ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی یوم آزادی پاکستان ملی جوش وبھرپور قومی جذبے سے منایا گیا

جمعہ 14 اگست 2026 21:23

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اگست2026ء) ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی پاکستان کا 80واں یومِ آزادی ملی جوش و بھرپور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ شہر کی اہم شاہراہوں، بازاروں، سرکاری و نجی عمارتوں اور گھروں کو سبز ہلالی پرچموں، جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا، جبکہ نوجوانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد قومی پرچم تھامے سڑکوں پر نکلی۔

گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر قومی پرچم لہراتے نظر آئے جبکہ شہریوں نے سبز و سفید لباس، قومی پرچموں جیسے ملبوسات اور بیجز پہن کر وطن سے محبت کا اظہار کیا۔یوم آزادی کے مرکزی اور اہم سرکاری ایونٹس میں گورنر ہائوس لاہور میں پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی جہاں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے قومی پرچم لہرایا۔

(جاری ہے)

تقریب میں امریکی، چینی، ایرانی اور برطانوی قونصلیٹس کے نمائندوں نے خصوصی شرکت کی اور گورنر پنجاب کے ہمراہ یوم آزادی کا کیک کاٹا۔

سکول کے بچوں نے ملی نغمے پیش کیے جبکہ گورنر پنجاب نے بچوں میں تحائف تقسیم کیے۔ تقریب کے اختتام پر ملکی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔یوم آزادی کے موقع پر مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جہاں رینجرز کی جگہ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔ تقریب میں سلامی پیش اور ملکی سلامتی و خوشحالی کے لیے دعا کی گئی۔

شہریوں، طلبہ اور سیاحوں کی بڑی تعداد نے بھی مزار اقبال کا رخ کیا۔گورنر پنجاب نے قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارے آبائو اجداد کی بے پناہ قربانیوں کا ثمر ہے، قوم کو اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ملک دشمن سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔انہوں نے شہدا اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط اور اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

یوم آزادی کے موقع پر لاہور کے مختلف سرکاری، عدالتی، تعلیمی، ثقافتی اور سیاسی مراکز میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ لاہور ہائیکورٹ کی تاریخی عمارت پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے قومی پرچم لہرایا جبکہ پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں سیکرٹری جنرل پنجاب اسمبلی نے پرچم کشائی کی اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔لاہور آرٹس کونسل الحمرا، والڈ سٹی، لیسکو ہیڈکوارٹر، ریسکیو 1122، موٹروے پولیس، پی ڈی ایم اے، نیب لاہور، شیخ زاید ہسپتال، یونیورسٹی آف ایجوکیشن اور دیگر اداروں میں بھی پرچم کشائی، کیک کاٹنے، ملی نغموں، واکس اور دیگر قومی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

الحمرا میں پرچم کشائی کے بعد آزادی واک اور بینڈ پرفارمنس ہوئی جبکہ والڈ سٹی کے تاریخی دہلی گیٹ پر پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کے بعد وزیر خان چوک تک واک کی گئی۔ موٹروے پولیس کے مختلف سیکٹرز میں فلیگ مارچ اور روڈ سیفٹی واکس ہوئیں جبکہ پٹرولنگ گاڑیوں کو قومی پرچموں اور جھنڈیوں سے سجایا گیا۔ریسکیو 1122، لیسکو اور دیگر اداروں کی تقریبات میں قومی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں طلبہ نے ملی نغمے، تقاریر اور خصوصی ڈرامہ پیش کیا جبکہ سوشل ویلفیئر کمپلیکس میں بچوں اور نوجوانوں نے ملی نغموں، جمناسٹک اور میوزیکل پرفارمنسز کے ذریعے جشن آزادی کی خوشیوں میں حصہ لیا۔ شیخ زاید ہسپتال میں بھی پرچم کشائی کے ساتھ ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے یوم آزادی کے پیغام میں قائداعظم محمد علی جناح ،شاعر مشرق علامہ اقبال، فاطمہ جناح اور تحریک پاکستان کے شہدا و غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر وطن میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے تعلیم، محنت، دیانت داری اور احساس ذمہ داری کو حقیقی حب الوطنی قرار دیتے ہوئے آنے والی نسلوں کو بہتر اور محفوظ پاکستان دینے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا، اسے آگے بڑھانے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم آزادی صرف جشن نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، پرامن اور مضبوط پاکستان کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے شادباغ میں جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاشی طور پر مضبوط پاکستان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ آزادی عظیم قربانیوں کا ثمر ہے، اس کی حفاظت، آئین و قانون کی بالادستی اور قومی یکجہتی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان قائداعظم کے رہنما اصولوں ایمان، اتحاد اور تنظیم پر عمل کرنے اور نظام انصاف کو مزید موثر، قابل رسائی اور جوابدہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی یوم آزادی کے حوالے سے مختلف تقریبات منعقد ہوئیں۔ مسلم لیگ (ن) لاہور کے دفتر میں پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی جس میں کارکنوں نے قومی و کشمیری پرچم اٹھا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ استحکام پاکستان پارٹی پنجاب سیکرٹریٹ میں بھی پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی جس میں نوجوانوں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پاکستان و پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے۔

پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ میں بھی یوم آزادی کی تقریب منعقد ہوئی جہاں قومی پرچم لہرایا گیا، کیک کاٹا اور ملکی سلامتی، استحکام، خوشحالی، ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے دعا کی گئی۔ سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ پاکستان کروڑوں عوام کی محفوظ اور باعزت پناہ گاہ اور شہدا کی امانت ہے، ملکی ترقی و استحکام کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔

عوامی تحریک لاہور کے زیراہتمام جیوے پاکستان موٹر سائیکل ریلی بھی نکالی گئی۔ شاہدرہ کے بیگم کوٹ چوک سے شروع ہونے والی ریلی مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی مینار پاکستان پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں یوتھ ونگ کے سینکڑوں موٹر سائیکل سوار نوجوان سبز ہلالی پرچم تھامے شریک ہوئے اور جیوے جیوے پاکستان اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کا قیام دو قومی نظریے، علامہ اقبال کے فلسفے اور قائداعظم کی جدوجہد کا ثمر ہے، ملک کو اس کے حقیقی مقاصد سے ہمکنار کرنے کے لیے جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔لاہور کی مختلف شاہراہوں اور تفریحی مقامات پر جشن آزادی کی تقریبات، واکس اور ریلیاں منعقد ہوئیں جبکہ مختلف مقامات پر ملی نغموں اور قومی ترانوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔

شہریوں کی بڑی تعداد نے قومی پرچم تھامے سڑکوں کا رخ کیا، جبکہ قومی پرچموں سے سجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں، سبز و سفید لباس اور قومی بیجز نے شہر کی فضا کو جشن آزادی کے رنگ میں رنگ دیا۔یوم آزادی کے موقع پر مختلف سرکاری و سیاسی شخصیات اور اداروں کی جانب سے جاری پیغامات میں قومی یکجہتی، سیاسی و معاشی استحکام، قانون کی پاسداری، تعلیم، ترقی، امن، خوشحالی اور قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور دیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزادی محض جشن منانے کا نام نہیں بلکہ وطن کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا عہد بھی ہے۔