کرپشن کے خلاف جہاد میں پوری قوم شریک ہو، ماضی میں وہ پیسہ جو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا تھا منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر لے جا کر محلات بنائے گئے،

کک بیکس اور کمیشن کے لئے ایسے منصوبے شروع کئے گئے جن کی ضرورت ہی نہیں تھی، کرپٹ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں وزیراعظم عمران خان کا پنجاب حکومت کی اینٹی کرپشن ایپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

پیر دسمبر 20:42

کرپشن کے خلاف جہاد میں پوری قوم شریک ہو، ماضی میں وہ پیسہ جو عوام کی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 دسمبر2019ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کے خلاف جہاد میں پوری قوم شریک ہو، ماضی میں وہ پیسہ جو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا تھا، منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر لے جا کر محلات بنائے گئے، کک بیکس اور کمیشن کے لئے ایسے منصوبے شروع کئے گئے جن کی ضرورت ہی نہیں تھی، کرپٹ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں، کرپشن سے ملکی ترقی اور معیشت متاثر ہوتی ہے اور عوام کی ضروریات زندگی مہنگی ہو جاتی ہیں، کرپٹ معاشروں میں سرمایہ کاری نہیں آتی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب حکومت کی طرف سے اینٹی کرپشن ایپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے اینٹی کرپشن ایپ کا آغاز بہت بڑا قدم ہے، پنجاب حکومت نے کرپشن کے خلاف متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ پنجاب حکومت کی کارکردگی سے عوام کو آگاہ کریں بالخصوص کرپشن کے خلاف اقدامات کو اجاگر کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کرپشن اور ان کی زندگی کا آپس میں کیا تعلق ہے، شعور نہ ہونے کی وجہ سے لوگ کرپٹ لوگوں پر بھی پھول پھینکتے اور ان کے لئے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو یہ سمجھ نہیں ہے کہ ملک کا پیسہ چوری ہونے سے صرف حکومت یا قومی خزانے کو نہیں بلکہ پوری قوم کو نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے انسداد بدعنوانی کے لئے جو ایپ بنائی ہے اس کے بارے میں اشتہار دیں اور عوام میں آگاہی پیدا کریں کہ اس ایپ کا کیا فائدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں جو ملک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، ان میں چین سرفہرست ہے۔

چینی صدر کی مقبولیت کا راز یہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ پانچ چھ سالوں میں چار سو سے زائد اعلیٰ حکومتی شخصیات کو کرپشن پر جیل میں ڈالا اور احتساب کیا جس کی وجہ سے وہ چینی عوام میں بہت مقبول ہیں کیونکہ وہاں کے عوام کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ کرپشن سے قوم غریب ہو جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت بیروت، چلی اور عراق سمیت کئی ممالک میں عوام کرپشن کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔

یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے جس میں کرپشن چھپتی نہیں بلکہ بے نقاب ہو جاتی ہے۔ دنیا کو احساس ہو گیا ہے کہ کرپشن سے معاشرے اور قومیں ترقی نہیں کر سکتیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وسائل کا کسی ملک کے غریب یا امیر ہونے سے تعلق نہیں کیونکہ سوئٹزرلینڈ جس کے پاس وسائل کم ہیں، وہ امیر ترین ملک ہے جبکہ اس کے مقابلے میں نائجیریا بے تحاشہ وسائل کے باوجود غریب ہے کیونکہ وہاں کرپشن ہے جس قوم میں خوشحالی ہے وہاں کرپشن نہیں ہے اور جہاں کرپشن ہے وہ قوم خوشحال نہیں ہو سکتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے جدید اور ترقی یافتہ معاشرے کرپشن کے خاتمے پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور اسے برداشت نہیں کرتے۔ امریکہ میں 30 سال بعد بھی اگر کسی کی کرپشن نکل آئے تو اسے پکڑ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں کرپشن ہو تو جو پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا ہوتا ہے وہ کرپشن کی نظر ہو جاتا ہے اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے منصوبوں کے لئے پیسہ نہیں بچتا۔

اس کے علاوہ کرپٹ لوگ اپنا پیسہ پکڑے جانے کے ڈر سے بیرون ملک بھجوا دیتے ہیں اور ڈالروں میں منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کرتے ہیں جس سے ملکی معیشت شدید متاثر ہوتی ہے اور مقامی کرنسی کی قدر بھی گر جاتی ہے جس سے مہنگائی ہو جاتی ہے اور ضروریات زندگی عوام کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ کرپٹ معاشروں میں سرمایہ کاری بھی نہیں آتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں اور ان کے پاس بہت پیسہ ہے اور وہ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن یہاں کرپشن کی وجہ سے وہ سرمایہ کاری نہیں کرتے۔

چین اور بھارت جیسے ممالک میں ان کے سمندر پار شہریوں نے سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ حکمران ایسے منصوبے بناتے ہیں جو کک بیکس اور کمیشن کے لئے ہوتے ہیں۔ ملتان میں میٹرو بس سروس وہاں کے عوام کا مطالبہ تھا نہ ہی ضرورت لیکن کک بیکس اور کمیشن کے لئے ایسے منصوبے شروع کئے جاتے ہیں۔ کرپٹ لوگ عوام کے دشمن ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک احمقانہ بات یہ سننے کو ملتی ہے کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے، یہی احمقانہ سوچ ہمارے پیچھے رہ جانے کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو پیسہ عوام پر خرچ ہونا تھا اس سے منی لانڈرنگ کر کے بیرون ملک لے جایا گیا اور محلات بنائے گئے۔ قوم کو کرپشن کے خلاف جہاد میں شریک ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اینٹی کرپشن مہم میں اس ایپ کے ذریعے ہر پاکستانی کو شریک ہونا چاہئے۔ جب ہمارے نوجوانوں کو یہ شعور آ گیا کہ کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے تو نیا پاکستان بن جائے گا۔

انہوں نے پنجاب اینٹی کرپشن کو اس ایپ کے آغاز پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پنجاب میں اربوں کھربوں کی زمینیں قبضہ گروپوں سے بازیاب کی گئی ہیں۔ 130 ارب کی زمین واگذار کرانا بہت بڑا کارنامہ ہے، پنجاب میں واگذار کی گئی اس بیش قیمت زمین کو ہائوسنگ اور دیگر فلاحی منصوبوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ حکومت پنجاب کرپشن کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔

کرپشن کے خاتمہ کیلئے ایپ کی لانچنگ بڑی کامیابی ہے، احتساب اور انصاف، تحریک انصاف کا بنیادی ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن نے 132 ارب مالیت کی اراضی بازیاب کی ہے اور بدعنوانی میں ملوث 2 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 32 ہزار شکایات کا ازالہ کیا گیا، اینٹی کرپشن پنجاب نے قلیل عرصہ میں 10 انکوائریاں مکمل کیں، عوام بدعنوانی کے خلاف اپنی شکایات درج کرائیں تاکہ ان کا ازالہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی ہو گی تو معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، نہ کرپشن کریں گے نہ کسی کو کرنے دیں گے، کرپشن کے خلاف بھرپور طریقہ سے جہاد کریں گے۔