ہمیں سیدھا کہا جا رہا ہے اگر انصاف لینا ہے تو ایجنسی کے لوگوں سے بات کرو، یہ کوئی طریقہ کار ہے؟ علیمہ خان

ساری بارز، لاکھوں وکلاء جن کے الیکشن اتنے جذبے کے ساتھ ہوتے ہیں، وہ کہاں ہیں؟ وکلا بتائیں، آپ کا کیا کردار ہے؟ اب نہیں تو کب آپ پاکستان میں انصاف کیلئے کھڑے ہونے والے ہیں؟ ہمشیرہ عمران خان کی میڈیا سے گفتگو

Sajid Ali ساجد علی پیر 29 جون 2026 17:11

ہمیں سیدھا کہا جا رہا ہے اگر انصاف لینا ہے تو ایجنسی کے لوگوں سے بات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 جون 2026ء) بانی پی ٹی آئی سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم کسی عارضی ریلیف کے حق میں نہیں بلکہ عمران خان کے تمام آئینی حقوق کی بحالی اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم صرف ایک ملاقات نہیں چاہتے، بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کے تمام حقوق بحال کیے جائیں، یہ ایک ملاقات کروا کر پھر چھ ماہ کے لیے انہیں قیدِ تنہائی میں ڈال دیتے ہیں، میڈیا ایجنسیوں کے ہاتھوں گمراہ نہ ہو، میڈیا اور سوشل میڈیا والو اپنی کہانیاں ڈالنے سے پہلے ہمارے درد کو پہچانو، اگر آپ کے گھر میں کوئی بیمار ہو تو پہلی ترجیح اچھا ہسپتال ہوتی ہے، ہم فروری سے مطالبہ کر رہے ہیں عمران خان کو بہتر علاج کے لیے فوراً ہسپتال منتقل کیا جائے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے ججوں کے رویے پر کہا کہ جسٹس سومرو میں عاجزی نظر آئی اور وہ شرمندہ لگے، اللہ تعالیٰ ان کو توفیق اور ہمت دے کہ وہ انصاف کرسکیں، لیکن جج ڈوگر کو دیکھ کر لگتا ہے وہ پورا مینڈیٹ لے کر آیا ہے کہ عمران خان کے خلاف فیصلے دینے ہیں اور انہیں جیل میں ہی رکھنا ہے، اس جج نے ایک بار بھی انسانیت نہیں دکھائی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی 8 ماہ سے قیدِ تنہائی میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عدالتیں اور ججوں کے پروٹوکول عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہیں، اگر انصاف نہیں دے سکتے تو یہ عدالتیں بند کر دیں اور صاف بتا دیں کہ اوپر سے حکم آیا ہے، جب وکلاء ان ججز کے سامنے منتیں کر رہے تھے تو مجھے دکھ ہو رہا تھا، میں پوچھتی ہوں تمہارے قانون و انصاف کا تحفظ کہاں گیا؟ ساری بارز اور لاکھوں وکلاء جن کے الیکشن اتنے جذبے سے ہوتے ہیں، وہ اب کہاں ہیں؟ اب نہیں تو کب آپ پاکستان میں انصاف کے لیے کھڑے ہوں گے؟ ہمیں تو اب سیدھا کہا جا رہا ہے کہ اگر انصاف لینا ہے تو ایجنسی کے لوگوں سے بات کرو، کیا یہ کوئی طریقہ کار ہے؟۔