تیری اُباسی میری اُداسی

بدھ جولائی

Salman Ansari

سلمان انصاری

”کرکٹ جو کھیلی تو نے اس اندازسے ۔۔۔۔۔۔۔اک اُباسی سارے پاکستانیوں کو اُداس کر گئی“
ورلڈ کپ 2019اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے انڈیا، آسٹریلیا،انگلینڈاور نیوزی لینڈ کی ٹیموں میں سے دو کے درمیان فائنل ہوگا اور فائنل میچ کا فاتح ورلڈ کپ2019کی ٹرافی حاصل کرپائے گاورلڈ کپ کے میچز پر روشنی ڈالی جائے تو پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی ۔

انڈیا سے ہارنے کے بعد پاکستان کے اگلے میچز پر ایک ایسی بحث شروع ہوگئی کہ جس سے کوئی جان نہ چھڑا سکا ہر میچ سے پہلے اور ہر میچ کے بعد ہر پاکستانی یہ سوچتا رہتا کہ ایسا ہوجائے گا تو یہ ہوجائے گا ویسا ہوجائے گا تو وہ ہوجائے گا۔
سوشل میڈیا پر ہر میچ سے پہلے اور ہر میچ کے بعد لوگوں کی آراء دیکھنے میں آتی کہ جیسے کوئی جوا لگا ہوا ہے اور سب نے پیسے لگائے ہوئے ہیں لگانے والے بھی میچ کی ایک ایک بال دیکھتے اور پیسے نہ لگانے والے بھی میچ کی ایک ایک بال دیکھتے کہ اس ٹیم سے اتنے سکور سے جیتیں گے تو ہم اس پوزیشن پر آجائیں گے اللہ میاں وہ والی ٹیم اُس ٹیم سے ہار جائے تو ہمارے آگے جانے کے چانس ہیں۔

(جاری ہے)


ایک انسان جب کسی ایسے ڈاکٹر سے دوائی لیتا ہے جس کو وہ دلی طور پر ڈاکٹر تسلیم نہیں کرتا لیکن مجبوراً دوائی کسی نہ کسی کے کہنے پر کھاتا ہے تو دوائی کھانے کے بعد سے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور اُ س کا دماغ بھی بہت تیز چلنے لگ جاتا ہے کہ کہیں مجھے کچھ ہو ہی نہ جائے ایسی صورتحال میں اگر دوائی صحیح کام بھی کر رہی ہوتی ہے تو بندہ کی صحت پر اُسکے بُرے اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں ۔

پاکستان ٹیم کی ایسی پوزیشن بننے کے بعد تمام پاکستانی اگلے میچ کا بے صبری سے انتظار کر تے رہتے ۔
پاکستانیوں کو اپنی ٹیم پر اعتماد تھامگر صورتحال ہی ایسی بن چکی تھی کہ پاکستانی ٹیم اگرچہ بہت محنت کر رہی تھی لیکن اگر مگر ایسا ویسا نے پاکستانیوں کے اچھے اچھے صحت مند نوجوانوں کے دلوں کو تیز تیز دھڑکنے پر مجبور کر دیا۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کے میچ میں پاکستان ٹیم آخری اوور میں دو تین بالوں سے پہلے ہی میچ کا فیصلہ کر پائی ورنہ لگ تو ایسے ہی رہا تھا کہ جیسے پاکستان کے ہاتھوں سے یہ میچ بھی گیا اور آگے ساری امیدیں دم توڑ جائیں گے ۔

اللہ پاک نے اس میچ میں کامیابی دلائی ۔
پاکستان سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگیا اور کھلاڑی وطن واپس آنے لگے ۔ورلڈ کپ کے میچز کے دوران پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد پر بہت زیادہ تنقید کی گئی ایک میچ میں تو وہ اُباسیاں لیتے نظر آئے ۔کپتان کی جانب سے ورلڈ کپ کے میچز کے دوران اس قسم کی حرکات پر پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑیوں نے بھی انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

کپتان کی جانب سے اگر ایسی حرکات کی جائیں تو کھلاڑیوں پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے اور ٹیم سے امیدیں لگانے والے ،ورلڈکپ کو اپنے ہاتھوں میں دیکھنے والوں کے خواب اس قسم کے واقعات کے بعد غیر یقینی صورتحال اختیار کرلیتے ہیں۔
سرفراز کی اُباسیاں بظاہر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ میچ سے قبل رات کو ٹھیک طرح سے آرام نہیں کرپائے یا تو وہ اس سوچ میں گم تھے کہ ہم نے اگلے میچ کس طرح سے جیتنے ہیں یہ پھر جو خبریں آئیں وہ درست ہیں ۔

۔؟شروع کے میچز میں پرفارمنس اچھی نہ ہونے اور انڈیا سے ہارنے کے بعد اور سری لنکا سے میچ میں بارش آجانے کے بعد ایسا لگتا تھا جیسے پاکستان اب بس اپنے گھر جانے کے انتظامات کر لے لیکن کرکٹ گیم ہی ایسی ہے کہ اس میں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔پوائنٹس کی ہیرا پھیری اور رن ریٹ کے چکر نے پاکستان کے امیدیں تو کچھ دیر تک زندہ رکھیں لیکن زیادہ دیر تک نہیں۔


وہ میچ جس میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو ہرانا تھا اور کم از کم 316رنز سے ہرانا تھا اس میچ سے قبل سوشل میڈیا اور خصوصاً یوٹیوب پر لوگوں کی جانب سے ایسے ایسے فارمولے پیش کیئے گئے کہ جن کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے پوری دنیا کے ریاضی دان پاکستان اور بنگلہ دیش کے میچ پر ریاضی کی پریکٹس کر رہے ہیں ۔ایسی خبریں بھی سننے میں آئیں کہ بنگلہ دیش نے پاکستان کی مدد کرنے کی حامی بھر لی ہے اور پاکستان 600سکور کرے گا اور بنگلہ دیش کی ٹیم 150سے180رنز کے درمیان آؤٹ ہوجائے گی ۔


بھلا ایسی ٹیمیں جو پاکستان سے میچ جیتنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگاتی اور پاکستان سے میچ ہارنے کے بعد ہنگامے کرتی ہوں وہ کیسے جیت کو ڈش میں رکھ کر پاکستان کو پیش کرتیں۔ایک یوٹیوب کی ویڈیو میں تو یہ بتایا گیا کہ آئی سی سی کو پاکستان پر رحم آگیا ہے اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان میچ ہو یا نہ ہو پاکستان سیمی فائنل ضرور کھیلے گا۔

مجھے تو ایسے لوگوں کی سوچ اور انکی باتوں پر حیرت اس لئے ہوتی ہے کہ جیسے ان لوگوں کے ماموں کی دُکان ہو اور انہیں پتہ ہو کہ ماموں کس بندے کو رعایت کرتے ہیں اور کس بندے کو رعایت نہیں کرتے ۔
باہر حال جو بھی ہوا پاکستان اب سیمی فائنل میچز صرف گھر بیٹھ کرہی دیکھ سکتاہے لیکن وہ اُمیدیں جو پاکستانی ٹیم سے لگائی گئی تھیں کہ ٹیم اچھی کارکردگی دکھا کراور سارے میچ جیت کرورلڈ کپ کو لے آئے گی وہ اُمیدیں اب 2023کے ورلڈ کپ کے لئے لوگوں نے فریزر میں فریز کر کے رکھ دی ہیں تاکہ ان میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوجائے۔

اب مختلف ٹی وی چینلز پر مختلف بیانات تجزیات اور باتیں کی جاتی ہیں کہ ایسا نہ ہوتا تو ہم آگے چلے جاتے ویسا نہ ہوتا تو ہم آگے چلے جاتے ۔مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی اگر جم کر نہیں کھیلنا آتا تو پھر کیسے آپ کسی ٹیم کو ہرانے کا سوچ سکتے ہیں ۔
اگر اسی طرح سوچ رکھا ہے تو پھر تو ایسا ہونا ہی تھا کسی میچ میں جم کر کھیل لیا تو جیت مل گئی اگر جم کر نہیں کھیلا گیا کھلاڑی لڑکھڑاتے رہے ،کیچ چھوڑتے رہے ،فیلڈنگ میں غلطیا ں کرتے رہے باؤلنگ کرانے والے نوجوان بال ایسی جگہ کراتے رہے جہاں سے صرف چوکا اور چھکا ہی لگایا جاتا ہے تو میچ میں ہار ہی ملتی ہے ۔

کسی ایک بندے کے جم کر کھیلنے سے میچ جیت جائیں جبکہ باقی کھلاڑیوں نے مایوس کن کارکردگی دکھائی ہو تو آپ میچ اور ہمدردیاں تو جیت سکتے ہیں مستقل مزاجی نہیں۔جب تک پاکستانی ٹیم کا ہر کھلاڑی جم کر نہیں کھیلے گا اس طرح کی غلطیاں ہوتی رہیں گی ۔
اب کچھ کھلاڑی کرکٹ کی دنیا کو خیر باد کہہ رہے ہیں کچھ نہیں کہہ رہے یہ انکا ذاتی فعل ہے کہ وہ مزید کرکٹ کھیل سکتے ہیں یا نہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ کرکٹ چھوڑ رہے ہیں تو کیا آپ نے اپنے کیریئر میں ایسا کھیلا ہے جو پاکستانی ٹیم کے لئے فائدہ مند ثابت ہوا ہو یا آپ نے ساری زندگی ایسا ہی کھیلا ہے کہ جس سے پاکستانی ٹیم کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن آپ کو ذاتی طو ر پر بہت فائدہ ہوا ۔بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں سیلیکشن میرٹ پر نہیں کی جاتی بلکہ سیاسی طور پر بھی کچھ لوگ سیلیکٹ ہو کر آتے ہیں ۔


کیا میرٹ پر نہ آنے والے لوگ یہی لوگ ہوتے ہیں جو کبھی بھی پاکستانی ٹیم میں جم کر نہیں کھیلتے کیونکہ میرے خیال سے جم کر کھیلنے والا کھلاڑی 50پلس کی ایوریج سے ضرور کھیلتا ہے ۔ اگر پاکستان کے 6بیٹسمین ہیں اور ہر کھلاڑی کم از کم50سکور بھی دے تو بآسانی 300سکور بن سکتے ہیں جو کہ ایک فائٹنگ سکور سمجھا جاتا ہے لیکن کرے کون ۔۔؟؟کب تک ایسا چلتارہے گا پاکستانیوں کے دل ٹوٹتے رہے ہیں کیوں اچھے کھلاڑیوں کو آگے نہیں آنے دیا جاتا ۔

7جولائی 2019کو جاری کردہ ون ڈے میچز کی رینکنگ میں پاکستانی ٹیم 97کی ریٹنگ اور4756پوائنٹس کے ساتھ چھٹے(6) نمبر پر ہے ۔
یقینا پاکستان کا ہر شہری پاکستان کی ٹیم کو پہلے نمبر پر دیکھنا پسند کرتا ہے۔ اللہ پاک ہمارے کھلاڑیوں کو اتنی صلاحیت دے دے کہ وہ بھی جم کر اور اپنی ٹیم کو نمبر1پر لانے کیلئے جی جان سے کھیلیں ۔یہ ورلڈ کپ تو ہمارے ہاتھوں سے چلا گیا امید اور دعا ہے کہ اگلا ورلڈ کپ پاکستانی ٹیم ضرور لیکر آئے ۔آمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Teri Ubasi Mere Udasi Column By Salman Ansari, the column was published on 10 July 2019. Salman Ansari has written 12 columns on Urdu Point. Read all columns written by Salman Ansari on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.