Live Updates

قومی اسمبلی انتخابات ،ْ الیکشن کمیشن نے 3 ہزار 3 سو 55 میں سے 2 ہزار 8 سو 70 انتخابی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرلیں

پیر اگست 15:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2018ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات لڑنے والے 3 ہزار 3 سو 55 میں سے 2 ہزار 8 سو 70 انتخابی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرلیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکشن ایکٹ کی رو سے قومی اسمبلی کی نشست پر لڑنے والے انتخابی امیدوار کے لیے انتخابات میں کم از کم 25 فیصد ووٹ لینا ضروری ہے اس حوالے سے بتایا گیا کہ جن انتخابی امیدواروں کی ضمانت ضبط کی گئی ہیں ان میں تقریباً 10 سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور متعدد نامور سیاستدان شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری، متحدہ مجلس عمل کے چیف مولانا فضل الرحمن ،ْ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیف محمود خان اچکزئی، بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیف ڈاکٹر بلوچ، قومی وطن پارٹی کے صدر آفتاب احمد شیر پاؤ، پاک سرزمین پارٹی کے صدر مصطفی کمال، ترقی پسند پارٹی کے چیف قادر مگسی، پاکستان تحریک انصاف (گلالئی)، اور پاکستان عوامی راج (پی اے آر) کے صدر جمشید دستی اس فہرست میں شامل ہیں جن کی مختلف انتخابی حلقوں سے ضمانتیں ضبط ہوئیں۔

(جاری ہے)

سب سے زیادہ انتخابی ضمانتیں فاٹا میں 95.48 فیصد، اسلام آباد میں 92.42 فیصد، بلوچستان میں 91.98 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 86.13 فیصد ضمانتیں ضبط ہوئیں جبکہ سندھ میں 84.46 فیصد اور پنجاب میں ضمانتیں ضبط ہونے کا تناسب 84.46 فیصد رہا۔فاٹا میں کل 266 انتخابی امیدواروں میں 254 کی انتخابی ضمانتیں ضبط ہوئیں، اسلام آباد کی 3 نشستوں کے لیے لڑنے والے کل 66 میں سے 61 امیدواروں کی انتخابی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔

اسی طرح بلوچستان سے کل 287 میں سے 264 اور خیبرپختونخوا سے کل 411 میں سے 354 انتخابی امیدوار 25 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انہیں اپنی ضمانتوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔دوسری جانب سندھ سے کل 824 میں سے 696 انتخابی امیدوار جبکہ پنجاب سے ایک ہزار 2 سو ایک میں سے ایک ہزار 2 سو 41 امیدوار اپنے انتخابی حلقوں میں 25 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کرسکے۔

شہبا شریف این اے 3 (سوات)، بلاول بھٹو زرداری این اے 23 (مالاکنڈ) اور این اے 246 (کراچی)، مولانا فضل الرحمن اور آفتاب احمد شیر پاؤ اپنے آبائی شہر اے این 38 (ڈی آئی خان) اور این اے 23 (مالاکنڈ)، ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار این اے 245 اور این اے 247 (کراچی)، پی ایس پی کے چیف این اے 253 (کراچی) کی نشستوں پر 25 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہ کرنے پر اپنے ضمانتوں سے محروم ہوئے۔

ٹی پی پی کے چیف مگسی این اے 213 (نواب شاہ)، محمود خان اچکزئی این اے 265 (کوئٹہ)، بی این پی کے چیف این اے 259 (ڈیرہ بگٹی)، اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید این اے 250 (کراچی) اور جے یو پی کے نورانی صاحبزادہ عبدالخیر این اے 227 (حیدر آباد) میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انتخابی ضمانت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔عائشہ گلالئی کو این اے 25 (نوشیرہ)، این اے 53 (اسلام آباد)، این اے 161 (لودھراں) اور این اے 231 (سجاول) میں بدترین شکست کا سامنا رہا جبکہ جمشید دستی این اے 182 (مظفرگڑھ)، این اے 185 (مظفرگڑھ) اور این اے 189 (ڈی جی خان) میں 25 فیصد ووٹ حاصل کرنے پر اپنی زرضمانت سے محروم ہو گئے۔
مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کا اعلان سے متعلق تازہ ترین معلومات