مسلم لیگ (ن) کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچاسکتا ،کبھی یہ نہیں کہا کہ اگر میںنے زبان کھولی تو نواز شریف منہ دکھانے کے قابل نہیں رہینگے ،گزشتہ چند روز کے دوران مجھ سے منسوب کرکے جو خبریں میڈیا میں چلائی گئیںان میں کوئی حقیقت نہیں ،پارٹی میں صرف اور صرف نواز شریف سے ان کے مفاد میں اختلاف رائے کیا ،نواز شریف نے جب مجیب الرحمان کو محب وطن قرار دیا تو اس وقت بھی خاموش رہا اور جب نواز شریف کی صدارت سے متعلق قومی اسمبلی میں بل آیا تو اپنے ضمیر کے خلاف اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا، قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے پر قائم ہوں ،تحریک انصاف سمیت کسی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو رہی ،الیکشن جیت کر فیصلہ کروں گا کہ کس طرف جانا ہے ، اگر اقتدار عزیز ہوتا تو ٹکٹ کے حصول کے لئے (ن) لیگ کے پارلیمانی بورڈ میں پیش ہو کر معافی مانگ لیتا اور تھوکا ہوا چاٹ لیتا ،بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی تک نواز شریف کے خلاف بات نہیں کروں گا، کوئی ٹرین مجھ سے چھوٹی اور نہ کسی ٹرین یا جہاز کا مسافر ہوں ،ڈان لیکس میں سرکاری اجلاس میں زیر بحث آنے والے امور سے بالکل متضاد خبر دی گئی ، پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے ، پاکستان کو بند گلی میں دھکیلنے کی سازش ہو رہی ہے، آرمی چیف افغانستان گئے،اگلے دن میں نے کہا خوف آ رہا ہے ضرور کچھ ہو گا، اگلے دن ملا فضل اللہ مارا گیا

سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا پریس کانفرنس سے خطاب

جمعہ جون 21:29

مسلم لیگ (ن) کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچاسکتا ،کبھی یہ نہیں کہا کہ اگر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچاسکتا ،کبھی یہ نہیں کہا کہ اگر میںنے زبان کھولی تو نواز شریف منہ دکھانے کے قابل نہیں رہینگے ،گزشتہ چند روز کے دوران مجھ سے منسوب کرکے جو خبریں میڈیا میں چلائی گئیںان میں کوئی حقیقت نہیں ،پارٹی میں صرف اور صرف نواز شریف سے ان کے مفاد میں اختلاف رائے کیا ،،نواز شریف نے جب مجیب الرحمان کو محب وطن قرار دیا تو اس وقت بھی خاموش رہا اور جب نواز شریف کی صدارت سے متعلق قومی اسمبلی میں بل آیا تو اپنے ضمیر کے خلاف اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا، قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے پر قائم ہوں ،،تحریک انصاف سمیت کسی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو رہی ،،الیکشن جیت کر فیصلہ کروں گا کہ کس طرف جانا ہے ، اگر اقتدار عزیز ہوتا تو ٹکٹ کے حصول کے لئے (ن) لیگ کے پارلیمانی بورڈ میں پیش ہو کر معافی مانگ لیتا اور تھوکا ہوا چاٹ لیتا ،بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی تک نواز شریف کے خلاف بات نہیں کروں گا، کوئی ٹرین مجھ سے چھوٹی اور نہ کسی ٹرین یا جہاز کا مسافر ہوں ،ڈان لیکس میں سرکاری اجلاس میں زیر بحث آنے والے امور سے بالکل متضاد خبر دی گئی ، پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے ، پاکستان کو بند گلی میں دھکیلنے کی سازش ہو رہی ہے، آرمی چیف افغانستان گئے،اگلے دن میں نے کہا خوف آ رہا ہے ضرور کچھ ہو گا، اگلے دن ملا فضل اللہ مارا گیا۔

(جاری ہے)

جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا ہے کہ میرے بارے میں ایسی خبریں آئیں جو میں نے سوچی بھی نہ تھیں۔ چند روز سے میرے متعلق خبریں گردش کرتی رہیں۔میں مریم نواز یا پارٹی کی بات نہیں کررہا۔میں آج کل انتخابی مہم پر ہوں ، کچھ روز قبل چلنے والی خبروں کی میں تردید کرچکا ہوں میرے منہ میں الفاظ ڈالے گئے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں میں نے یہ نہیں کہا کہ میاں نوازشریف منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

میری تقریر کو بنیاد بناکر طرح طرح کی باتیں کی گئیں، میں نے یہ ضرور کہا کہ کلثوم نواز کی علالت کی وجہ سے میں بات نہیں کروں گا، میں نے صرف یہ کہا تھا کہ نوازشریف سے اختلافات پر بات کروں گا، میں نے تمام باتیں سیاسی کی تھیں ذاتی نہیں،انہوں نے کہا کہ میں عوام کے سامنے اپنا موقف رکھوں گا، کہ میرے نواز شریف سے کیا سیاسی اختلافات ہیںمیں4حلقوں پرآزاد الیکشن لڑرہا ہوں۔

میرے حوالے سے کوئی خبر آئے تو اس کی تصدیق ضرور کرلیاکریں۔۔میرا کسی پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہے،میں نے کسی جماعت سے سیٹ ایڈجسمنٹ نہیں کی ، میراحلقہ کے عوام سی(1985) سے رشتہ ہے، میں8مرتبہ مسلسل قومی اسمبلی کا ممبر رہا ، میں نے نوازشریف سے کہا ہے کہ وفاداری کا مطلب لیڈر کی ہاں میں ہاں ملانا نہیں ہے، میرا یہ طرز سیاست نہیں کہ دوسروں پر طنز کروں،25جولائی کو فیصلہ عوام کے سامنے آجائے گا، چوہدری نثار نے کہا کہ میں نی34سال دل سے نوازشریف کو مشورہ دیا ،بیگم کلثوم نواز کی صحیتیابی تک اختلافات پر بات نہیں کروں گا، میں نے ہر قانون سازی میں پارٹی کا ساتھ دیا ، نوازشریف کی پارٹی صدارت سے متعلق بل پر میں نے دل پر بوجھ کے ساتھ ووٹ دیا۔

میں نے پارٹی کے ساتھ کمٹمنٹ دکھائی ۔ میں نے شاہد خاقان عباسی سے کہا کہ میں کابینہ میں نہیں آئوں گا۔ شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف میرے پاس آئے۔آزادی اظہار اور رائے کو بغاوت نہیں سمجھتا میں پارٹی کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیںسکتا میں عزت کی خاطر سیاست کرتا ہوں ،جب میرے اختلافات بڑھے تو میں نے خود کو الگ کرلیا۔میں نہ کسی بس کی تلاش میں ہوں اور نہ انتظار میں ہوں۔

کیا پارٹیاں بنیادی سیاسی اختلافات بھی برداشت نہیں کرسکتیں۔ میں کسی اور کی نہیں صرف نوازشریف کی بات کررہا ہوں،میں سیاسی عزت کی خاطر کرتا ہوں۔میں نوازشریف یا پارٹی کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں سینٹ کی نشستوں کی بندربانٹ پر بھی نہیں بولا۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ یہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے، میں نے پارٹی سے وفاداری نبھائی اگر میں بغاوت کرتا تو میرے پاس بہت سے ایشوز تھے۔

میں آزاد کیوں کھڑا ہوں جلد پریس کانفرنس میں بتائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی بھر پارٹی ٹکٹ کے لیے اپلائی نہیں کیا تو اب کیوں کروں انٹرویو نئے لوگوں کے ہوتے ہیں پرانے لوگوں کے نہیں،میں سیاست عزت کی خاطر کرتاہوں۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ملک کی فکر کریں پاکستان کو بندگلی میں دھکیلنے کی بہت بڑی سازش ہورہی ہے، اس معاملے پر آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیراعظم باخبرہوں گے، کسی کو اس بارے میں فکر نہیں ہے،سب سے زیادہ ذمہ داری سیاسی لیڈران پر ہے میاں نوازشریف اس سے باخبر ہیں اس پر توجہ دیں اور قوم کو بھی آگاہ کریں ،میڈیا افراتفری اور دھینگامشتی پر توجہ نہ دے۔

چوہدری نثار نے علامہ اقبال کا شعر بھی پڑھ کر سنایا۔وطن کی فکر کر نادان مصیبت آنے والی ہے،تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔۔چوہدری نثار نے کہا کہ آرمی چیف کے دورہ افغانستان پر میں نے کہا کہ مجھے خوف آرہا ہے دوسرے دن ملا فضل اللہ کو ماردیا گیا ،میں اگر حکومت میں ہوتا تو امریکہ اور افغانستان سے توپوچھتا کہ ملافضل اللہ کے متعلق معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے پھر اس کو مارنے میں 3سال کیوں لگے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اگر (ن) لیگ چھوڑنی ہوتی تو پی ٹی آئی کی کھلی آفر موجود تھی، عمران خان کے عوام کے سامنے مجھے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی، میں نے اختلافات نوازشریف کے فائدے کے لیے کیے،سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ، اسحاق ڈار میرے پاس آئے تھے،میں سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کرچکا تھا، دنگافساد سیاست نہیں ہے، میں میڈیا کا بہت احترام کرتا ہوں، میڈیا نے مجھے بہت عزت دی ہے ڈان لیکس کی انکوائری میں نے خود کی تھی، وزیراعظم ہائوس سے سیرس نیشنل سیکیورٹی لیک ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بات بننے یا نا بننے سے متعلق خواجہ سعد رفیق کا بیان کس تناظر میں آیا اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ میری پارٹی سے کوئی بات چیت نہیں چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سی معلومات حساس ہوتی ہیں ان کو عوام سے شیئرنہیں کیا جاسکتا۔پارٹی نے سروے کرایا تھا۔آپ اس میں میرے پوزیشن دیکھ لیں سروے میں98فیصد عوام نے ووٹ مجھے دینے کا فیصلہ کیا۔

اور پی ٹی آئی کے لوگوں نے بھی مجھے ووٹ دینے کا کہا۔۔ممبئی حملوں پر نوازشریف کا بیان آیا تو میں پھر بھی سوچ سمجھ کر بولا۔۔ممبئی حملوں کی تحقیقات بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھیں۔بطور آزاد امید وار کھڑا ہونے پر عمران خان نے میرے خلاف امید وار نہ کھڑاکرنے کا کہاجمعہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا ہے کہ میرے بارے میں ایسی خبریں آئیں جو میں نے سوچی بھی نہ تھیں۔

چند روز سے میرے متعلق خبریں گردش کرتی رہیں۔میں مریم نواز یا پارٹی کی بات نہیں کررہا۔میں آج کل انتخابی مہم پر ہوں ، کچھ روز قبل چلنے والی خبروں کی میں تردید کرچکا ہوں میرے منہ میں الفاظ ڈالے گئے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں میں نے یہ نہیں کہا کہ میاں نوازشریف منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ میری تقریر کو بنیاد بناکر طرح طرح کی باتیں کی گئیں، میں نے یہ ضرور کہا کہ کلثوم نواز کی علالت کی وجہ سے میں بات نہیں کروں گا، میں نے صرف یہ کہا تھا کہ نوازشریف سے اختلافات پر بات کروں گا، میں نے تمام باتیں سیاسی کی تھیں ذاتی نہیں،انہوں نے کہا کہ میں عوام کے سامنے اپنا موقف رکھوں گا، کہ میرے نواز شریف سے کیا سیاسی اختلافات ہیںمیں4حلقوں پرآزاد الیکشن لڑرہا ہوں۔

میرے حوالے سے کوئی خبر آئے تو اس کی تصدیق ضرور کرلیاکریں۔۔میرا کسی پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہے،میں نے کسی جماعت سے سیٹ ایڈجسمنٹ نہیں کی ، میراحلقہ کے عوام سی(1985) سے رشتہ ہے، میں8مرتبہ مسلسل قومی اسمبلی کا ممبر رہا ، میں نے نوازشریف سے کہا ہے کہ وفاداری کا مطلب لیڈر کی ہاں میں ہاں ملانا نہیں ہے، میرا یہ طرز سیاست نہیں کہ دوسروں پر طنز کروں،25جولائی کو فیصلہ عوام کے سامنے آجائے گا، چوہدری نثار نے کہا کہ میں نی34سال دل سے نوازشریف کو مشورہ دیا ،بیگم کلثوم نواز کی صحیتیابی تک اختلافات پر بات نہیں کروں گا، میں نے ہر قانون سازی میں پارٹی کا ساتھ دیا ، نوازشریف کی پارٹی صدارت سے متعلق بل پر میں نے دل پر بوجھ کے ساتھ ووٹ دیا۔

میں نے پارٹی کے ساتھ کمٹمنٹ دکھائی ۔ میں نے شاہد خاقان عباسی سے کہا کہ میں کابینہ میں نہیں آئوں گا۔ شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف میرے پاس آئے۔آزادی اظہار اور رائے کو بغاوت نہیں سمجھتا میں پارٹی کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیںسکتا میں عزت کی خاطر سیاست کرتا ہوں ،جب میرے اختلافات بڑھے تو میں نے خود کو الگ کرلیا۔میں نہ کسی بس کی تلاش میں ہوں اور نہ انتظار میں ہوں۔

کیا پارٹیاں بنیادی سیاسی اختلافات بھی برداشت نہیں کرسکتیں۔ میں کسی اور کی نہیں صرف نوازشریف کی بات کررہا ہوں،میں سیاسی عزت کی خاطر کرتا ہوں۔میں نوازشریف یا پارٹی کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں سینٹ کی نشستوں کی بندربانٹ پر بھی نہیں بولا۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ یہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے، میں نے پارٹی سے وفاداری نبھائی اگر میں بغاوت کرتا تو میرے پاس بہت سے ایشوز تھے۔

میں آزاد کیوں کھڑا ہوں جلد پریس کانفرنس میں بتائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی بھر پارٹی ٹکٹ کے لیے اپلائی نہیں کیا تو اب کیوں کروں انٹرویو نئے لوگوں کے ہوتے ہیں پرانے لوگوں کے نہیں،میں سیاست عزت کی خاطر کرتاہوں۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ملک کی فکر کریں پاکستان کو بندگلی میں دھکیلنے کی بہت بڑی سازش ہورہی ہے، اس معاملے پر آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیراعظم باخبرہوں گے، کسی کو اس بارے میں فکر نہیں ہے،سب سے زیادہ ذمہ داری سیاسی لیڈران پر ہے میاں نوازشریف اس سے باخبر ہیں اس پر توجہ دیں اور قوم کو بھی آگاہ کریں ،میڈیا افراتفری اور دھینگامشتی پر توجہ نہ دے۔

چوہدری نثار نے علامہ اقبال کا شعر بھی پڑھ کر سنایا۔وطن کی فکر کر نادان مصیبت آنے والی ہے،تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںچوہدری نثار نے کہا کہ آرمی چیف کے دورہ افغانستان پر میں نے کہا کہ مجھے خوف آرہا ہے دوسرے دن ملا فضل اللہ کو ماردیا گیا ،میں اگر حکومت میں ہوتا تو امریکہ اور افغانستان سے توپوچھتا کہ ملافضل اللہ کے متعلق معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے پھر اس کو مارنے میں 3سال کیوں لگے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اگر (ن) لیگ چھوڑنی ہوتی تو پی ٹی آئی کی کھلی آفر موجود تھی، عمران خان کے عوام کے سامنے مجھے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی، میں نے اختلافات نوازشریف کے فائدے کے لیے کیے،سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ، اسحاق ڈار میرے پاس آئے تھے،میں سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کرچکا تھا، دنگافساد سیاست نہیں ہے، میں میڈیا کا بہت احترام کرتا ہوں، میڈیا نے مجھے بہت عزت دی ہے ڈان لیکس کی انکوائری میں نے خود کی تھی، وزیراعظم ہائوس سے سیرس نیشنل سیکیورٹی لیک ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بات بننے یا نا بننے سے متعلق خواجہ سعد رفیق کا بیان کس تناظر میں آیا اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ میری پارٹی سے کوئی بات چیت نہیں چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سی معلومات حساس ہوتی ہیں ان کو عوام سے شیئرنہیں کیا جاسکتا۔پارٹی نے سروے کرایا تھا۔آپ اس میں میرے پوزیشن دیکھ لیں سروے میں98فیصد عوام نے ووٹ مجھے دینے کا فیصلہ کیا۔ اور پی ٹی آئی کے لوگوں نے بھی مجھے ووٹ دینے کا کہا۔۔ممبئی حملوں پر نوازشریف کا بیان آیا تو میں پھر بھی سوچ سمجھ کر بولا۔۔ممبئی حملوں کی تحقیقات بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھیں۔بطور آزاد امید وار کھڑا ہونے پر عمران خان نے میرے خلاف امید وار نہ کھڑاکرنے کا کہا۔