آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کو تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے با اختیار بنایا گیا ہے ،ْراجہ محمد فاروق حیدر

قوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ پر حکومت پاکستان کا جاندار موقف سامنے آنا چاہیے ،ْوزیر اعظم آزاد کشمیر

منگل جون 17:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کو تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے با اختیار بنایا گیا ہے بعض لوگوں کو آج بھی تیرہویں آئینی ترمیم ہضم نہیں ہو رہی آزاد کشمیر متنازعہ علاقہ ہے خودمختیار ریاست نہیں اور نہ ہی آزادکشمیر نے اپنی فوج کھڑی کرنی ہے کچھ لوگ بلاوجہ آئینی ترمیم پر اعتراض کر رہے ہیں پاکستان سے نظریاتی رشتہ ہے مدینہ منور کے بعد اہل کشمیر کے نزدیک پاکستان کی اہمیت اور پاکستان سے محبت ہے ہر کشمیری کی خواہش ہے کہ پاکستان سیاسی ،معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط اور مستحکم ہو مستحکم پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی کامیابی کا ضامن ہے ملک کے اندر آئین و قانون کی بالا دستی اور جمہوریت کے فروغ و استحکام کے لیے وکلا برادری کا بڑا کردار اور قربانیاں ہیں ہندوستان کبھی بھی پاکستان کا ہمدرد نہیں ہو سکتا مودی ڈاکٹرائن یہ ہے کہ پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر کمزور ہو ملک میں سیاسی استحکام کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہو گا سیاسی انتقام نہیں ہونا چاہیے سیاسی انتقام کی روش سے خرابیاں اور نفرتیں پیدا ہوتی ہیں ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہا ہے اور کشمیریوں کی پرامن آواز کو ریاستی طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے قابض بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مرتکب ہو رہی ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ پر حکومت پاکستان کا جاندار موقف سامنے آنا چاہیے ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی اسلام آباد ہائی کورٹ بار ،ڈسٹرکٹ بار اسلام آباد کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا استقبالیہ تقریب سے سردار ارشد ایڈووکیٹ ،سردار نجیب ایڈووکیٹ ،سید جاوید شاہ صدر ہائیکورٹ بار اسلام آباد و دیگر نے بھی خطاب کیا اور اسلام آباد ،راولپنڈی کے وکلاء کی جانب سے آزادکشمیر میں تیرہویں آئینی ترمیم ،آئین و قانون کی بالادستی ،میرٹ کی بحالی ،گڈ گورننس کے نفاذ کے لیے آزاد حکومت کے جاندار اقدامات کا بھرپور خیر مقدم کیا تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق مفصل رپورٹ پیش کی گئی ہے پاکستان میں نگران حکومت کی طرف سے کشمیرسے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر جاندار موقف سامنے آنا چاہیے تھا نگران حکومت کو کشمیر سے متعلق بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو مد نظر رکھ کر اقدامات اٹھانے چاہیں کیونکہ کشمیری صرف پاکستان کو ہی اپنا وکیل سمجھتے ہیں اور کشمیریوں کی ساری امیدیں صرف پاکستان سے وابستہ ہیں پاکستان صرف کشمیریوں کے لیے ہی نہیں ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بھی امید کی کرن ہے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی تحریک تکمیل پاکستان کے لیے ہے پاکستان کشمیریوں کی منزل ہے اہل کشمیر کے نزدیک پاکستان کی اہمیت اور حیثیت ہے کشمیریوں کی پناہگاہ پاکستان ہے انہوں نے کہا کہ ایک وکیل نے بھرپور جدوجہد کے ذریعے پاکستان حاصل کیا اور مسلمانوں کے لیے علیحدہ مملکت کا خواب شرمندہ تعبیر کیا پاکستان کے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ یہاں جمہوری اور سیاسی استحکام ہو وکلاء نے جمہوریت کے لیے بڑی قربانیا ں دی ہیں جمہوریت سے پاکستان مستحکم ہو گا اور قیامت تک پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود رہے گا پاکستان کو سیاسی اور اقتصادی طو رپر مضبوط او رمستحکم بنانے کے لیے ساری سیاسی قیادت کو مل کر کام کرنا ہو گا اور سیاست کو دشمنی میں بدلنے کے رویئے سے گریز کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات ہو رہے ہیں پاکستان کے عوام اور باشعور طبقہ ایسے عناصر کو مسترد کردے جو ادھر ادھر بھاگتے ہی اور جماعتیں تبدیل کرتے ہیں ایسے سیاسی طرز عمل کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے وزیراعظم آزادکشمیر نے مزید کہا کہ پاکستان ایٹمی قوت اور 21کروڑ عوام کا ملک ہے سی پیک سے پاکستان میں ترقی اور خوشحالی آئے گی گوادر بین الاقوامی تجارت کا مرکز بنے گا ملکی خوشحالی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی معاشی اور اقتصادی استحکام ہو ہم سب نے مل کر قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے قومی معاملات میں یکجا ہونے کی ضرورت ہے وکلاء اور اساتذہ کسی بھی معاشرے کا سب سے باشعور طبقہ ہوتے ہیں وکلاء کی ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ جمہوریت ،قومی یکجہتی کے فروغ اور نفرتوں پر مبنی سیاسی رویئے کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔