کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور اسٹریٹ کرائمز کا بڑھتا طوفان سندھ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے،ایم پی پی

جمعہ 17 جولائی 2026 17:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جولائی2026ء) میری پہچان پاکستان کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی نے کراچی میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، اسٹریٹ کرائمز، ڈکیتیوں، تاجروں اور بلڈرز کو موصول ہونے والی بھتہ کی پرچیوں اور امن و امان کی مسلسل خراب ہوتی صورتحال پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ، شہری سہولیات کی فراہمی اور مؤثر طرز حکمرانی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

مرکزی کمیٹی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ کراچی جو پاکستان کی معاشی شہ رگ، صنعتی مرکز اور ملک کو سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرنے والا شہر ہے، آج بدامنی، خوف، بے یقینی اور انتظامی نااہلی کی تصویر بنا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

آقاش کیس سمیت حالیہ ٹارگٹ کلنگ اور جرائم کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر ایک بار پھر منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ شہر میں تاجروں، صنعت کاروں، بلڈرز اور سرمایہ کاروں کو دھمکیاں مل رہی ہیں، بھتہ طلبی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کراچی کی معیشت، روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کا ماحول مزید نقصان اٹھائے گا جس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ایم پی پی نے کہا کہ کراچی کے عوام دوہری اذیت کا شکار ہیں۔

ایک طرف ٹوٹی ہوئی سڑکیں، سیوریج کے مسائل، پانی کی قلت، ٹریفک جام، تجاوزات اور ناقص انفراسٹرکچر شہری زندگی کو مشکل بنا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں عوام کو ذہنی اذیت اور خوف میں مبتلا کر رہی ہیں۔ شہر کے مسائل حل کرنے کے بجائے صرف دعوؤں، اعلانات اور اشتہاری مہمات پر انحصار کیا جا رہا ہے۔مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی نے کہا کہ کراچی کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔

شہر کے بنیادی مسائل سالہا سال سے جوں کے توں ہیں جبکہ اربوں روپے کے ترقیاتی دعوے زمینی حقائق میں نظر نہیں آتے۔ عوام کو تحفظ، روزگار، بہتر ٹرانسپورٹ، صاف پانی اور معیاری بلدیاتی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جس سے مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے۔بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت، سندھ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں، جرائم پیشہ عناصر، بھتہ خور گروہوں، اغوا کاروں، منشیات فروشوں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیا جائے، تاجروں اور کاروباری مراکز کو خصوصی سیکیورٹی فراہم کی جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ایم پی پی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان، وفاقی وزارت داخلہ، گورنر سندھ اور متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ کراچی میں امن و امان اور گورننس کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔