پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اپریل2026ء)
پانی کا بڑھتا ہوا بحران تیزی سے انسانی بقا کی ہنگامی صورتحال میں بدل رہا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ
بھارت کی جانب سے تاریخی
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں
پاکستان میں لاکھوں بچوں اور خواتین کو غذائی
قلت، جسمانی نشوونما میں رکاوٹ اور صحت کے ناقابلِ تلافی نقصانات کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
اسٹنٹنگ اور غذائی
قلت پہلے ہی
دنیا کے شدید ترین صحت کے بحرانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگر
بھارت کی جانب سے
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو
پاکستان میں یہ چیلنجز اگلے چند سالوں میں انتہا کو پہنچ سکتے ہیں جو کہ انسانی حقوق کا ایک سنگین مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں جو کہ
پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دائمی بھوک اور فاقہ کشی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایک خاموش کیفیت ہے۔
(جاری ہے)
یہ حالت دماغی نشوونما کو
نقصان پہنچاتی ہے، قوتِ مدافعت کو کمزور کرتی ہے اور مستقل طور پر انسانی صلاحیتوں کو محدود کر دیتی ہے۔ عالمی سطح پر غذائی
قلت ہر سال تقریباً 2.7 ملین نوجوانوں کی جان لے لیتی ہے۔ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی،
پانی کی
قلت اور بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کے شکار ملک غذائی نظام کو پہنچنے والے
نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
یہ
نقصان اگلے چند سالوں میں بتدریج سامنے آئے گا اگر عالمی برادری اور
ورلڈ بینک نے
بھارت کو اس کے غیر قانونی فیصلے سے نہ روکا۔ طبی ماہرین، ماہرینِ معاشیات اور تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد نے متنبہ کیا ہے کہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں مسلسل مداخلت محض ایک پالیسی تنازع نہیں بلکہ غذائی تحفظ اور عوامی صحت کےلیے براہِ راست خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں کمی کا سب سے پہلا
نقصان زراعت کو ہوگا جس سے فصلوں کی پیداوار کم ہوگی، خوراک کی فراہمی سکڑ جائے گی اور قیمتیں غریبوں کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔
طبی ماہر ڈاکٹر
ملک ریاض خان کا کہنا ہے کہ اگر
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو اس کے نتائج بتدریج نہیں بلکہ فوری اور تباہ کن ہوں گے۔ اسٹنٹنگ کا تعلق صرف قد یا وزن سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق دماغی نشوونما، قوتِ مدافعت اور بقا سے ہے۔ ایک بار جب یہ جڑ پکڑ لے تو اس کا
نقصان زیادہ تر ناقابلِ تلافی ہوتا ہے۔ دریائے
سندھ کے آبپاشی نظام پر منحصر
پاکستان کا زرعی شعبہ اپنی
پانی کی ضروریات کے 80 فیصد سے زیادہ کےلیے ان دریاؤں کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔
پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی مسلسل رکاوٹ گندم، چاول اور کپاس جیسی بنیادی فصلوں کے ساتھ ساتھ پھلوں اور لائیو اسٹاک (مویشیوں) کے لیے بھی خطرہ ہے جو لاکھوں دیہی گھرانوں کی گزر بسر کا ذریعہ ہیں۔ ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اس کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔قومی مجموعی پیداوار میں زراعت کا حصہ تقریباً 23 فیصد ہے اور یہ افرادی قوت کے تقریباً 38 فیصد کو روزگار فراہم کرتی ہے، لہٰذا پیداوار میں کمی اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور غربت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
پروفیسر
ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا یہ کوئی تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی بحران ہے جو دستک دے رہا ہے
۔پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنا سب سے زیادہ کمزور آبادیوں کے خلاف
معاشی جنگ کے مترادف ہے۔
پانی کے اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑے گا جو اس کا مقابلہ کرنے کی سب سے کم طاقت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں تولیدی عمر کی 40 فیصد سے زائد خواتین پہلے ہی غذائی
قلت کا شکار ہیں جبکہ تقریباً آدھی حاملہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے خوراک نایاب اور مہنگی ہوتی جائے گی، ماں کی صحت تیزی سے بگڑے گی اور
پنجاب اور
آزاد کشمیر میں لاکھوں بچے خطرے میں ہوں گے۔ نتائج انتہائی بھیانک ہیں کیونکہ غذائی عدم تحفظ زچگی کی شرحِ اموات میں اضافے، کم وزن بچوں کی پیدائش اور نسل در نسل غذائی
قلت کے دورانیے کو مزید بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ سماجی طور پر بہت سے گھرانوں میں خواتین سب سے آخر میں اور سب سے کم کھاتی ہیں۔
جب خوراک کی کمی شدت اختیار کرتی ہے تو اکثر ان کی صحت سب سے پہلے گرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کے بچوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جاتا ہے۔فوری بھوک سے ہٹ کر خیبر پختونخوا کے ماہرین نے طویل مدتی ماحولیاتی
نقصان کے بارے میں خبردار کیا ہے جو
پاکستان کو
قلت اور غذائی عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے دورانیے میں جکڑ سکتا ہے۔ دریاؤں کے بہاؤ میں کمی زیرِ زمین
پانی کے ضرورت سے زیادہ نکالنے پر مجبور کر سکتی ہے جس سے خاص طور پر
پنجاب اور
سندھ میں زیرِ زمین آبی ذخائر کم ہوسکتے ہیں۔
اس سے نہ صرف فصلوں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام بشمول مویشیوں، ماہی پروری اور خوراک کی پیداوار کےلیے ضروری پولینیٹرز کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ایک ایسی آفت سامنے آ رہی ہے جو ہر گزرتے سال کے ساتھ بحالی کی صلاحیت کو ختم کر سکتی ہے یہاں تک کہ اس سے نکلنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بنیادی قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خطرناک عالمی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
یونیورسٹی آف
پشاور کے
ڈاکٹر زاہد انور کا کہنا ہے کہ
سندھ طاس معاہدے جیسے دیرینہ سمجھوتے کی خلاف ورزی ایک تشویشناک مثال قائم کرتی ہے۔ یہ
پانی کو ایک مشترکہ لائف لائن سے ایک جیو پولیٹیکل ٹول میں تبدیل کر دیتا ہے۔ 1960 میں دستخط شدہ یہ معاہدہ تنازعات کے ادوار میں بھی
پاکستان اور
بھارت کے درمیان تعاون کی ایک نادر مثال رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کا خاتمہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
ورلڈ بینک جیسے اداروں سے عالمی مداخلت کے مطالبات بڑھ رہے ہیں جو اس معاہدے کے ضامن ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مسلسل خاموشی یہ خطرناک پیغام دے گی کہ
پانی تک رسائی کو خوف کےلیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر نعیم نے کہا کہ
دنیا ایک فیصلہ کن موڑ کا سامنا کر رہی ہے۔ خاموشی صرف
پانی کو تسلط پسندانہ دباؤ اور جان بوجھ کر کنٹرول کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کو جواز فراہم کرے گی۔
اگرچہ
پاکستان نے اثرات کو کم کرنے کےلیے
پانی کے ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور انفراسٹرکچر کو بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں لیکن ماہرین نے زور دیا ہے کہ صرف داخلی اقدامات بڑے پیمانے پر ہونے والی ان رکاوٹوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ بنیادی طور پر یہ اب محض سفارتی یا قانونی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ ایک انسانی بحران ہے جو سر پر کھڑا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک
دنیا ردعمل دے گی، تب تک
نقصان شاید ناقابلِ تلافی ہو چکا ہوگا۔