پیپلزپارٹی دعووں پرنہیں عملی کارکردگی پر یقین رکھتی ہے، کرم اللہ وقاصی

پیر 4 مئی 2026 19:24

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 مئی2026ء) میئر کراچی کے ترجمان اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی نے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر اپوزیشن کی تنقید کو حقائق سے لاعلمی اور سیاسی بدنیتی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے کراچی کو جدید انفراسٹرکچر فراہم کرنے کے لیے جو عملی اقدامات کیے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں، جبکہ مخالفین کی تنقید اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

ترجمان میئر کراچی کرم اللہ وقاصی نیکہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی، منور چورنگی انڈر پاس، پہلوان گوٹھ روڈ اور عظیم پورہ فلائی اوور جیسے منصوبے شہر کی تقدیر بدلنے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعلی کی جانب سے کام کی رفتار تیز کرنے، معیار بہتر بنانے اور شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پیپلز پارٹی عملی کارکردگی پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے حلیم عادل شیخ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مخالفین الزام تراشی کی سیاست کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے ترقیاتی کاموں نے انہیں بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان کی لیاری کے حوالے سے تنقید کو بھی مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نمائشی سیاست کے بجائے زمینی حقائق کو تسلیم کیا جائے کیونکہ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے سولجر بازار میں تعمیر کی گئی سڑک چند روز میں بیٹھ گئی، جبکہ دوسری جانب اربوں روپے کے بڑے منصوبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ترجمان میئر نے کہا کہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبے نہ صرف ٹریفک مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ شہریوں کو جدید سفری سہولیات بھی فراہم کریں گے، جس سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت دن رات محنت کر کے کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے کے لیے کوشاں ہے اور مخالفین محض بیانات تک محدود ہیں۔ترجمان میئر کراچی کرم اللہ وقاصی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے لیاری کی ترقی کو بھی ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بڑے منصوبے مکمل کیے ہیں۔

لیاری میں بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کے قیام سے ہزاروں طلبہ کو اعلی تعلیم کے مواقع میسر آئے ہیں جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کے ذریعے علاقے کے نوجوانوں کے لیے طبی تعلیم کے دروازے کھولے گئے ہیں۔ مختلف گورنمنٹ ڈگری کالجز کی تزئین و آرائش اور نئے تعلیمی بلاکس کی تعمیر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔صحت کے شعبے میں لیاری جنرل اسپتال کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے جہاں ٹراما سینٹر اور ایمرجنسی خدمات کو بہتر بنایا گیا، جبکہ سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاری میں جدید مشینری، مفت ادویات اور لیبارٹری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

امراض قلب کے علاج کے لیے چیسٹ پین یونٹس کے قیام سے فوری طبی امداد کی سہولت بھی میسر آئی ہے۔انفراسٹرکچر کے حوالے سے لیاری ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت 25 ارب روپے سے زائد کے منصوبے پر کام جاری ہے، جس میں مرزا آدم خان روڈ سمیت اہم شاہراہوں کی بحالی اور اندرونی سڑکوں کی تعمیر نو شامل ہے۔ پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے نئی واٹر سپلائی لائنیں بچھائی گئی ہیں جبکہ پرانے سیوریج نظام کو تبدیل کر کے جدید نکاسی آب کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت، خصوصا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت لیاری کو جدید اور ترقی یافتہ علاقہ بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ پارٹی کا موقف ہے کہ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے علاقے کی محرومیوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اور لیاری کو کراچی کے نمایاں اور ترقی یافتہ علاقوں میں شامل کرنے کے لیے عملی کام تیزی سے جاری ہے۔