
صبر کارڈ
منگل 26 اکتوبر 2021

سیف اعوان
(جاری ہے)
کوئی سبزی مہنگی ہونے پر شو مچارہا ،کوئی گھی،مرغی ،دالیں اور پیٹرول مہنگا ہونے پر شور مچارہا ہے تو کوئی بجلی کی قیمتیں بڑھنے پر شور مچارہا ہے لیکن عمران خان اور انکے چند ایک وزیر ان سب چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کے فوائد بتارہے ہیں ۔ان سب چیزوں کے فائدے بتانے والے چند ایک وزیر ہیں ۔جبکہ جہنوں نے دوبارہ عوام کے درمیان جانا ہے وہ ٹی وی ٹاک شوز اور نجی محفلوں میں بھی مہنگائی کو حکومتی کی معاشی ٹیم کی ناکامی قراردے رہے ہیں۔مہنگائی کو ڈیفنڈ کرنے والوں میں عمران خان سرفہرست ہیں ان کے بعد شیخ رشید،فواد چوہدری،حماد اظہر،اسد عمر اور شہباز گل ہیں جبکہ نجی محفلوں میں حکومت کی معاشی ٹیم پر برسنے والوں میں پرویز خٹک،شفقت محمود،میجرصادق،عامر لیاقت،طارق بشیر چیمہ،فروغ نسیم،سید فخرامام،محبوب سلطان،میاں محمد سومرو اور مونس الٰہی شامل ہیں۔شیخ رشید،فواد چوہدری،حماد اظہر اور اسد عمر یہ وہ لوگ ہیں جو عوام سے ووٹ لے کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں ۔لیکن یہ باعث حیرت ہے کہ یہ چاروں وزراء اپنے حلقوں میں جانے سے کیوں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں ۔حماد اظہر کے حلقے سے میرے کئی دوست ہیں ان سب کی زبان پر ایک لفظ ہوتا ہے کہ میاں اظہر کے بیٹے کی شکل ہم نے صرف اس دن دیکھی تھی جب وہ ہم سے ووٹ مانگنے آئے تھے اس کے بعد ہم نے ان کو حلقے میں نہیں دیکھا۔باقی تینوں وزراء کی صورتحال بھی چھ مختلف نہیں ہے۔
آج عمران خان اور گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر ڈالر اوپر جانے کے فائدے کچھ اسطرح بتارہے ہیں جیسے پاکستان میں روپیہ نہیں ڈالر چل رہا ہے۔ڈالر 105کا تھا اسحاق ڈار چور تھا اور مصنوعی طریقے سے ڈالر کو کنٹرول کررہا تھا ۔آج ڈالر 174روپے کا ہے لیکن عمران خان ایماندار ہے اور ڈالر کو پوری ایمانداری سے اوپر جانے دے رہا ہے۔اسحاق ڈار نے جن حالات میں وزارت خزانہ کا چارج سنبھالا وہ کسی سے ڈکا چھپا نہیں ۔آصف زرداری نے جسطرح معیشت کا حشر کیا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔دھڑا دھڑ قرضے ،سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں اورسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ آصف زرداری کے تین پسندیدہ کام رہے ہیں ۔موجودہ حکومت کے قومی اسمبلی میں پیش کردہ ریکارڈ کے مطابق مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے پانچ سالوں میں دس ارب ڈالر کے قرضے لیے۔اگر یہ بات درست مان بھی لیں تو مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے دس ارب ڈالر کے قرضے لے کر پاکستانیوں کو ہزاروں کلو میٹر کی سڑکیں،ایئر پورٹس،بجلی کے منصوبے،ہسپتال ،یونیورسٹیاں ،دانش سکولز،میٹرو بسیں،اورنج ٹرین،لیب ٹاپ،نوجوانوں کو قرضے،کسانوں کو 150ارب کا پیکج،سستی گاڑیاں اور لاتعداد منصوبے دیے۔عمران خان کی حکومت نے ساڑھے تین سالوں میں 14ارب ڈالر سے زائد کے قرضے لیے لیکن بدلے میں پاکستانیوں کو لنگر کارڈ،پناہ گاہیں کارڈ،ہیلتھ کارڈ ،کساں کارڈ اور سب سے بڑھ کر صبر کارڈ تقسیم کیے۔ساڑھے تین سال بعد بھی عمران خان پاکستانیوں میں صبر کارڈ تقسیم کرنے میں مصروف ہیں ۔اتنے صبر کارڈ لینے کے باوجود بھی پاکستانیوں کا صبر جواب دے چکا ہے۔اگر عمران خان نے صبر کارڈ کی تقسیم کا سلسلہ ایسے ہی جاری رکھا تو مجھے امید ہے کہ پاکستانی 2023کے الیکشن میں ووٹ دینے کی بجائے یہ تمام صبر کارڈ عمران خان کو سود سمیت واپس کردیں ۔کیونکہ صبر کی بھی کوئی انتہا تو ہوتی ہے ۔
ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
تازہ ترین کالمز :
سیف اعوان کے کالمز
-
حکمت عملی کا فقدان
منگل 2 نومبر 2021
-
راولپنڈی ایکسپریس
ہفتہ 30 اکتوبر 2021
-
صبر کارڈ
منگل 26 اکتوبر 2021
-
مہنگائی اور فرینڈلی اپوزیشن
بدھ 20 اکتوبر 2021
-
کشمیر سیاحوں کیلئے جنت ہے
جمعہ 15 اکتوبر 2021
-
چوہدری اور مزارے
ہفتہ 2 اکتوبر 2021
-
نیب کی سر سے پاؤں تک خدمت
منگل 28 ستمبر 2021
-
لوگ تو پھر باتیں کرینگے
ہفتہ 25 ستمبر 2021
سیف اعوان کے مزید کالمز
کالم نگار
مزید عنوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.