کمزور معیشت کے بکرے

جمعہ ستمبر

Rehan Muhammad

ریحان محمد

عیدِ قربان جیسے جیسے قریب آتی جا رہی تھی گھر میں بچوں کی بکرا خرید مہم زوروں پر تھی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مہم احتجاج میں بدلتی جا رہی تھی۔ایک شدید احتجاج کے بعد بکرا خریدنے کی حامی بھری۔بکرا خریدنے کے لیے اپنے ساتھ بکرا سپیلشٹ کو لے کر جانے کا فیصلہ کیا۔بکرا اسپیشلسٹ کے ساتھ بڑی تگ و دو کے بعد صبح دس بجے کا وقت مقرر ھوا۔بکرا سپیشلسٹ ٹھیک تین بجے آیا اور ہم مویشی منڈی روانہ ہوے۔

منڈی میں داخل ہوتے ہی کچھ ہی دیر میں میں بکروں میں گھل مل گیا میں بھی انہی کا حصہ لگنے لگا۔ایک بہت صاف ستھرے مہذب نظر آنے والے بکرے کی طرف متوجہ ہوا۔مگر وہ بکرا تو انتہائی بد مزاج اکھڑ ثابت ہوا ،بولا میرے قریب مت آنا تمہارے جیسوں کے ساتھ بات کرنا پسند نہیں کرتا۔میں صرف 22ویں گریڈ افسر کے ساتھ جاؤں گا۔

(جاری ہے)

دل ہی دل میں برا بھلا کہہ کر آگے بڑھ گیا۔

اتنے میں بکرا اسپیشلسٹ درمیانے درجے کا بکرا لے کر آیا اور بولا آپ کے مطلب کا بکرا لے کر آیا ہوں۔مطلب سے مراد میری اوقات ہے۔بکرے کو قریب گیا تو وہ۔بہت گھبرایا ڈرا سہما لگا اس کی آنکھوں میں عجیب حیرت و حسرت تھی۔میں نے بکرے سے اس حالات کا پوچھا تو بولا میرے ساتھ بہت نا انصافی ہوئی ہے۔ایک طرف اشارہ کرتے ہوے کہا وہ بکرے بہت طاقت والے اور پہنچ والے ہیں میرے حصہ کا بھی کھا جاتے ہیں اور زودوکوب بھی کرتے ہیں۔

سن کر بڑا ترس آیا اسے تسلی دی کہ اسی طرح کا ظلم و ستم ہمارے معاشرے میں بھی ہے کہ طاقت ور کمزور کو کھا رہا ہے۔آگے بڑھا بہت فربہ موٹا بکرا نظر آیا جو پہلی نظر میں بہت اچھا لگا۔بکرے کے قریب گیا۔بکرے نے میری پسندیدگی بھاپتے ہوے کہا میرا سودا مت کرنا میری بائیں آنکھ نقلی ہے میری قربانی جائز نہیں۔ میں نے پوچھا جب تمہاری قربانی جائزنہیں تو منڈی میں کیا کر رہے ہو۔

بکرے نے اونچا قہقہ لگایا اور بولا میں تو کتنے سالوں سے منڈی میں ہوں پر ہر دفع میری آنکھ بچا لیتی ہے۔وہ مجھے ایک انتہاء چالاک اور موقع پرست بکرا لگا جیسے ہمارے کئی سیاست دان بیوروکریٹ حکومت جس کی بھی ہو جمہوریت ہو یا ماشل لا وہ حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔
کانے بکرے کو چھور کر آگے بڑھا تو ایک بہت لاغر کمزور بکرے نے مجھے آواز دی میرے متوجہ ہونے پر بولا بکرا خریدنے آئیں ہیں تو آپ کی بہت مہربانی ہو گی کہ مجھے خرید لیں۔

بکرا انتہائی لاغر تھا۔ایسا لگتا تھا کہ اسے مار مار کر بکرا بنایا گیا ہو۔اس سے قابل رشک صحت کا راز پوچھا تو بولا میرا مالک کہتا ہے مہنگائی بہت ہے خرچہ پورا نہیں ہوتا کئی کئی دن فاقہ کراتا ہے۔میں اس زندگی سے تنگ آ گیا ہوں مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔اس کی بات سن کر مجھے موجودہ دور حکومت کی یاد آئی جس میں بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے لوگ فاقوں اور خودکشیوں پر مجبور ہیں۔

اپنی مہم کو جاری رکھتے ہوے آگے بڑھا ایک طرف بہت تیز میوزک لگا ہوا تھا لوگوں اور بکروں کی بھیر لگی ہوئی تھی میں بھی اس بھیڑ میں چلا گیا تو وہاں انتہائی فحش گانا لگا ہوا تھا اور بکرا بڑی مہارت سے ناچ رہا تھا مجھے دیکھ کر اپنی اداؤں سے رجانے لگا مجھے وہ بہت بد کردار بکرا لگا معلوم کرنے پر پتہ چلا موصوف مشہور ڈانسر کے گھر میں رہ چکے ہیں۔

ابھی تک میں اپنی مہم میں بری طرح ناکام تھا۔منڈی کے دوسری طرف گیا وہاں گائے نما بکرے تھے جن کی جسامت گائے سے کم نہ تھی۔ان سے ملاقات کی اور ان کی خوراک کے بارے میں پتہ چلا کہ ان کی خوراک خالص دیسی موقوی اجزا پر مشتمل ہے۔خوراک کی تفصیل سن کر حیرت زدہ رہ گیا یہ خوراک تو انسانوں کو بھی میسر نہیں۔ایک بکرے نے بڑے فخر سے بتایا کہ ہمارے قدر دان بڑے بڑے صنعت کار سیاست دان ہیں انہی کے ساتھ AC والی گاڑی میں جائیں گے۔

میں ان بکروں کے شاہانہ رہن سہن کے سحر میں کھویا ہوا تھا کہ بکرا سپیشلسٹ نے میرا ہاتھ پکر کر منڈی سے باہر لے آیا اور انتہائی غصے سے بولا منڈی میں تم جو حرکتیں کر رہے تھے اس سے میری بہت بے عزتی ہوی تم بکرا نہیں خرید سکتے میری اچھی خاصی عزت افزاء کے بعد مجھے وہی چھوڑ کر چلا گیا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Kamzor Maeeshat Ke Bakre Column By Rehan Muhammad, the column was published on 20 September 2019. Rehan Muhammad has written 6 columns on Urdu Point. Read all columns written by Rehan Muhammad on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.