سندھ اسمبلی نے پولیس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

پیر 4 اگست 2025 22:36

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 اگست2025ء)سندھ اسمبلی نے پولیس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ،سندھ کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چالہ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت سندھ صوبے میں گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹس کے متعلق ڈیڈ لائن کو آگے بڑھادے گی اس حوالے سے غور کیا جارہا ہے ۔

پیر کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کی خاتون رکن قرا العین خان کی جانب سے پیش کئے جانے والے ایک توجہ دلا نوٹس کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ نئی نمبر پلیٹس پوری سندھ کے لئے ہیں اور اس سلسلے میں ہر جگہ سختی ہوگی ۔ انہوں نے بتا یا کہ نئی نمبر پلیٹیس2021 میں لانچ ہوئی تھی۔ کورنگی سائیٹ ایریا اور گلشن میں دو سے تین ماہ تک نئے سینٹرز کھولے جائیں گے۔

(جاری ہے)

قرا العین خان نے اپنے توجہ دلا نوٹس میں کہا تھا کہ سندھ میں گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹس کے ٹائم کے حوالے سے عوام کوسخت مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے جو ڈیڈ لائن دی ہے وہ بہت کم ہے، دیہی علاقوں میں نمبر پلیٹس کو کوئی نہیں پوچھتا، سختی صرف کراچی میں کیوں کی جاتی ہے ۔ ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے اپنے توجہ دلا نوٹس میں اپنے حلقے میں پانی کی شدید قلت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ عوام سخت پریشان ہے۔

واٹر بورڈ کے ایکسیئن پیسے لیکر خود کنکشن دے رہے ہیں۔ چھ چھ دفعہ کال اٹینشن لانے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ پارلیمانی سکریٹری بلدیات قاسم سراج سومرو نے کہا کہ اس معاملے کی سختی سے جانچ پڑتال کی جائے گی کہ کون غیرقانونی کنکشن دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس حلقے کی بات کی جارہی ہے وہاںپانی کی لائن بہت پرانی ہے اور پمپنگ مشینری بھی کافی پہلے کی ہے ۔

پمپنگ اسٹیشن کے لئے کے الیکٹرک کو اسپیشل فیڈر کی درخواست جمع کرائی ہوئی ہے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ کو اسمبلی میں بلاکر بات کریں گے تاکہ مسئلہ حل ہوسکے ۔ پی ٹی آئی کے محمد اویس نے اپنے توجہ دلا نوٹس میںکہا کہ سندھ میں یوسی اور ٹان چئرمینز فنڈز خود استعمال کرتے ہیں۔ کونسلر سے کوئی نہیں پوچھتا۔ کونسلر کا اختیار کونسلر کو ملنا چاہیے۔ آڈٹ رپورٹ بھی کونسلر کے دستخط سے جمع ہونی چاہیے۔

پارلیمانی سکریٹری بلدیات قاسم سراج سومرو نے کہا کہ ہم لوکل کونسل کو بااختیار بنانے کے لیے اس اسمبلی نے ہی پیسے بڑھائے تھے۔ یہ رقم کسی مخصوص شخص کو نہیں بلکے کونسل کو دی جاتی ہے۔اگر کسی کونسلر کو کوئی شکایت ہے گو لوکل گورمنٹ بورڈ میں شکایت کردیں، ہم ایکشن لیں گے۔ پی ٹی آئی کے رکن واجد حسین نے اپنے حلقے میں میں پارکنگ اور بل بورڈز کی وجہ سے سڑک کا حجم کم ہونے سے متعلق توجہ دلا نوٹس پیش کیا ، پارلیمانی سکریٹری بلدیات قاسم سراج سومرو نے کہا فاضل رکن نے جس سڑک کا آپ نے ذکر کیا وہ کی ایم سی کی ہیں۔

مون سون اور سئی گیس کی لائینوں کی وجہ سے کام تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ایوان کی کارروائی کے دوران کراچی میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے حوالے سے عامر صدیقی کی تحریک التواحکومت کی جانب سے مخالفت کے باعث مسترد کردی گئی۔ اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر تھر کول نبی سر تہ تھر کول فیلڈ بلاک ٹو کی آڈٹ رپورٹ سال 2018-19 ، سال 2022-23 پیش کی گئی جسے پبلک اکانٹس کمیٹی کو سپردکردیا گیا۔

ایوان کی کارروائی کے دوران موٹر وہیکل ترمیمی بل پر اسٹینڈنگ کمیٹی کی سفارشات پیش کی گئیں۔بعدمیں سندھ اسمبلی نے صوبائی موٹر وہیکل ترمیمی بل 2025 منظورکرلیا۔کاررروائی کے دوران ایم کیو ایم کے رکن شارق جمال نے اپنے ایک پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ کھوکھراپار تھانے کی حدود میں ایک بچے کو یادتی کے بعد قتل کردیاگیا تھا۔ میں حکومت کے اقدامات کی تعریف کرنا چاہتا ہوں۔

خاص طور پر وزیر داخلہ کا بہت شکریہ جنہوں نے پولیس کو احکامات دیئے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے اپوزیشن کی تعریف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اچھے کام کی اپوزیشن کی طرف سے تعریف اچھی بات ہے۔ جو افسران کام کرتے ہیں ان کی تعریف ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی کورنگی اور انکی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں۔ آئی جی صاحب سے کہوں گا ایس ایس پی کورنگی اور انکی ٹیم کے لیے انعام کا اعلان کریں۔

پی ٹی آئی کے رکن شبیر قریشی نے اپنے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ فیکٹری ایریا میں گرین بیلٹ پر پارکنگ بنائی ہوئی ہے، پلوں کے نیچے بھی پارکنگ موجودہے، یہ عمل غیر قانونی ہے، اس پارکنگ کو ختم کروایا جائے ۔ اپوزیشن کے رکن جمال احمد نے اپنے پوائنٹ آف ٓرڈر پرکہا کہ خواجہ اجمیر نگری پمپنگ اسٹیشن پر ابھی تک پانی نہیں آیا ،آدھا گھنٹہ پانی آتا ہے، 24 دن ہوگئے پانی بند ہے ۔

اس موقع پر رکن اسمبلی خرم کریم نے بھی اپنے علاقے میں پانی کی قلت کی شکایت کی۔سندھ اسمبلی نے اپنی کارروائی کے دوران پولیس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے سے متعلق ایک قرارداد جو پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فاروق اعوان نے پیش کی تھی متفقہ طور پر منظور کرلی ۔قرارداد میں حکومت سندھ سے کہا گیا ہے کہ پولیس کے شہداء کے لواحقین کے لیے صحت، تعلیم، اور خصوصی پیکج رکھا جائے۔

وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آج پولیس کا دن ہے اس موقع پر یہ بہت ہی اہم قرارداد اس ایوان میں آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہی آئی جی کی پی کے شہید ہوئے تھے۔ پولیس کے شہدانے اس وطن پراپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کی۔ میں کچے کے علاقے کا دورہ کر چکا ہوں وہاں جو پولیس کے جوان آپریشن کر رہے ہیں وہ بڑی بہادری کا کام ہے کیونکہ وہاں اے پی سیز بھی پھنس جاتی ہیں مگر ہمارے جوانوں کے حوصلے بلند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی شہدا کی وجہ سے آج سندھ میں امن و امان ہے ،سندھ اسمبلی پولیس کے شہدا کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے واضح احکامات ہیں کہ شہداکے لیے اچھے پئکیج بنائیں۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ پالیسی بنائیں کے شہداء کے لواحقین کو زندگی بھر تنخواہ اور دو نوکریاں ملیں۔وزیر بلدیات سعید غنی نے اس قرارداد کے حق میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فاروق اعوان نے جو کام کئے وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔

فاروق اعوان پر حملہ ہوا، انہوں نے پھر ٹھیک کر دوبارہ اسی جذبے سے کام کیا۔پولیس کو مشینری اور اسلحہ فراہم تو کردیا ہے لیکن جو اسلحہ اور ٹیکنالوجی دہشت گردوں کے پاس ہے وہ پولیس کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج، رینجرز، اور انٹیلیجنس اداروں نے دہشت گردوں کا بڑی جرات کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے پاک فوج، پولیس اور رینجرز کے شہدا کی قربانیوں کو بھی سلام پیش کیا۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ پولیس اور دوسری سیکوریٹی فورسز کے شہدا ہمارا قومی فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں تمام پولیس شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرے پولیس اسی انداز میں پرفارم کرے گی ۔سندھ اسمبلی نے سندھ پولیس کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی جس کے بعدسندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی دوپہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔