Live Updates

#بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی زیر صدارت پارٹی رہنماحاجی باسط لہڑی کی رہائش گاہ پر ہوا

' اجلاس کی کارروائی پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹر ی جنرل ملک نصیر شاہوانی نے چلائی اجلاس میں تنظیمی امور ، بلوچستان و ملکی بین الاقوامی سیاسی صورتحال

اتوار 5 جولائی 2026 22:00

.کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 05 جولائی2026ء) راہشون سردار عطااللہ مینگل اور2ستمبر2025شہداشاہوانی اسٹیڈیم کی برسی کی مناسبت سے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر سینئر رہنماسردار نصیر موسیانی کے فرزند شہید سردار زادہ خلیل موسیانی ، عمیر سمالانی اور پارٹی کے دیگر دوست جو جہان فانی سے کوچ کرگئے ان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان کے موجودہ گھمبیر و بحرانی کیفیت کی ذمہ داری بلواسطہ یا بلاواسطہ آمر و سول ڈکٹیٹرز پر عائد ہوتی ہے جو دو دہائیوں سے بلوچستانی عوام کے ساتھ نوآبادیاتی طرز حکمرانی کی روش اپنائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان آج اس نہج پر پہنچ چکا ہے جنرل مشرف کے دور سے شروع ہونے والا پانچواں آپریشن آج بھی جاری ہے انسانی حقوق کی پامالی ، لاپتہ افراد کی تعداد میں آئے روز اضافے ، ظلم کر کے بلوچ اور بلوچستانی عوام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ٹھانی گئی ہے آپریشن کے شروع میں پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل و بی این پی قیادت نے بارہا تقاریر ، تحریر ، سیمینارز ، اسمبلی فلور پر اپنے خدشات کا اظہار کیا اور حالات کی سنگینی ، مشکلات کے بارے میں آواز بلند کی لیکن حکمران و اسٹیبلشمنٹ ٹھس سے مس نہیں ہوئے بلکہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا اجلاس میں کہا گیا کہ اس سے پہلے بلوچستان میں چار آپریشنز کئے گئے لیکن ان میں بلوچ روایات کو پامال نہیں کیا گیا خواتین کو بلوچستان کے معاشرے میں قدر و منزلت سے دیکھا جاتا ہے لیکن گزشتہ ڈھائی سالوں سے سلیکٹڈ حکمران جو اقتدار پر براجمان ہیں انہوں نے بلوچ خواتین بچیوں ، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی ، بلوچستان کے ہر مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل کرنا چاہا جس کی وجہ سے آج بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ اور سماجی بحرانات جنم لے چکے ہیں آج صرف بلوچ علاقے نہیں بلکہ اہل بلوچستان مشکلات کا شکار ہیں ، تجارت ، زراعت سمیت ہر شعبہ تباہی کے دہانے پہنچ چکا جس کی وجہ سے بلوچستان کے عوام نان شبینہ کے محتاج بن چکے ہیں باڈرز کی بندش سے عوام غربت ، افلاس ، کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پارٹی نے سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ان تمام معاملات ، بالخصوص لاپتہ افراد ، آپریشن کے حوالے سے بارہا بات کی لیکن موجودہ حکمران جو جنگی حالات سے مالی طور پر مستفید ہو رہے ہیں ان کی نااہل حکمرانی کو طول دینے کی خاطر اصل حقائق کو منظر عام پر لانے کی بجائے من گھڑت اور مکروفریب کے ذریعے دھوکہ دے رہے ہیں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، صبغت اللہ شاجی کو صاف شفاف ٹرائل کے بغیر سزا دینا ، گواہوں و وکلاکو موقف پیش کرنے اوردلائل دینے کی اجازت تک نہ دی گئی اسی طرح بیبو بلوچ ، گل گزاری بلوچ ، بیبرگ بلوچ ان سیاسی قیدیوں کو بھی طویل عرصہ سے قید و بند میں رکھنا اور اب ایسا کوئی جواز باقی نہیں رہا کہ انہیں مزید پابند سلاسل رکھا جائے ان پر انسداد دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات درج کئے گئے فری ٹرائل کا حق نہ دینا ارٹیکل 10 اے کے مطابق غیر ائینی عمل ہے اس ناروا رویش پر بی این پی تشویش کا اظہار کرتے ہیں حکمران نفرتوں کے بیچ بو رہے ہیں جو کسی طرح مناسب نہیں آج بھی طاقت کا سہارا لیا جا رہا ہے جس سے بلوچستان کے حالات مزید گھمبیر ہوں گے ہیں اجلاس میں کہا گیا کہ پارٹی کالانگ مارچ بلوچ خواتین کے ریائی کی خاطر تھا حق و سچائی اور بلوچ ننگ و ناموس کی حفاظت کیلئے تھا اسی پاداش پارٹی کے تین دوست شہید ہوئے اور قائد سردار اختر جان مینگل و پارٹی قیادت کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات کا اندراج ہوئیاور سفری پابندیاں لگائی گئی اور پارٹی کو دانستہ طور پر جمہوری راستے کو روکنے کیلئے ریاستی مشینری کو استعمال میں لایا گیا حکمران اسی خام خیالی میں تھے کہ وہ بی این پی کو زیر کریں گے پارٹی راہشون سردار عطااللہ مینگل اورشہیدوں و غازیوں کی جماعت ہے جو ہمیشہ سے بلوچوں اور مظلوم اقوام کے حق حاکمیت ، حق ملکیت کی قومی جہد کر رہی ہے اصولی و سیاسی موقف پارٹی دوستوں کی جدوجہد کی بدولت پارٹی آج بڑی سیاسی جماعت ہے انسداد دہشت گردی کے مقدمات ، گرفتاریوں ، رہنماں کے جوان بیٹوں کو شہید کرنے کا عمل سے پارٹی مرعوب نہیں ہوگی اجلاس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچ ۔

(جاری ہے)

مظلوم اقوام کے حقوق کیلئے پارٹی اپنا سیاسی ، جمہوری کردار ادا کرتی رہے گی بلوچستان اور ملکی ستا پے ترقی پسند ، روشن خیال ، قوم دوست وطن دوست قوتوں کے ساتھ روابت کو تیز کرنے کی ضرورت پہ زور دی گئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان میں اپنا سیاسی کردار ادا کرتی رہے گی عوام کے ساتھ جاری ناروا سلوک ، انسانی حقوق کی پامالی ، عدالت کے ذریعے خواتین و نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتیوں اور جبری گمشدگیوں میں اضافہ بائے سے تشویش ہے اس کے خلاف پارٹی اپنا سیاسی اور کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راہشون سردار عطااللہ خان مینگل۔

اور شہدائے 2ستمبر 2025کی مناسبت سے ان شہداکو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تعزیتی ریفرنس منعقد کئے جائیں گے اور کراچی میں سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ملک بھر کے ترقی پسند ، روشن خیال ، قوم دوست ، وطن دوست جماعتوں ، دانشوروں ، مفکروں ہر طبقہ فکر کے افراد کو مدعو کیا جائیگا اجلاس میں پارٹی کی مرکزی کابینہ کو اختیار دیا گیا کہ وہ راہشون سردار عطااللہ خان مینگل شہدائے 2ستمبر شاہوانی اسٹیڈیم کی برسی کی مناسبت سے تیاریوں کا جائزہ لیتے رہیں گے اجلاس میں بین الاقوامی امور بالخصوص ایران اور امریکہ اسرائیل کے عالیہ کشیدہ صورتحال پر پارٹی قیادت سردار اختر جان مینگل اور قیادت نے ان حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اجلاس میں تنظیمی امور سے متعلق یہ کہا گیا کہ موجودہ مخدوش ، بحرانی کیفیت سے دوچار حالات کا سیاسی و جمہوری مقابلہ تب ہی کیا جا سکتا ہے جب پارٹی مزید فعال و متحرک اور جدید بنیادوں پر استوار ہو اجلاس میں مختلف تجاویز بھی دی گئیں سابقہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق تنظیم سازی کا جائزہ لیا گیا اور جن علاقوں میں ارگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ان کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد سے جلد ضلعی کنوینشن منعقد کرائیں ۔

نصیر آباد ڈویژن میں تنظیم سازی کے مرحلے کو مکمل کر لیا گیا جو بائے سے حوصلہ ہے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ مزید سیاسی کارکنوں کی ذہنی ، شعوری اور فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے علم و آگاہی اور شعور کو اجاگر کر کرنے کی ضرورت ہے تنظیم سازی کے ساتھ ساتھ سیاسی ورکروں کی زینی فکری تربیت پے بھی زور دی گئی ہے اجلاس میں بلوچستان کے وسائل پر دائمی قبضہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ حکمران اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے بلوچ پشتون بلوچستانی عوام کے آبا اجداد کی زمینوں کو کوڑیوں کے بہا منرلز ایکٹ کے ذریعے نیلام کررہے ہیں اور اس حوالے سے ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں کہ عوام کو استحصال کا نشانہ بنا کر انہیں ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جائے تو قابل مذمت عمل ہے اجلاس میں ڈسٹرکٹ کونسل جعفر آباد کی سفارش پر احسان احمد کھوسہ ، احسان آر بی ، محمد مراد مینگل ،ٹکری خمیسہ بادینی کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کر دی گئی ان کا آئندہ پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات