پاکستان کشمیری بھائیوں کیساتھ کھڑا ہے ،اقوامِ متحدہ کی جانب سے وعدہ کردہ حق خودارادیت پر عمل کیا جائے، قیصر احمد شیخ

معرکہ حق بڑی کامیابی ،محض عسکری طاقت کافی نہیں ،معاشی بحالی و قومی ہم آہنگی بھی ناگزیر ہے،وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ کا سیمینار سے خطاب

جمعرات 5 فروری 2026 20:35

�سلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 فروری2026ء) وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کے ساتھ ان کی جدوجہد میں کھڑا ہے تاکہ انہیں اقوامِ متحدہ کی جانب سے وعدہ کردہ حقِ خودارادیت حاصل ہو سکے۔ وہ اسلام آباد میں پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (پی ای ایس ایس)اور اوورسیز پاکستانیوں کے اشتراک سے منعقدہ یومِ یکجہتی کشمیر کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ 2017میں برہان وانی کی شہادت کے بعد، جس سے کشمیر کی تحریکِ آزادی عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر ہوئی، سابق وزیراعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں ایک اعلی سطحی وفد جس میں وہ خود اور لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبد القیوم بھی شامل تھے۔مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے برطانیہ گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کی۔

انہوں نے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے، جسے پاکستان نے معرکہ حق قرار دیا، کہا کہ یہ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی اور فیصلہ کن فتح تھی، تاہم انہوں نے زور دیا کہ محض عسکری طاقت کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ معاشی بحالی اور قومی ہم آہنگی بھی ناگزیر ہے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اور چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں کشمیری عوام کو مرکزیت حاصل ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کمیٹی جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین شامل ہیں، ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کشمیر کو ایک عظیم اور اصولی جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بشمول آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدار استصوابِ رائے پر عملدرآمد نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

رانا قاسم نون نے پاکستان کے نوجوانوں کو ایک بڑی قومی قوت قرار دیتے ہوئے مسلح افواج اور سول و عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بلوغت اور سٹریٹجک بصیرت کی تعریف کی اور واضح کیا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے نہ کہ دوطرفہ مسئلہ۔آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکا، چین اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی مسئلہ کشمیر کو عالمی دارالحکومتوں تک لے جانے والی سب سے مثر قوت بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر اب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ لندن، برسلز، برلن، واشنگٹن ڈی سی، کینیڈا اور دیگر عالمی شہروں میں بھی منایا جاتا ہے جہاں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹیز پارلیمانوں، تھنک ٹینکس اور رائے ساز اداروں سے مسلسل رابطے میں رہتی ہیں۔مسلح افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1947ء سے اب تک افواجِ پاکستان کی قربانیوں نے ملک کی بقا اور خودمختاری کو یقینی بنایا۔

انہوں نے معرکہ حق 2025ء کو ایک فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جس نے پاکستان کی اسٹریٹجک برتری اور کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیت کو عالمی سطح پر منوایا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک طویل جدوجہد ہے اور قوم کو مایوسی کے بیانیے ترک کر کے اعتماد، خودی اور جامع قومی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر، سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبد القیوم نے کہا کہ سیاسی، سماجی اور پیشہ ورانہ اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی ہی کشمیری عوام کے ساتھ سب سے مضبوط اظہارِ یکجہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی 2025ء کے پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان نے شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کی، جسے بھارت نے مسترد کیا۔انہوں نے کشمیر کو دنیا کے خطرناک ترین جوہری فلیش پوائنٹس میں سے ایک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے۔

انہوں نے کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی، ظالمانہ قوانین کے خاتمے، متاثرہ خاندانوں کو معاوضے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 34 لاکھ سابق فوجی افواجِ پاکستان اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔اوورسیز پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے شہزادہ حیات نے کشمیر کاز کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور مسلح افواجِ پاکستان اور پی ای ایس ایس کو ان کی قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا میں مقیم پاکستانی سیاسی روابط اور سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے معرکہ حق 2025ء میں افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو قومی وقار میں اضافے کا سبب قرار دیا۔سیمینار کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی کشمیری عوام کو ان کا جائز حقِ خودارادیت دلانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ سیمینار میں ممتاز اوورسیز پاکستانیوں، سابق فوجی افسران، پارلیمنٹرینز اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی، جن میں حامد میر اور مہتاب عباسی سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔