نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے ڈاکٹر حسن عسکری کے نام پر مسلم لیگ کا رد عمل آ گیا ، فیصلہ سنا دیا

حسن عسکری کے نام پر بہت مشکل ہےکہ ن لیگ اتفاق کرے،پی ٹی آئی کےرویے کی وجہ سے موجودہ صورت حال میں کوئی کام کرنےپرتیارنہیں،رانا ثنا اللہ

جمعرات مئی 23:07

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات مئی ء):نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے ڈاکٹر حسن عسکری کے نام پر مسلم لیگ کا رد عمل آ گیا ، فیصلہ سنا دیا گیا۔صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بہت مشکل ہےکہ ن لیگ حسن عسکری کے نام پر اتفاق کرے جبکہ پی ٹی آئی کےرویے کی وجہ سے موجودہ صورت حال میں کوئی کام کرنےپرتیارنہیں۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں بھی نگران وزیر اعلیٰ کا معاملہ لٹک گیا۔پہلے پہلے مسلم لیگ ن کی حکومت اور تحریک انصاف میں ناصر سعید کھوسہ جو کہ چیف سیکرٹری پنجاب رہ چکے ہیں انکے نام پر اتفاق کیا گیا تھا لیکن بعد میں جب دونوں فریقین کی جانب سے اس نام کا بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب اعلان کر دیا گیا تو پاکستان تحریک انصاف میں اس حوالے سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ۔

(جاری ہے)

اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ناصر سعید کھوسہ کا نام واپس لے لیا گیا اور نگران وزیر اعلٰی کے لیے اور ناموں پر غور شروع کر دیا گیا ۔آج صبح تحریک انصاف کی جانب سے ناصر درانی اور ڈاکٹر حسن عسکری کا نام بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سامنے آیا لیکن ناصر درانی نے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے اپنا نام واپس لینے کا اعلان کر دیا جس کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے صرف ڈاکٹر حسن عسکری کا نام باقی رہ گیا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے ڈاکٹر حسن عسکری کے نام پر مسلم لیگ کا رد عمل آ گیا ، فیصلہ سنا دیا گیا۔صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بہت مشکل ہےکہ ن لیگ حسن عسکری کے نام پر اتفاق کرے جبکہ پی ٹی آئی کےرویے کی وجہ سے موجودہ صورت حال میں کوئی کام کرنےپرتیارنہیں۔انکا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا رویہ ہمیشہ سےغیر سنجیدہ رہا ہے۔

ناصر کھوسہ کا نام دےکر واپس لیا گیااوراس معاملے میں ناصر کھوسہ کو بھی تکلیف پہنچائی گئی۔تحریک انصاف کے رویے کی وجہ سے لوگ انکار کررہے ہیں۔پی ٹی آئی کےرویے کی وجہ سے موجودہ صورت حال میں کوئی کام کرنےپرتیارنہیں۔انکا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کےلیے سمری گورنرکے پاس گئی ہے لیکن اب معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جاسکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ لگتا ہے کہ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا۔

Your Thoughts and Comments