مشرف کی غلطیوں نے فوج کے تشخص کو بہت نقصان پہنچایا ہے ،احسن اقبال،پرویز مشرف موقف میں سچے ہیں تو سینہ تان کر عدالت میں پیش ہوں،اقتصادی ایجنڈا کی تکمیل کے لیے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے، مقابلہ مضمون نویسی کے شرکا سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو

اتوار جنوری 06:39

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔19جنوری۔2014ء) وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ جنرل مشرف موقف میں سچے ہیں تو سینہ تان کر عدالت میں پیش ہوں ۔12اکتوبر کا ٹرائل اس لیے نہیں چاہتے کہ یہ تاثر جائے گا کہ ن لیگ نے انتقام لیا ہے 3نومبر کی ایمرجنسی کو استنثیٰ حاصل نہیں ہے۔ جنرل مشرف کی غلطیوں نے فوج کے تشخص کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔

یہ تاثر دینا کہ عدالت میں پیش ہونے سے فوج روک رہی ہے ادارے کا تشخص مجروح کرنے کی کوشش ہے۔ اقتصادی ایجنڈا کی تکمیل کے لیے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یکجہتی ضروری ہے حکومت کی کوشش ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر کوئی متفقہ لائحہ عمل اپنایا جائے ۔ ہماری سیاست جدا ہوسکتی ہے لیکن قومی ترقی پر کوئی اختلاف نہیں و ہ لاہور میں ٹرسٹ ہائی سکول میں مقابلہ مضمون نویسی کے شرکا سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ کوئی کتنا بھی طاقت کا استعمال کرنا چاہے ہم اُسے ترقی میں حائل نہیں ہونے دیں گے اور پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنائے گے3 نومبر کی ایمرجنسی اور 12اکتوبرکا واقعہ ایک جیسے ہیں2014سال اس لیے اہم ہے کہ اس میں افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلا ہوگا او ر مختلف قوتیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں ان چیلنجزکا مقابہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد رکھے پاکستان کی سیاست میں پختگی آرہی ہیں اور قومی مسائل پر ہم آہنگی موجود ہے انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات ہونے چاہییں جو گروب بھی مذاکرات پر آمادہ ہو اُن سے مذاکرات ضرور کرنے چاہییں اس سے دہشت گردوں کی قوت کمزور ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوں تو پر سب کو مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا چاہییں ہم اے پی سی کے فیصلوں کی روشنی میں کام کررہے ہیں اگر مذاکرات کی کامیابی کا 10فیصد بھی امکان ہو تو کر لینے چاہییں۔ کراچی آپریشن کے لیے سب سیاسی جماعتوں نے مل کر منڈیٹ دیا ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں اپنے نصاب کو تخلیقی میدان میں دنیا سے ہم آہنگ کرنا چاہیے اقتصادی ترقی کا دارومدار ہمارے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں پر ہیں۔

مستقبل میں قوموں کی سلامتی کا دارومدار اسلحہ کے ذخائر پر نہیں بلکہ تعلیمی تحقیق پر ہو گا ہماری 60فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے تعلیم پر غفلت کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہمیں تعلیم کو قومی ترجیح میں پہلے نمبر پر رکھنا ہوگا ہم نے چودہ سال ملک کو بغیر کسی روڑ میپ کے چلایا ہے دینا میں اُنھیں قوموں نے ترقی کی ہے جہنوں نے تعلیم اور تحقیق کو اپنا محور بنایا ہے اس لیے ہمیں تعلیم کہ شعبہ کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تقریب سے ادارہ کے بانی طاہر یوسف ائرمارشل ریٹائرڈ خورشید انور مرزا و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات میں نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments