جدید ویٹرنری سہولیات سے جانوروں کی صحت اور لائیو اسٹاک شعبہ مزید مضبوط ہوگا، مراد علی شاہ

جمعرات 27 اگست 2026 22:05

جدید ویٹرنری سہولیات سے جانوروں کی صحت اور لائیو اسٹاک شعبہ مزید مضبوط ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 اگست2026ء) وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ اسمبلی چھ مرتبہ صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے، امکان ہے کہ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں بھی ایک بار پھر نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کی جائے۔ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں جدید طبی، تشخیصی اور تحقیقی سہولیات کا قیام لائیو اسٹاک شعبے کی ترقی کی جانب اہم پیش رفت ہے، نئی سہولیات سے جانوروں کی صحت، بیماریوں کی بروقت تشخیص و نگرانی، تحقیق اور ویٹرنری خدمات کا نظام مزید مستحکم ہوگا۔

صحت مند مویشی، بہتر پیداوار اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ حکومت سندھ کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

(جاری ہے)

سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کورنگی میں نئی سہولیات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ لائیو اسٹاک سندھ کی معیشت کا اہم ستون اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے، جبکہ یہ شعبہ غذائی تحفظ، روزگار اور دیہی خوشحالی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

حکومت سندھ جانوروں کی صحت اور ویٹرنری خدمات کے فروغ پر مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جدید پیٹ اسپتال میں علاج، سرجری، انتہائی نگہداشت اور تشخیص کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جہاں پالتو جانوروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق طبی سہولیات میسر ہوں گی۔ نئے تشخیصی و تحقیقی کمپلیکس میں ڈیری، اینالیٹیکل اور پیراسائٹولوجی لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں، جن سے جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص، نگرانی اور روک تھام میں مدد ملے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مؤثر تشخیصی نظام دودھ اور گوشت کے معیار اور فوڈ سیفٹی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ جدید انفرااسٹرکچر کے ساتھ ویٹرنری ماہرین اور محققین کی نئی نسل تیار کرنا بھی حکومت کی ترجیح ہے۔ اکیڈمک بلاک سے ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع مزید بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کو ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور تشخیص کا مرکزی ادارہ بنایا جائے گا، تشخیصی لیبارٹریز کو مزید جدید بنانے اور ویکسین کی تیاری کی صلاحیت مستحکم کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

موبائل ویٹرنری سروسز اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں تک سہولیات پہنچائی جائیں گی۔مراد علی شاہ نے زور دیا کہ تحقیق کو ہاریوں کے عملی مسائل اور ضروریات کے حل سے براہِ راست جوڑا جائے، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ لائیو اسٹاک کے جدید اور پائیدار طریقوں کو فروغ دیا جائے۔ سندھ کی مقامی اور قیمتی مویشی نسلوں کا تحفظ بھی زرعی ترجیحات میں شامل ہے۔

مضبوط لائیو اسٹاک شعبہ، مستحکم دیہی معیشت اور خوشحال سندھ ہمارا عزم ہے۔ دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ اسمبلی چھ مرتبہ صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے، امکان ہے کہ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں بھی ایک بار پھر نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کی جائے۔انہوں نے کہا کہ جس کو شوق ہے وہ قرارداد لے آئے، اصل فیصلہ سندھ کے عوام کریں گے۔

’’میں سندھ کی صوبائی اسمبلی، اراکین اور اپنی عوام کا جوابدہ ہوں، سندھ کے عوام جو چاہیں گے وہی ہوگا، میرے یا آپ کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبوں یا یونٹس کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی ہی عوامی کام کراتی ہے اور صوبے کی ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بلدیاتی نظام اور اداروں کو بااختیار بنانا پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔

سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی ایکٹ اور منتخب بلدیاتی حکومتیں موجود ہیں۔ حکومت بلدیاتی اداروں کو مزید بااختیار اور مستحکم کرے گی، تاہم اختیارات کے ساتھ جوابدہی اور اداروں کی صلاحیتیں بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی رائے ہے کہ دیگر صوبوں کو بھی مؤثر بلدیاتی ادارے قائم کرنے چاہئیں تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کو انتہائی دل خراش قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں جہاں بھی صحت کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، وہاں حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی ذمہ داری سندھ کی حد تک ہے اور پمز واقعے پر وہ کوئی سیاست نہیں کریں گے۔

کیٹی بندر منصوبے کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ کیٹی بندر میں ڈیپ سی پورٹ کا قیام شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا خواب تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہنمائی میں سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کیٹی بندر میں ڈیپ سی پورٹ قائم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ 1854 میں قائم ہوئی جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں پورٹ قاسم قائم کیا۔

کیٹی بندر کراچی اور پورٹ قاسم سے بھی قدیم بندرگاہ ہے اور مستقبل میں اس کی بہت بڑی اہمیت ہوگی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حالیہ عالمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو کیٹی بندر ڈیپ سی پورٹ کی سخت ضرورت ہے۔ تھر کا کوئلہ گیم چینجر ثابت ہوا ہے اور ان شاء اللہ کیٹی بندر ڈیپ سی پورٹ بھی سندھ اور پاکستان کے لیے ایک بہترین اور تبدیلی لانے والا منصوبہ ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سندھ کے عوام کی بہتری کے لیے کام کیا ہے اور آئندہ بھی صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔