�کھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اپریل2026ء)
سندھ ایکشن کمیٹی نے سکھر پریس کلب میں قومی امن کانفرنس کے موقع پر، SIFC منصوبوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کر دیا ، تفصیلات کے مطابق
سندھ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جئے
سندھ محاز کی میزبانی میں سکھر پریس کلب میں ایک تاریخی قومی امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا،کانفرنس میں
سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینر سید زین شاہ سمیت
ریاض چانڈیو،
ڈاکٹر نیاز کلانی ، سید مسرور شاہ ، نور نبی راھوجو، تاج
مری، روشن ،
ڈاکٹر بدر چنا، ایڈووکیٹ حسیب پنہور،
مرتضیٰ خان جتوئی سمیت
سندھ بھر سے تعلق رکھنے والی قوم پرست جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں، سیاسی کارکنوں، دانشوروں،
سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی اور گورکھ اور کارونجھر کے علاقوں میں مبینہ غیر قانونی قبضوں اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور انہوں نے سمندر کے
پانی اور ساحلی وسائل پر قبضے کی کوششوں سے
سندھ کے ماہی گیروں اور ساحلی آبادیوں کو لاحق خطرات پر بھی روشنی ڈالی، شرکاء نے
سندھ کے عوامی حقوق اور صوبے کی خودمختاری کو درپیش خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
سندھ کے وسائل پر کسی بھی قسم کا قبضہ ناقابلِ قبول ہے، کانفرنس کے دوران مقررین نے
سندھ دریا پر نئی نہروں کے منصوبوں کو
سندھ دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے منصوبے
سندھ کے زرعی مستقبل کو تباہ کر سکتے ہیں اور پہلے سے
پانی کی
قلت کے شکار علاقوں میں بحران مزید سنگین ہو جائے گا، رہنماؤں کا کہنا تھا کہ
سندھ کے پہاڑی، معدنی اور سیاحتی علاقوں کو مختلف منصوبوں کی آڑ میں نجی یا غیر مقامی قوتوں کے حوالے کرنا صوبے کے مفادات کے خلاف ہے۔
(جاری ہے)
سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر SIFC کے ذریعے
سندھ کی زمینوں اور وسائل پر قبضے کی کوششیں جاری رہیں تو
سندھ بھر میں منظم احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ
سندھ کے عوام اپنے حق کے لیے متحد ہو کر میدان میں نکلیں گے اور ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔کانفرنس میں مختلف قوم پرست جماعتوں کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر متعدد قراردادیں منظور کیں، جن میں
سندھ کی زمینوں، دریائی
پانی، ساحلی وسائل، گورکھ، کارونجھر اور دیگر قدرتی و مالی وسائل کے تحفظ کا مطالبہ شامل تھا۔
حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ
سندھ کے وسائل سے متعلق تمام فیصلے صوبائی عوام اور متعلقہ اداروں کی مشاورت کے بغیر نہ کیے جائیں۔اجلاس کے اختتام پر رہنماؤں نے مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے، رابطہ کمیٹیاں تشکیل دینے اور
سندھ کے مختلف اضلاع میں عوامی آگاہی مہم شروع کرنے پر اتفاق کیاگیا ، مقررین کا کہنا تھا کہ
سندھ کی خودمختاری، وسائل اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے یہ قومی کانفرنس ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
سندھ ایکشن کمیٹی نے
سندھ سے محبت رکھنے والے تمام افراد، سیاسی جماعتوں،
سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ
سندھ کے مستقبل کے لیے متحد ہو کر جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔منظور شدہ قراردادیں قومی کانفرنس واضح کرتی ہے کہ
پاکستان ایک کثیر القومی ملک ہے جس میں
سندھ، بلوچستان،پختونخوا اور
پنجاب مساوی قومی اکائیاں ہیں۔
آئینی ترمیم کے ذریعے قومی اکائیوں کو توڑ کر نئے صوبوں کا قیام فیڈریشن کے تصور کے خلاف ہے، جسے کانفرنس مکمل طور پر مسترد کرتی ہے
۔سندھ کروڑوں سندھیوں کا تاریخی مادر وطن ہے اور
کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ اور دارالحکومت ہے۔
کراچی میں لسانی سیاست کو ابھار کر
سندھ کی وحدت کے خلاف کئے جانے والے پروپیگنڈے کی کانفرنس سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
سندھ چھ نہروں کے منصوبے کو پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ کونسل آف کامن انٹرسٹ کے فیصلے کے مطابق صوبوں کی باہمی رضامندی کے بغیر ایسا کوئی منصوبہ نہیں بنایا جائے گا۔
وزیراعظم کی 29 جنوری 2026 کو بلائی گئی میٹنگ تشویشناک ہے۔
پانی کی تقسیم 1991 کے معاہدے کے مطابق ہو۔ انڈس سے نئی نہریں نکالنے، نئے
ڈیم بنانے اور
سندھ کے
پانی کو متاثر کرنے والے تمام منصوبے ختم کئے جائیں۔
انڈس ڈیلٹا کی بقا کو قومی اور عالمی ذمہ داری قرار دیا جائے۔26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیمات کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ حق حاکمیت، اظہارِ آزادی، پارلیمانی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور وسائل پر قبضے کے خلاف ہیں۔این
ایف سی ایوارڈ کے آئینی تحفظ کو ختم یا کمزور کرنے کی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔ این
ایف سی ایوارڈ صوبوں کا آئینی حق ہے، اس میں کوئی تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
سیاسی سرگرمیوں پر پابندی، جھوٹے مقدمات میں سیاسی مخالفین کو قید کرکے خوف کا ماحول قائم کیا گیا ہے۔
عمران خان، ماہرنگ بلوچ، علی وزیر،
یاسمین راشد، ایمان مزاری، بادی چٹھہ، مورو واقعے میں گرفتار بے گناہ سیاسی قیدیوں سمیت ملک بھر کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
سندھ سے جبری طور پر لاپتہ کئے گئے تمام کارکنوں اور بے گناہ شہریوں کو آزاد کیا جائے۔
سندھ میں دفعہ 144 نافذ کرکے سیاسی مخالفین کے راستے روکے گئے ہیں۔
سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینر سید زین شاہ اور رہنماؤں
ریاض چانڈیو،
ڈاکٹر نیاز کلہاڑی، سید مسرور شاہ، نور نبی را?وجو، تاج
مری، روشن عورتو،
ڈاکٹر بدر چنا، ایڈووکیٹ حسیب پنہور،
مرتضیٰ خان جتوئی اور دیگر پر درج جھوٹی ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔
کراچی پریس کلب سے پریس کانفرنس کرنے جانے والے بشیر خان کو گرفتار کرنے کی مذمت کی جاتی ہے۔
کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر
سندھ کی زمینوں کی نیلامی بند کرکے نجی کمپنیوں کو دی گئی زمینیں واپس لی جائیں۔ زرعی کمانڈ ایریا پر قبضے کی کوششیں بند کی جائیں
۔سندھ کے تعلیمی اداروں میں فوری طور پر طلبہ یونین بحال کی جائیں اور اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔شمالی
سندھ میں جاری قبائلی خونریز تنازعات کا خاتمہ لایا جائے، مجرموں کو گرفتار کیا جائے، قانون کی حکمرانی قائم کرکے سرداری نظام ختم کیا جائے۔
پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا استحصال بند کیا جائے، رشوت اور سفارش پر بھرتیاں ختم کی جائیں، سیاسی مداخلت بند کی جائے۔کارونجھر سمیت عالمی ورثہ کی حیثیت رکھنے والے تمام پہاڑوں کی کٹائی روکی جائے اور مستقل قانون سازی کی جائے۔ گورکھ ہل اسٹیشن پر قبضہ ختم کرکے مقامی لوگوں کے چراگاہوں، آمد و رفت کے راستے اور ذرائع بحال کئے جائیں
۔سندھ میں بدامنی، بے روزگاری، غربت، ناانصافی،
منشیات، کرپشن اور خراب حکمرانی کی ذمہ دار
پیپلز پارٹی کی
سندھ حکومت ہے جو 18 سالوں سے
سندھ کے وسائل نیلام کر رہی ہے۔
فوری طور پر شفاف
انتخابات کرائے جائیں اور
سندھ پر قابض حکمرانوں کا احتساب کیا جائے
۔پاکستان لینڈ اینڈ پورٹ اتھارٹی (PLPA) ختم کرکے
سندھ کی ساحلی بندرگاہیں
سندھ صوبے کے حوالے کی جائیں۔ام ارباب چانڈیو کیس میں آنکھوں دیکھے گواہوں کو نظر انداز کرکے ملزمان کو فائدہ پہنچانا انصاف کے خلاف ہے۔
چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس کیس کی عدالتی جانچ کرائی جائے
۔سندھ کی معصوم بچی کماری کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔