
سرکاری ملازمین کے نام کھلا خط
جمعرات 10 ستمبر 2020

محمد اسلم الوری
(جاری ہے)
اللہ کا شکر ہے کہ آپ کسی افسر کے ذاتی غلام اور اس کی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے پابند نہیں بلکہ آئین و قانون کے پابند ہیں جو آپ کی ملازمت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
آپ عوام پاکستان کی امنگوں کے ترجمان اور ان کے بنیادی حقوق کے محافظ ہیں۔ اس طرح آپ آئین و قانون پر عمل درآمد میں ایک ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔اس تمہید کا مقصد آپ کی توجہ سرکاری دفاتر میں نفاذ قومی زبان کے دستوری و قانونی فرض کی طرف مبذول کرانا ہے:1۔ آپ جانتے ہیں کہ اردو ہماری قومی زبان ہے، پاکستان کے تمام دساتیر میں قومی زبان کو متفقہ طور پر سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔
2۔آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی وسائل پر قابض انگریزی تعلیم و مراعات یافتہ ایک معمولی اقلیت اپنے اقتدار کو دوام دینے اور نسل در نسل اپنی حکمرانی کو اپنے بیرونی آقاوں کی مدد سے یقینی بنانے کے لئے عوامی و قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ میں ہمیشہ سے مزاحم رہی ہے۔
3۔ آپ جانتے ہیں کہ اس شدید مزاحمت کا مقابلہ کرتے ہوئے تیس برس کی عدالتی جنگ کے بعد آخر کار 8 ستمبر 2015 ء کو عدالت عظمی پاکستان اردو کو آئین پاکستان کی دفعات اور قائد اعظم کے فرامین کے مطابق سرکاری زبان بنانے، مقابلے کے تمام امتحانات اردو میں لینے اور اردو کو جامعات کی سطح تک ذریعہ تعلیم کے طور پر بلا تاخیر پوری قوت سے نافذ کرنے کا حکم دے چکی ہے۔
4۔ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان بھی تمام وزارتوں اور ماتحت محکموں کو نفاذ اردو کا واضح حکم دیتے ہوئے 10 نکات پر مشتمل سرکاری اعلامیہ جاری کرچکے ہیں۔
5۔ آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لئے ہر قسم کی رہنما کتب و مینوئلز، لغات اور تربیتی مواد آسانی کے ساتھ سابقہ مقتدر ہ قومی زبان اور موجودہ محکمہ فروغ قومی زبان کے دفتر یا ان کی ویب سائٹ سے باآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے
6۔ آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ تحریک نفاذ اردو پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اور قومی
تاریخ و ورثہ ڈویزن کے افسران اور عملہ ارکان کو اردو میں دفتری مراسلت اور اردو کمپیوٹر ی سہولیات کے استعمال کی باقاعدہ تربیت بھی دے چکی ہے اور بقیہ وزارتوں اور محکموں کے لئے بھی اس کی یہ پیشکش موجود ہے۔
برادران مکرم!
نفاذ قومی زبان کا عمل آپ کے عدم تعاون و دلچسپی کی وجہ سے تہتر سال سے زیر التوا ہے۔ اختیارات کی اعلی ترین سطح پر فائز نوکرشاہی یہ عذر پیش کرتی ہے کہ ماتحت عملہ اردو میں دفتری امور انجام دینے کی صلاحیت و استعداد نہیں رکھتا۔اس لئے ہم انگریزی میں کام چلانے پر مجبور ہیں۔ قومی خزانے سے تنخواہ و مراعات حاصل کرنے والے حکومت پاکستان کے معزز و ذمہ دار ملازمین کی حیثیت سے اب آپ کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ آپ نفاذ قومی زبان کے مرحلہ کو اپنی قوت ارادی اور قومی جذبہ سے سرشار ہو کر جلد از جلد ممکن بنائیں۔ آپ درج ذیل امور پر عمل کرتے ہوئے انفرادی و اجتماعی ہر دو سطحوں پر ملک میں اور خاص طور پر اپنے دائرہ اختیار میں نفاذ قومی زبان کو جلد از جلد یقینی بنا سکتے ہیں:
1۔ آئین و قانون پر پر عمل درآمد کے اس قومی فریضہ کی ادائیگی میں افسران بالا یا رفقاء کار کی ناراضی یا اپنی روایتی غفلت و کاہلی کو ہر گز حائل نہ ہونے دیں۔
2۔ اگر آپ افسر ہیں تو خود اردو میں دفتری مراسلت کا آغاز کرتے ہوئے ماتحت عملہ کے لئے عملی مثال قائم کریں،
3۔ اردو میں دفتری مراسلت سے متعلق ضروری کتب اور نمونہ جات انٹر نیٹ سے، محکمہ فرو غ قومی زبان نظامت اردو ، قومی زرعی تحقیقاتی کونسل کے دفاتر سے یا تحریک نفاذ قومی زبان کی ویب سائٹ سے حاصل کریں۔
4۔ ماتحت عملہ کو اپنی تمام درخواستیں اور معروضات اردو میں لکھنے اور پیش کرنے کی تلقین کریں اور عملہ ارکان کے روزمرہ ملازمت سے متعلق تمام ہدایات، احکامات اور اعلانات اردو میں جاری کرنے کا آغاز کریں۔
5۔ اپنے دفتر میں ماتحت عملہ کے لئے اردو دفتری مراسلت اور اردو کمپیوٹر ی سہولیات کے استعمال کی تربیت اور استعداد سازی کے پروگرام منعقد کریں۔ ہم اس سلسلہ میں آپ کی معاونت کے لئے تیار ہیں۔
5۔ ماتحت عملہ کی سہولت کے لئے دفتری اردو مراسلت سے متعلق مقتدرہ قومی زبان کی طرف سے شائع کردہ کتابوں کا سیٹ خرید کر دفتر اور لائبریری میں مہیا کریں اور تمام کمپیوٹرز میں اردو انسٹالر سے مختلف فونٹس اور دیگر سہولیات حاصل کریں،
6۔ وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ دس نکاتی سرکاری اعلامیہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے ناموں کی تختیاں، بورڈز ، تعارفی کارڈز اردو میں لکھوا کر آویزاں کریں۔
7۔ اردو زبان میں دفتری و پیشہ وارانہ فرائض کی احسن طریقے سے انجام دہی کے لئے اردو کمپیوٹری سہولیات کے استعمال میں مہارت پیدا کریں،
8۔ اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ یا ڈیسٹاپ میں اردو انسٹالر سے یہ سہولیات حاصل کریں اور ماتحت عملہ کو بھی ان مہارتوں کو فوری سیکھنے کی ترغیب و تربیت دیں۔
9۔ اپنی پیشہ وارانہ زندگی کے تجربات و مشاہدات کو اردو میں قلم بند کرکے دوسروں کو بھی ان معلومات سے استفادہ کے مواقع فراہم کریں۔
11۔ اپنے دستخط، تعارفی کارڈ تقریبات کے اعلانات اور دعوت نامے، روزمرہ دفتری مراسلے اردو میں جاری کریں۔
12۔ رخصت فارم، لیب ٹیسٹ، اوور ٹائم کی ادائیگی، اسٹور ریکارڈ، اسٹیشنری، سرکاری گاڑی اور اشیا کے طلب نامے اردو میں متعارف کرائیں ۔ان سب کے نمونہ جات نظامت اردو اور محکمہ فروغ قومی زبان کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
.13کورونا بحران کے ان ایام میں بچوں کو معیاری اردو لکھنے، پڑھنے ، بولنے اور سمجھنے کی ترغیب و تربیت دیں۔ بچوں کو اردو میں کہانی نویسی اور سائنس نگاری کی طرف مائل کریں اور ان میں معیاری و معلوماتی اردو کتب و رسائل کے مطالعہ کی عادت ڈالیں۔
برادران عزیز !
آپ سرکاری نوکر ہی نہیں اس ملک کی ترقی و سلامتی کے ضامن بھی ہیں۔ قومی زبان و اقدار کا تحفظ و فروغ آپ کی اولین ذمہ داری ہے۔ قومی زبان کے نفاذ کے ذریعہ آپ اپنا آئینی و قانونی فرض ہی پورا نہیں کریں گے بلکہ عوامی و قومی زبان میں مستند سرکاری معلومات اور اعدادو شمار کی روزمرہ تیاری و فراہمی کے ذریعے اس ملک کے کروڑوں بے اختیار و بے مددگار عوام کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی کے عمل میں انہیں شامل کرکے ایک گرانقدر خدمت بھی انجام دیں گے۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تازہ ترین کالمز :
محمد اسلم الوری کے کالمز
-
تربیت اطفال کے نئے ذاویے
جمعرات 12 نومبر 2020
-
تربیت اطفال کے نئے ذاوئیے
منگل 10 نومبر 2020
-
میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور تعمیر معاشرت
پیر 26 اکتوبر 2020
-
حکمران نفاذ اردو کو سیاسی یا لسانی رنگ مت دیں
ہفتہ 24 اکتوبر 2020
-
زرعی معیشت کی تعمیر و ترقی میں قومی زبان کا کردار
بدھ 14 اکتوبر 2020
-
نفاذ اردو کی راہ میں حائل نفسیاتی مسائل
اتوار 4 اکتوبر 2020
-
ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے لئے انگریزی ذریعہ تعلیم نافذ کرنے کے فیصلہ کے مضمرات
منگل 29 ستمبر 2020
-
نفاذ قومی زبان میں تاخیر کے مضمرات
ہفتہ 12 ستمبر 2020
محمد اسلم الوری کے مزید کالمز
کالم نگار
مزید عنوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.