پی ٹی آئی کے پروگرام میں شیخ چلی کی کہانیاں ہیں ،ْپاکستان پیپلز پارٹی کی تحریک انصاف کے سو روزہ پلان پر شدید تنقید

2013میں عمران خان کی جانب سے پیش کر دہ ا یجنڈا پانچ سا ل میں بھی پورا نہ ہوسکا ،ْ عمران خان نے 50دن میں 100لوٹے اکٹھے کئے اور ان کے پاس ہر سائز ، ہر رنگ کا لوٹا اور ڈرم موجود ہے، عمران خان کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کی لکیر نہیںاسلئے 100دن کا ایجنڈا دیکر عمران خان اپنی خواہشات پوری کررہے ہیں، آصف زرداری کا تدبر اور تجربہ اور بلاول بھٹو کا جوان جوش پاکستان کے اندر حقیقی تبدیلی لائیگا، جو لوگ ہمیں چورکہتے تھے آج وہ خود بین الاقوامی چوری کرنے کے جرم نااہل ہوچکے ہیں،ہمارے پاس بھٹو اور بینظیر ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں ہیں ،ْ نفیسہ شاہ ،ْ فیصل کریم کنڈی ،ْ سینیٹر روبینہ خالد کی پریس کانفرنس

منگل مئی 18:02

پی ٹی آئی کے پروگرام میں شیخ چلی کی کہانیاں ہیں ،ْپاکستان پیپلز پارٹی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کی100دن کے پروگرام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے پروگرام میں شیخ چلی کی کہانیاں ہیں ،ْ 2013میں عمران خان کی جانب سے پیش کر دہ ا یجنڈا پانچ سا ل میں بھی پورا نہ ہوسکا ،ْ عمران خان نے 50دن میں 100لوٹے اکٹھے کئے اور ان کے پاس ہر سائز ، ہر رنگ کا لوٹا اور ڈرم موجود ہے، عمران خان کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کی لکیر نہیںاسلئے 100دن کا ایجنڈا دیکر عمران خان اپنی خواہشات پوری کررہے ہیں، آصف زرداری کا تدبر اور تجربہ اور بلاول بھٹو کا جوان جوش پاکستان کے اندر حقیقی تبدیلی لائیگا، جو لوگ ہمیں چورکہتے تھے آج وہ خود بین الاقوامی چوری کرنے کے جرم نااہل ہوچکے ہیں،ہمارے پاس بھٹو اور بینظیر ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

یہ باتیں منگل کو پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ ، پیپلز پارٹی کے خبیر پختونخوا کے صدر ہمایوں خان، جنرل سیکرٹری فیصل کریم کنڈی، سیکرٹری اطلاعات سینٹر روبینہ خالد نے نیشنل پریس کلب میں عمران خان کے 100دن کے پروگرام کے ردعمل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ سیاسی طور پر الیکشن کے 70یا 80دن پہلے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اپنی آئندہ حکومت کے 100دن کا ایجنڈا دینا نفسیاتی پروپیگنڈا اور پری پول رگنگ ہے، 2013میں بھی عمران خان نے 90دن کا ایجنڈا دیا تھا جو 5سال میں بھی پورا نہیں ہوسکا۔

اب پتہ نہیں یہ 100دن کا کتنے سالوں میں پورا ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کے 5رہنمائوں کی جانب سے 100دن کا ایجنڈا دینا کوئی کالج کا لیکچر لگ رہا تھا جس کیلئے پہلے سے کوئی پلاننگ نہیں کی گئی تھی۔ 100دن کا ایجنڈا عمران خان کی خواہشات کا مجموعہ ہے۔ حیرت ناک بات ہے کہ پی ٹی آئی والے اگر حکومت میں آئے تو پہلے 3مہینے صرف پالیسی دینے میں لگا دیں گے۔

اداروں کے لوگوں کو اپنی پالیسی سمجھانے میں ان کو 420دن لگیں گے۔ جہانگیر ترین کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل کیا گیا ہے اور وہ 18000ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ ان کی جانب سے غریب کسان کی بات کرنا مضحکہ خیز ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایجنڈے میں جو باتیں کیں وہ شروع دن سے پیپلز پارٹی کا منشور رہا ہے۔ 2013سے 2018تک قومی اسمبلی کے 550سے زیادہ اجلاس ہوئے ، جن میں عمران خان نے 20سے بھی کم مرتبہ شرکت کی، جس سے عمران خان کی سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے عمران خان کا پاکستان کے اندر جمہوریت کی پرورش میں کوئی کردار نہیں ہے ۔

عمران خان نے 50دن میں 100لوٹے اکٹھے کئے اور ان کے پاس ہر سائز ، ہر رنگ کا لوٹا موجود ہے۔ اس موقع پر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ جو کام عمران خان اور پی ٹی آئی والے جو کام 5سال میں نہیں کرسکے وہ 100دن میں کیسے کریں گے۔ ان کیلئے میرے قائد آصف زرداری اور بلاول بھٹو ایک پروگرام ہی کافی ہے کوئی ایک سنار کی اور 100لوہار کی۔ عمران خان کی باتوں کی وجہ سے ان کو اب کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

اب تو نجومیوں نے اعلان کردیا ہے کہ عمران خان کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کی لکیر نہیں ہے اس لئے عمران خان 100دن کا ایجنڈا دے اپنی خواہشات پوری کررہے ہیں۔ عمران خان کا رویہ اور مزاج ہی نہیں کہ وزیراعظم بن سکیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اندر فرشتے لانے تھے لیکن وہ تو پورے پاکستان سے لوٹے اور ڈرم اکٹھے کرچکے ہیں۔ آصف زرداری کا تدبر اور تجربہ اور بلاول بھٹو کا جوش پاکستان کے اندر حقیقی تبدیلی لائے گا۔

لوگوں نے بھٹو کی خاطر جانیں بھی دی ہیں اور اب بھی دینے کو تیار ہیں۔ جو لوگ ہمیں چورکہتے تھے آج وہ خود بین الاقوامی چوری کرنے کے جرم نااہل ہوچکے ہیں۔ پی ٹی آئی والوں میں برداشت اتنی ہے کہ اگر کسی کو کہہ دو کہ عمران خان وزیراعظم نہیں بنے گا تو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ ہم صرف باتیں نہیں کرتے آئندہ انتخابات میں پوری قوم پیپلز پارٹی کی کارکردگی دیکھ لے گی۔

ہم نے ایسا کوئی گناہ نہیں کیا کہ عوام کے سامنے شرمندہ ہوں ۔ ہمارے پاس بھٹو اور بینظیر ہیں جو کسی کے پاس نہیں ہیں، ہم محب وطن بھٹو خاندان کے پیروکار ہیں جبکہ نواز شریف اپنے مفادات بچانے کیلئے ہر حد پار کرنے کو تیار ہیں اور خود کو مجیب الرحمان سے ملا رہا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ (ن) لیگ اگر پنجاب میں اداروں کی مدد سے جیتے تو وہ کارکردگی کہلاتی ہے۔

اور پیپلز پارٹی جیتے تو سب کو سازش نظر آتی ہے۔ ہم نے سندھ کے اندر بہترین کام کیئے ہیں۔پورے پاکستان میں دل کا بہترین علاج سندھ میں ہوتا ہے۔ کراچی کا کچرا اٹھانا وزیراعلیٰ کا نہیں بلکہ ان کا کام ہے جو 20سال سے کراچی حکومت کررہے ہیں۔۔نواز شریف کا بیانیہ پاکستان کے محب وطن لوگوں کو قبول نہیں وہ صرف اپنی ذات کیلئے پاکستان کی عدلیہ ، افواج اور اداروں کو تباہ کرنے پر تلے ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی ذات کی خاطر اور بھارت کی محبت میں ملکی سلامتی کو دائو پر لگا دیا ہے اگر بھٹو بننا ہے تو بھٹو کا موقف اپنائو ۔ عمران خان صرف اپنی ذات کی سیاست کررہے ہیں۔ ہم نے 5سال میں جو بھی اقدامات اٹھائے وہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے تھے ہم صرف جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں اس کیلئے ہم نے بہت سی کڑوی گولیاں بھی کھائی ہیں۔

اس موقع پر ہمایوں خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی عوام نے عمران خان کے 100دن کا خواب مسترد کردیا ہے کے پی کے عوام نے 2013میں بھی عمران خان پر یقین کیا تھا جس کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں عمران خان نے کے پی کے کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا اور صحت ، تعلیم اور احتساب کے شعبے کو تباہ کردیا ہے۔ عمران خان صرف تقریروں میں کے پی کے کی ترقی دکھا رہے ہیں جو اصل میں موجود نہیں۔

بین الاقوامی اداروں سے قرضے نہ لینے کا اعلان کرنے والوں نے 5سال کے دوران صرف ایک منصوبے کیلئے 41.88بلین روپے کا قرضہ لیا لیکن پھر بھی وہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا ۔ عمران خان کی سوچ مغل بادشاہوں کی طرح ہے جس میں نہ وہ کوئی پلاننگ کرتے ہیں اور کام کاآغٓاز کردیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تعلیم کا انقلاب لانے کی عمران خان بات کرتے ہیں لیکن حقیقت میں اس میٹرک کا رزلٹ پورے پاکستان میں سب سے بد ترین رہا۔

عمران خان نے صوبے میںجو کام شروع کیئے تھے اس پر نیب نے انکوائری شروع کردی ہے۔ خیبر پختونخوا کی عوام آئندہ انتخابات میں اپنے وعدے نامکمل کرنے پر عمران خان سے بدلہ لیں گے۔ اس موقع پر روبینہ خالد نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تبدیلی صرف سوشل میڈیا اور فیس بک پر ہی نظر آتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ کے پی کے میں جو صحت کے منصوبے آج مکمل ہورہے ہیں ان کا آغاز پیپلز پارٹی نے کیا تھا۔

ہم نے کے پی کے میں برن یونٹ پر کام شروع کیا تھا جو 90فیصد مکمل ہوگیا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے اس کا باقی 10فیصد 5سال میں مکمل نہ کرسکی۔ اب جل جانے والے مریضوں کو مجبوراً اسلام آبادآنا پڑتااور کچھ لوگ راستے میں دم توڑ جاتے ہیں۔ عمران خان کے منصوبے جھوٹ اور دھوکہ ہیں۔ کے پی کے میں جب دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے تھے اور اپنے گھروں سے بے گھر تھے عمران خان اس وقت اسلام آباد میں دھرنوں میں ناچ گانا کررہے تھے ۔ عمران خان نے اپنے 100دن کے ایجنڈے میں 1کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے جس کیلئے 24کھرب روپے درکار ہوں گے جبکہ پاکستان کا مجموعی بجٹ 8کھرب کا ہے، تو عمران خان باقی کے 16کھرب کہاں سے لائیں گے۔ عمران خان کا ایجنڈا شیخ چلی کی کہانیاں ہیں۔