کینیڈین سوسائٹی۔ امیگرینٹ کی نظر میں

منگل 30 نومبر 2021

Farrukh Saleem

فرخ سلیم

کینیڈا ایک کثیرالثقافتی یعنی ملٹی کلچرل سوسائٹی ہے۔ ایک جائزہ کے مطابق یہاں کے 90  فیصد سے زیادہ لوگ یا تو خود امیگرنٹ ہیں یا انکے باپ دادا امیگرنٹ تھے۔ اس میں  اٹالین،جرمن،انگریز، فرانسیسی، ساؤتھ ایشین، عربی، چینی، جاپانی، کورین اور اسپینی وغیرہ سب ہی شامل ہیں  
مختلف ممالک سے ترکِ وطن کر کے آنے والے لوگ یقینا  مختلف رسم ورواج اورعادات و خصائل رکھتے رہے ہونگے لیکن  وقت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ آپس میں اس طرح گھل مل گئے کہ اب کینیڈین سوسائٹی کا اپنا ایک علیحدہ اور مجموعی تشخص  قائم ہو چکا ہے۔

بطور قوم آپ کینیڈین عوام میں خوش اخلاقی، بے تکلفی، دھیما پن اور قانون کے احترام  جیسی چیزیں  پائیں گے۔
 قانوناًیہاں  رنگ، نسل، مذہب، زبان اور ثقافت میں کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا۔

(جاری ہے)

یہاں ہر شخص کو اپنے اپنے مذہب کو اوراپنی مذہبی تقریبات کو منانے کی پوری آزادی ہے۔ ایسی آزادی کہ آپ کسی دوسرے کی آزادی میں خلل انداز نہ ہوں۔


٭کینیڈا امن وامان کے حوالے سے بھی ایک آئیڈیل ملک ہے، یہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ قانون مضبوط ہے اور اسکا نفاذ مضبوط تر۔ برطانیہ کی پولیس کو پوری دنیامیں انکی کارکردگی کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت حاصل ہے لیکن کینیڈاکی پولیس بھی کارکردگی کے حوالے سے کسی لحاظ سے کم نہیں ہے  اور شہریوں کی مدد کے لئے ہر وقت کمربستہ رہتی ہے۔  چھوٹے چھوٹے بچوں کو اسکول میں پولیس کا نمبر یاد کرایا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت حا ل میں پولیس انکی مددحاصل کرسکیں۔

اور پولیس انکی ٹیلیفون کال پر ان کی مدد کو آتی ہے۔ کسی بھی جانی خطرہ کی صورت میں یہاں ایمرجنسی امداد ملنے کے دورانیہ کا اوسط فقط آٹھ منٹ ہے۔  یوں تو قانون بھی بہت سخت ہے لیکن ویسے بھی ایک عام کینڈین  لڑائی جھگڑے اور  مارپیٹ  سے  دور ہی رہتا ہے۔ روز مرّہ کی زندگی میں آپ شاذہ نادر ہی  لوگوں کو آپس میں بر سرِپیکار یا گتھم گتھا  دیکھیں  گے
کینیڈا کے لوگ بے تکلًف لوگ ہیں، وہ آپ کو عموماً  آپکے پہلے نام سے پکارتے ہیں اور ملنے پر ہاتھ ملاتے ہیں۔

  یہ لوگ عمومی طور پر خوش مزاج،  مددگار، ایمان دار اور  با ا خلاق ہیں  اور میل ملاپ کے آ داب کا پوری طرح  خیال رکھتے ہیں۔ آپس میں بات کرنے کا بھی بہت شوق ہے۔  یہ لوگ  بات کرتے وقت   چہرے کے تاثرات، آوازکا اتار  چڑھاؤ، اور ہاتھ پاؤں کو بھی گفتگو کے   ساتھ ساتھ پوری طرح  متحرک رکھتے ہیں۔ آپ کو ایسا لگے گا کہ ہر شخص ایکٹنگ کر رہا ہے
 کینیڈ ین  قوم  دیگر  مغربی اقوام کی طرح  نظم و  ضبط کا بہت  خیال رکھتی ہے۔

چاہے وہ  بیینک کا کاؤنٹر ہو، کیش رجسٹر پر رقم  کی ادائیگی ہو، لاٹر ی کا ٹکٹ ہو،  غرض  ہر جگہ  لوگ آپ کو قطا ر بنا ئے اپنی بار ی  کا انتظار   کرتے  نظر آتے ہیں۔  قطا ر  کی پابندی نہ کرنے  والوں کو اچھی نظر سے نہیں  دیکھا جاتا ہے۔
 کینیڈا میں لوگ کھانے پینے کے بہت شوقین ہیں۔ایک ملٹی کلچرل ملک ہونے کے سبب یہاں اٹالین، انگلش، پرتگیزی،  جاپانی،  چینی، عربی اور ساؤ تھ انڈین  غرضیکہ ہر ملک اور قوم کے کھانےدستیاب ہیں اور اسی شوق سے کھائے جاتے ہیں۔

کھانوں کے علاوہ  بھی   آپ کو لوگ  ہروقت کچھ نہ کچھ مثلاً فرنچ فرائز، برگر، ہاٹ ڈاگ، ڈونٹس، مفنس، بیگل، کیک، پیسٹری آیس کریم  اور  پھل وٖغیرہ کھاتے اور مختلف  مشروبات  سے لطف اندوز ہوتے نظر آئینگے۔ سنیک بار،  ریسٹورا ں اور ہوٹل وغیرہ کے علاوہ گرمیوں میں آپ کو  سڑکوں کے کنارے کیبن وغیرہ بھی نظر آئینگے۔، جہاں اس طرح کی چیزیں فروخت ہوتی ہیں
 کینیڈا  میں روزمّرہ کے معمولات، ویک ڈیز(Week Days)  اور  ویک اینڈ (Week End)  کے درمیان تقسیم رہتے ہیں۔

  پورے ہفتہ کام کرنے کے بعد ویک اینڈ کے دو دن لوگ گروسری، لانڈری، تفریحات اور میل ملاقات میں گزارتے ہیں۔ جمعہ کی شام  سے  ہی لوگوں، سڑکوں اور شہروں کا مزاج   بدلنے لگتا ہے۔ویک اینڈ پر  بازاروں  خاص طور سے سپر مارکیٹ و غیرہ میں رش بہت بڑھ جاتا ہے۔  چھٹی کے موڈ کے باعث ٹریفک  اور لوگ بھی بے ہنگم ہونے لگتے ہیں تو پولیس بھی زیادہ چوکس ہو جاتی ہے۔

اسی مناسبت سے پیر کا دن لوگوں پر کافی بھاری ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر نروس  بریک ڈاؤن اور ہارٹ  اٹیک  پیر کے ہی دن ہوتے ہیں۔ دروغ  بر گردنِ را وی۔
  سگریٹ کے دلدا دہ لوگوں کے لئے کینیڈاایک  مشکل ملک ہے کہ یہاں پر بسوں، عمارتوں، لفٹوں اور ریسٹوران  وغیرہ میں تمباکو  نوشی پر مکمل پابندی ہے۔ ان جگہوں پر تمبا کو کی سزا  دو ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

یہی سبب ہے کہ سخت سردیوں میں بھی عموماً عمارتوں کے باہر  آپ کو تمباکو نوشی کے شوقین  ٹھٹھرتے ہوئے سگریٹ نوشی کرتے نظر آئینگے۔ 19 سال سے کم عمر لوگوں کے ہاتھ سگریٹ فروخت کرنا بھی  قانوناً  جرم ہے۔
 کینیڈا  میں کافی کو وہی اہمیت حاصل ہے، جو و طنِ عزیز میں چائے کو حاصل ہے۔ خاص طور سے کام پر جاتے یا کام شروع کرنے سے پہلے اور کا م  کے دوران بھی عام طور  سے لوگ کافی پینا پسند کرتے ہیں
 کتابیں، میگزین  اور اخبار پڑھنا ایک قومی عادت ہے۔

بسوں،  ٹرینو ں، انتظار گاہوں اور ا  کثر قطاروں میں کھڑے ہوئے افراد بھی آپ کو  کچھ نہ کچھ پڑھتے ہوئے نظر آئینگے۔۔صبح اور شام کے مفت اخباروں کے علاوہ لوگ اخبار خرید کر بھی پڑھتے ہیں۔ اکثر جگہوں پر سڑک کے کنارے اور فٹ پاتھ پر  اخباروں اور رسالوں کے ڈبے لگے ہوتے ہیں۔ سیل فون کی وجہ سے اب اس میں تیزی سے کمی آ رہی ہے
  مغربی اقوم کی طرح کینیڈین بھی وقت کے بہت پابند ہیں۔

کسی جگہ دیر سے پہنچنے کو نا  آہلی یا غیر اخلاقی تصور کیا جاتا ہے۔  لیکن  پابندئی وقت کا خیال کرنے والی اس قوم کے  بہت کم افراد کے ہاتھوں پر آپ کو گھڑیاں نظر  آیئں گی۔  اگر آپ گھڑی لگائے ہیں اور کسی پبلک مقام پر ہیں تو اس وقفے  میں کئی لوگ آپ سے وقت پوچھ لیں گے۔ وقت پوچھنے کا بھی ان کا ایک منفرد سٹائیل  ہے۔ یہ آپ سے پوچھیں گے
Do you have time 
 ایک نو وارد اس کا یہ مطلب  بھی نکال سکتا ہے کہ کیا آپ کے  کچھ فالتو  وقت ہے؟
 ایک عام  کینیڈین روزمرہ  زندگی میں کپڑے اور ڈریسنگ وغیرہ میں بہت زیادہ رکھ رکھاؤ  کا قائل نہیں ہے۔

وہ عام حالات میں قمیض کے اوپر بنیائین، بغیر موزے کے جوتے،پھٹی ہوئی جینز، اور دیگر مضحکہ خیز لباسوں میں بھی دکھائی دے سکتا ہے۔ لیکن یہی کینیڈین جب کسی  آوٹ ڈور سپورٹس یا فقط جاگنگ کے ہی لئے  نکلا  تو پھرآپ اس کی تیاری دیکھیں۔   آنکھوں پر چشمہ بھی لگا ہوا ہے، واک مین موجودبھی ہے جس کا ہیڈ فون کانوں میں لگا ہوا ہے، اچھے ٹریک سوٹ میں  ملبوس، صاف ستھرے جاگرز، ایک طرف پانی کی بوتل بھی لٹکی ہوئی ہے۔

غرضیکہ اس وقت اس کی تیاری قابل دید ہوتی ہے ۔خواتین کی نقشے بازی کچھ اور طرح کی ہوتی ہے۔
شائید ہی  آپ کبھی کسی کینیڈین کو عام چپلوں اور گھر کے لباس میں جاگنگ کرتے دیکھیں
کینیڈا  میں لوگوں کو جانور،خاص طور سے کتے پالنے کا بہت شوق ہے۔ لیکن یہاں پر اپنے اپارٹمنٹ میں جانور رکھنے کیلئے باقاعدہ لائسنس   حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔


 معیار زندگی کے اعتبار سے کینیڈا اس وقت دنیا کے صف اول کے ملکوں میں سے ایک ہے۔ کینیڈا میں ایک بہت عمدہ  سوشل سیکورٹی نیٹ ورک موجود  ہے جس کے تحت  اولڈایج پینشن، فیملی الاونس، بے روزگاری الاونس اور ویلفیرشامل ہے۔
خبروں اور ان ڈور  تفریحات کے لئے کینیڈین زیادہ تر ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر انحصار کرتے ہیں۔۔ ریڈیو کا زیادہ تر استعمال  دورانِ سفر اور کار میں ہوتا ہے۔


   ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے علاوہ  فلم بینی  بھی لوگوں کے لئے تفریح کا ایک بڑا  ذریعہ ہے۔ کینیڈا کی اپنی فلم انڈسٹری  کا شمار بھی دنیا کی بڑی فلم  انڈسٹری میں کیا جاتا ہے۔کینیڈا میں اس وقت اوسطاّ  ڈیڑھ ہزار سالانہ فلمیں بڑے سکرین اور ٹیلی ویژن کے لئے تیار کی جاتی ہیں۔ اوسطاً ایک کینیڈین سال میں تین فلمیں سنیما ہال یا تھیٹر میں جا کر  دیکھتا ہے۔


کینیڈا کے وی آئی پی۔
وطنِ عزیز میں ہر طرف  وی آئی پی ہی  وی آئی پی ہیں۔ ائرپورٹ پر وی آئی پی لاؤنج، کسی بنک یا ادارہ میں جائیں جہاں کاؤنٹر بنا ہے، آپ لائن میں سوکھ رہے ہیں، وی آئی پی صاحب کا کام کاؤنٹر کے پیچھے سے ہو رہا ہے، سڑک پر ہٹو بچوں کی آوازیں، پولیس والوں نے راستہ روک رکھا ہے، کیا بات ہے؟ کسی  وی آئی پی کا قافلہ جا رہا ہے۔

کینیڈا میں ایسا نہیں ہے۔ نہ راستہ رکتا ہے، نہ ٹریفک روکی جاتی ہے۔ وزیرِ آعظم بھی گزر رہا ہو تو کوئی خاص اہتما م دیکھنے میں نہیں آتا۔ لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ کینیڈا میں  وی آئی پی نہیں ہیں۔ یہا ں  وی آئی پی ہیں لیکن دوسری قسم کے۔ آئیے ہم آپ کو ان کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔
 سامنے فٹ پاتھ کے قریب گھاس پر سکول جانے والے چھوٹے بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

سکول کی اورنج بس آگئی۔ ڈرائیور بس کو فٹ پاتھ کے ساتھ ملا کر کھڑا کرے گی (یہاں زیادہ تر سکول بس ڈرائیور خواتین ملیں گی)۔ بس کے اوپر لگے ہوئے سرخ رنگ کے فلیشر سگنل جلائے گی، اور بس کے الٹے ہاتھ پر  سرخ رنگ کا سٹاپ کا بورڈ باہر نکل آئے گا۔ اب دونوں طرف کا ٹریفک رک گیا ہے۔ مجال نہیں کے کوئی  طرم خان بس کے آگے یا پیچھے سے گاڑی نکا لنے کی ہمت کر لے، اس طرح کی خلاف ورزی کا فقط جرمانہ ہی دو ہزار ڈالر ہے۔

بس کا دروازہ کھل گیا ہے،ایک ایک کر کے بچے سوار ہو رہے ہیں۔ تمام بچے سوار ہو گئے ہیں۔ ڈرائیور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سب بچے بس میں آ گئے ہیں اور اب بس چلا نا محفوظ ہے۔ وہ بس کا  کا دروازہ بند کرے گی، اوپر جلتے ہوئے فلیشر سرخ فلیشر سائن بجھائے گی، سٹاپ سائن والا بورڈ اندر کر ے گی، اب اسکے پیچھے اور سامنے سے آنے والا ٹریفک رواں ہو سکتا ہے۔


سکول کی حدود  میں تمام سڑکوں پر ٹریفک کی رفتار کی حد زیادہ سے زیادہ چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔  اسی طرح  صبح اور دوپہر سکول لگنے اور دوپہر میں ختم ہونے کے وقت سکول کی حدود میں تما م سگنلز پر بچوں کو سڑک پار کرانے کے لئے مخصوص لباس میں سٹاپ سائن لئے ہوئے لوگ نظر آئیں گے۔ یہ سکولوں کی طرف
تو جناب یہ ہیں کینیڈا کے وی آئی پی۔معذور بھی وی آئی پی ہیں
کینیڈا کے اچھوت
بلڈنگ گرم ہے لیکن لوگوں کا ایک گروہ باہر سردی میں سکڑ رہا ہے۔

پہلے مجھے سمجھ میں  نہیں آیاکہ یہ کون لوگ ہیں اور اس سردی میں باہر کیا کر رہے ہیں۔ بعد میں پتہ چلا یہ کینیڈا کے اچھوت ہیں، یعنی سگریٹ نوش خواتین و حضرات۔  یہ بند  جگہوں خاس کر  بلڈنگ میں کہیں بھی سگریٹ نوشی نہیں کر سکتے۔ بلڈنگ  کے ا ندر کسی بھی جگہ یہاں تک کہ پبلک واش روم میں بھی سگریٹ نوشی پر  ۵ سو ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ آپ میں ہمت ہے تو اس کی خلاف ورزی کر کے دیکھیں۔یہ ایک اچھا قانون ہے اور لوگ اس کی پاسداری کرتے ہیں غالباً ایک اچھا شہری ہونے کی حیثیت سے نہ کہ جرمانہ کے ڈر سے ۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Canadian Society - Immigrant Ki Nazar Mein Column By Farrukh Saleem, the column was published on 30 November 2021. Farrukh Saleem has written 24 columns on Urdu Point. Read all columns written by Farrukh Saleem on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.