
- مرکزی صفحہ
- اردو کالم
- کالم نگار
- غلام نبی مدنی۔ مکتوبِ مدینہ منورہ
- آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دینی مدارس کے طلباء!
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دینی مدارس کے طلباء!
جمعہ 23 اگست 2019

غلام نبی مدنی۔ مکتوبِ مدینہ منورہ
(جاری ہے)
دیکھا جائے تو یہ تقریب کوئی عام تقریب نہیں تھی،مدارس کے طلباء کرام کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید کے ہاتھوں اعزازات سے نوازا جانا اس بیانیے کی تائید ہی جو دینی مدارس قیام پاکستان سے دنیا کے سامنے بیان کرتے آرہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان کو کئی محاذوں پر جنگ کا سامنا ہے،سرحدوں پر جنگ سے زیادہ پاکستان کو اندرونی فکری جنگ کا سب سے زیادہ سامناہے جسے جدید زبان میں فیفتھ جنریشن وار فیئر کہا جاتاہے جو میڈیا کے ذریعے لڑی جارہی ہے۔پاکستانی قوم کو اپنی ریاست سے باغی کرنے کے لیے پراپیگنڈے ،جھوٹ ،دھوکہ اور جعلسازی سے گھیرا جارہاہے۔سوشل میڈیا اس کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے جہاں جھوٹی خبروں اور پراپیگنڈوں کے ذریعے قوم کے ذہنوں کو کنٹرول کیا جارہاہے۔ہائبرڈ وار فئیر جس کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مسلسل ذکر کرتے ہیں یہ بھی اسی فیفتھ جنریشن وار فئیر کا نیا انداز ہے۔پاکستان کو ہائبرڈوارفیئر اور فیفتھ جنریشن وار فئیر میں کامیابی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔اس میں یقیناً علماء کرام دینی مدارس کے طلباء بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔کیوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور حقیقی میڈیا منبرومحراب کی صورت میں ان کے پاس ہے جہاں قوم کے ہرشخص کی آبیاری اور ذہن سازی کی جاتی ہے۔دینی مدارس ،طلباء اور علماء کے خلاف جس طرح سے میڈیا پر سیکولر ز لبرلز اور قوم دشمن غداروں نے پراپیگنڈا کیا اس کے خلاف لڑنے کے لیے اہل مدارس اور علماء کرام کو مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔یہ فوج ،ایجنسیز،پولیس ،عدالتیں،حکومت اور حکومتی ادارے،سکولز،کالجز،یونیورسٹیز سب قوم کے مشترکہ قیمتی اثاثے ہیں۔ان کی نگہبانی قوم کے ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔علماء کرام اور اہل مدارس کو ان سے علیحدہ قوم تصور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بالکل غلط ہے۔اللہ تعالیٰ نے معاشرے اور قوم کی قیادت کا حق انبیاء کرام کو سونپا،انبیاء کرام کے بعد علماء کرام کو ان کا نائب اور وارث بنایا گیا۔اس نیابت اور وراثت کا تقاضا یہی ہے کہ علماء کرام معاشرے او ر قوم کی ہرمعاملے میں قیادت کریں رہنمائی کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور حکومتی اداروں کو بھی دینی مدارس اور اہلِ مدارس کا خیال رکھنا چاہیے۔دینی مدارس کے لیے انتظامی بنیادوں پر جو مسائل کھڑے کیے جاتے ہیں انہیں حل کرناچاہیے۔جہاں تک نصاب کا معاملہ ہے اس میں علماء کرام اور حکومت کو مل کر اخلاص کے ساتھ اس معاملے کو حتمی نتائج تک پہنچانا چاہیے۔مدارس کی اصل شناخت دین اور دینی اقدار ہے جس پر اہل مدارس بالکل سمجھوتہ نہیں کرسکتے ،تاہم اہل مدارس کو جدید ضروریات کے پیش نظر معاشیات،سیاسیات اور دیگر جدید علوم جو معاشرے کی ضرورت ہیں ان پر توجہ دینی چاہیے جس پر یقینا اہل مدارس کی نظر ہے۔اس وقت پاکستان کی عدالتوں پولیس فوج اور دیگر سرکاری اداروں میں دیانت دار اہل علم لوگوں کی بہت ضرورت ہے جو ان کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کریں،دینی مدارس کے طلباء اس میں بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ دینی مدارس کے طلباء علماء کرام اور حکومتی فوجی عصری اداروں کے درمیان جو خلیج حائل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اسے ختم کرنے کے لیے دونوں طرف سے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ دشمنوں کو شکست ہو۔اللہ تعالیٰ وطن عزیز پاکستان دینی مدارس علماء کرام کی حفاظت فرمائے اور انہیں اسلام اور امت مسلمہ کی قیادت کے لیے کردار ادا کرنے کی توفیق بخشے۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تازہ ترین کالمز :
غلام نبی مدنی۔ مکتوبِ مدینہ منورہ کے کالمز
-
افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت
جمعرات 9 ستمبر 2021
-
افغانستان کا نیا منظر نامہ
بدھ 4 اگست 2021
-
ترکی امریکا منحوس معاہدہ اور طالبان کا اعلامیہ ؟
بدھ 14 جولائی 2021
-
نیتن یاہو کا دورہ بھارت اور پاکستان؟
پیر 2 ستمبر 2019
-
افغانستان کشمیر امریکا اسرائیل بھارت اور پاکستان؟
منگل 27 اگست 2019
-
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دینی مدارس کے طلباء!
جمعہ 23 اگست 2019
-
عمران خان کے دورہ سعودی عرب ومتحدہ عرب امارات کے پاکستان پر اثرات ؟
جمعہ 21 ستمبر 2018
-
72واں یومِ آزادی اورپاکستان میں اسلامی نظام کا خواب؟
پیر 13 اگست 2018
غلام نبی مدنی۔ مکتوبِ مدینہ منورہ کے مزید کالمز
کالم نگار
مزید عنوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.