقتی طور پر کشمیر کو بھول جائے ا ور بھارت سے معمول کے تعلقات استوار کرے۔

مگر چین کوکون سمجھائے کہ ا س کا پالا بھارت جیسے عیار دشمن سے نہیں پڑا، اسلئے وہ انتظار جیسی عیاشی کا متحمل ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے ا س انتظار میں نہ صرف کشمیر سے ہاتھ دھو لئے بلکہ کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں کے پانی سے بھی محروم ہو گیا، سندھ طاس کا عالمی معاہدہ بھی پاکستان کے کام نہیںآ یا۔آج پاکستان کے وہ دریا بھی خشک پڑے ہیں جو اس معاہدے کی رو سے مکمل طور پر پاکستان کے تصرف میں ہونے چاہئیں تھے۔

ہماری وہ زمین جہاں ہری بھری فصلیں لہلہاتی تھیں ،اب وہاں خاک اڑ رہی ہے اور پاکستان ایک خوفناک قحط کے دہانے پر کھڑا ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں پاکستان نے کشمیر کی کنٹڑول لائن پر یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا مگر بھارت آئے روز اس کنٹرول لائن پر گولہ باری کر رہا ہے۔اسے پاکستان کی عالمی سرحد کے تقدس کا بھی احترام نہیں اور وہ شکر گڑھ اور نارو وال کے پاکستانی علاقوں میں بھی گولہ باری سے بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہا ہے۔

بھارت کی اس دست درازی کی بنا پر دونوں ملکوں میں جنگ کی نوبت آ سکتی ہے اور صاف ظاہر ہے کہ یہ جنگ روایتی نہیں ہو گی، ا سلئے کہ دونوں ملک ایٹم بموں سے مسلح ہیں اور میزائلوں کا بھی ایک ڈھیر ہے جو ان واحد میں پورے خطے کو خاکستر کر سکتا ہے۔ دوسری طرف بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، پچھلے تین عشروں میں ایک لاکھ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا ہے، یہ ایک منظم نسلی تباہی کا جرم ہے اور بھارت ڈنکے کی چوٹ پر اس کا ارتکاب کر رہاہے،کشمیری عوام کسی طور پر بھارت کی غلامی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ، پاکستان ان کی مدد سے ہاتھ اٹھا بھی لے تو پھر بھی کشمیری نوجوان بھارتی افواج کے خلاف صف آرا رہیں گے اور بھارت اس کے لئے ناحق پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا رہے گا۔

عالمی ضمیر پتہ نہیں کیوں مردہ ہو چکا ہے، مسلمانوں پر ہر جگہ عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے جس سے کرہ ارض پر جگہ جگہ فساد برپا ہے۔ ایک کشمیر کیا، عالم ا سلام کا ہر کونہ کشمیر کا منظر پیش کر رہاہے۔ بہر حال اگر کشمیر کا مسئلہ استصواب کے ذریعے حل ہونا ہے تو کشمیریوں نے بھارت کے یوم سیاہ پر استصواب کا نتیجہ سامنے رکھ دیا ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Yom e Jamhooria Par Bharat K Chehray Par Kalak is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 28 January 2016 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.