بھارتی حکومت مذہبی زیارتوں کے ویزوں کے حوالے سے بھارت اور پاکستان کے مابین 1974ء کے دوطرفہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرے‘ حکومت پاکستان تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہبی مقامات کے دوروں میں سہولت فراہم کرتی ہے ‘ سکھ یاتریوں کا حالیہ دورہ پاکستان مذہبی مقامات کی زیارت کے 1974ء کے معاہدے پر عملدرآمد کے حکومت پاکستان کے عزم کا عکاس ہے

بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کی بھارتی اخبار سے بات چیت

اتوار اپریل 22:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار اپریل ء)بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی زیارتوں کے ویزوں کے حوالے سے بھارت اور پاکستان کے مابین 1974ء کے دوطرفہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرے۔ بھارتی اخبار ٹریبون انڈیا ڈیلی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہبی مقامات کے دوروں میں سہولت فراہم کرتی ہے اور پاکستان نے ان مذہبی مقامات کو محفوظ بنانے کیلئے مربوط کوششیں کی ہیں۔

سکھ یاتریوں کے حالیہ دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مذہبی مقامات کی زیارت کے 1974ء کے معاہدے پر عملدرآمد کے حکومت پاکستان کے عزم کا عکاس ہے۔

(جاری ہے)

بھارت سمیت پوری دنیا سے 20 سکھ یاتریوں نے بیساکھی میلے میں شرکت کی ہے جس کی مرکزی تقریب حسن ابدال میں گورودوارہ پنجہ صاحب میں منعقد ہوئی۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے دوطرفہ معاہدے کی دیانتداری کے ساتھ پاسداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عمومی طور پر مختلف عقائد کے لوگ پورا سال زیارتوں کے سفر کیلئے انتظام کی تیاری کی ہوتی ہے۔

دریں اثناء اتوار کو دفتر خارجہ نے ایک بیان میں بھارتی وزارت امور خارجہ کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سکھ یاتریوں کے دورے کو متنازعہ بنانے کی بھارتی کوشش انتہائی افسوسناک ہے اور دوطرفہ تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان دہائیوں سے بھارت سمیت دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو سہولت دینے کیلئے شاندار انتظامات کرتا ہے اور ان کے پروٹوکول، استقبال، سیکیورٹی، میڈیکل اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جو اس کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری اور میزبانی کی روایات کا حصہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بھارتی حکومت کی ستم ظریفی ہے کہ بھارت کی طرف سے اس سال دو مرتبہ حضرت نظام الدین اولیا ء کے عرس اورخواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے عرس کے موقع پر اس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور جون 2017ء سے پاکستان میں اپنے مذہبی مقامات کے یاترا کیلئے آنے والے سکھ اور ہندو یاتریوں کے کم ازکم تین دوروں پر ویزے دینے سے انکار کردیا جبکہ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔ ترجمان نے بھارتی حکومت کو یاد دلایا کہ پاکستان نے اپنی طرف سے 1974ء کے معاہدے کی ہمیشہ پاسداری کی ہے جس کا ثبوت بھارت سے دو ہزار سے زائد سکھ یاتریوں کو ویزوں کااجراء ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے بھی اس معاہدے کی شقوں کی پابندی کی جائے گی۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments