بھارت کی خفیہ ایجنسی پاکستان میںامن و امان کی صورتحال پیدا کرنے ،عدم استحکام کیلئے ہر حربہ آزماتی ہے ‘ ملک محمد احمد خان

آزاد کشمیر سمیت ہر جگہ نشانات موجود ہیں ،جو ہوا اسے ایک ایکٹ کے طو رپر نہ لیا جائے ، یہ سیریز بن سکتی ہے ‘ سپیکر پنجاب اسمبلی آج ان کو سخت سے سخت سزائیں نہ دی جائیں تو کل کو کوئی بھی یہ کرے گا میری بات کو تسلیم نہیں کیا جارہا اور وہ تشدد پر اتر آئے گا

بدھ 10 جون 2026 01:30

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جون2026ء) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں جیتنے والوں کو مبارکباد دیتا ہوں اورتوقع کرتا ہوں کہ انتخابات کے نتیجے میں جو بھی اسمبلی اور حکومت بنے گی وہ گلگت بلتستان کے مسائل کو حل کرے گی ،یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی پاکستان کے اندر امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے اور عدم استحکام کے لئے ہر حربہ آزماتی ہے اور آزاد کشمیر سمیت پاکستان میں ہر جگہ اس کے نشانات موجود ہیں جس کے ثبوت عالمی برادری کو فراہم کئے گئے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق جو ہر سیاسی جماعت کے منشور میں ہے وہ ان کو دئیے جائیں اور بین الاقوامی معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاں پرپاکستان کی بین الاقوامی پوزیشن متاثر نہ ہوتی ہواس فریم ورک کے تحت ان کے جو سیاسی حقوق ہیں وہ گلگت بلتستان کی عوام کو ملنے چائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ الیکشن میں ہار جیت سیاسی عمل کا حصہ ہے لیکن جب بھی انتخاب ہوتا ہے وہ عوامی امنگوں کی ترجمانی ہو رہی ہوتی ہے ۔گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ہار جیت کا مارجن بہت کم ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی پاکستان میں امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے اور عدم استحکام کے لئے کام کرتی ہے اور پاکستان نے پاکستان نے متعدد بار اس کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھے ہیں،وہ چاہے کلبھوشن کی صورت میں معاملہ ہو یا حالیہ آزاد کشمیر کے واقعات ہوں ہماری ایجنسیز بھی انہیں کائونٹر کرتی ہیں اور انہوںنے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات کو ایک ایکٹ کے طو رپر نہ لیا جائے بلکہ یہ سیریز بن سکتی ہے ، اگر آج ان کو سخت سے سخت سزائیں نہ دی جائیں تو کل کو کوئی بھی یہ کرے گا کہ میری بات کو تسلیم نہیں کیا جارہا اور وہ تشدد پر اتر آئے گا،یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جسے روکنا ہوگا۔ آزاد کشمیر میں سب نے اسلحہ دیکھا ہے جس سے سکیورٹی اداروں پر حملے کئے گئے ، یہ کوئی معمولی کام نہیں تھے۔