قطر اور کویت میں کورونا کے مزید نئے کیسز سامنے آ گئے

قطر میں کورونا کے متاثرین کی گنتی 526 ہو گئی ، کویت میں بھی 2نئے کیسز کا اندراج ہوا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ مارچ 11:28

قطر اور کویت میں کورونا کے مزید نئے کیسز سامنے آ گئے
دوحہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25مارچ 2020ء) خلیجی ریاستوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی گنتی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔قطر ٹی وی نے سپریم کمیٹی برائے کرائسس مینیجمنٹ کے حوالے سے منگل کو ٹویٹر پرجاری ایک خبر میں بتایا کہ ملک میں کرونا وائرس کے 25 نئے کیسز کا اندراج کیا گیا ہے جس کے بعد کرونا کے متاثرہ افراد کی تعداد 526 ہوگئی ہے۔ کویت کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے دو نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔

العربیہ نیٹ نیوز کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کویت میں کرونا کے 9 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جبکہ مجموعی کیسوں کی تعداد 39 ہے۔اس کے علاوہ دیگر خلیجی ریاستوں اور عرب ممالک میں کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ کل منگل کے روز خلیجی ریاستوں قطر اور کویت جب کہ مشرق وسطیٰ میں اردن اور افریقی ملک تیونس میں کرونا کے نئے کیسز سامنے آئے۔

(جاری ہے)

اردن کی نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر صحت سعد جابر نے بتایا کہ منگل کے روز کرونا وائرس کے 26 نئے کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔تیونس کی وزارت صحت نے فیس بک پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کرونا کے 25 نئے کیسز کے اندراج کی تصدیق کی اور بتایا کہ تیونس میں کرونا کے متاثرین کی تعداد 114 ہوگئی ہے جب کہ عراق میں کرونا متاثرین کی تعداد 316 تک پہنچ گئی ہے۔واضح رہے کہ کورونا کے باعث کئی خلیجی ممالک میں تمام مساجد میں نمازوں کی ادائیگی پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

لوگوں کو تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ نماز پنجگانہ گھروں سے ہی ادا کریں۔ ایک اور خلیجی ملک میں مساجد کو عبادت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ کویتی اخبار القبس کے مطابق بحرین کی حکومت نے تمام مساجد میں نماز اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے جو کہ عارضی نوعیت کی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق گزشتہ روز مغرب کے نماز سے ہو گیا ہے۔بحرین کی اسلامی امور کی سپریم کونسل کی جانب سے کورونا وائرس کے پیش نظر مساجد میں نمازوں کی ادائیگی پر پابندی کا فتویٰ دیا گیا تھا، جس کے بعد سنی محکمہ اوقاف کی جانب سے اس پابندی کا اعلان کر دیا گیا۔

محکمہ اوقاف نے تارکین وطن اور مقامی افراد کو تاکید کی ہے کہ وہ اس بحرانی گھڑی میں نمازیں گھروں سے ہی ادا کریں۔ عبادت کے معاملے میں بالکل غفلت نہ کریں کیونکہ آج کے بحرانی دور میں پیدا ہونے والی آزمائش سے نجات کے لیے زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی لازمی ہو گئی ہے۔ ہر اذان میں لوگوں سے کہا جائے گا کہ وہ گھروں پر ہی نماز ادا کریں۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس کے خدشے کے باعث تمام مذاہب کی عبادت گاہیں عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔

تمام مساجد میں بھی صرف اذان دی جا رہی ہے، اور لوگوں کو نمازیں گھر پر ہی پڑھنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔اماراتی مساجد میں ادا ہونے والی اذانوں کے اختتام پر کچھ الفاظ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اذان کے اختتام پر موذن یہ کہتا سُنائی دیتا ہے ”الصلاة فی بیوتکم“ یعنی گھروں پر ہی نماز اد اکرو“۔ شارجہ کی النور مسجد میں بھی جب فجر کی اذان میں پہلی بار یہ الفاظ دُہرائے گئے تو بہت سارے نمازی حیران رہ گئے، کیونکہ ان کی زندگیوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ اذان کے اختتام پر ’نماز گھروں میں ہی اداکرو“ کے الفاظ دُہرائے جا رہے تھے۔ مملکت بھر میں مساجد میں نماز کی ادائیگی پر چار ہفتوں کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے ۔ یہ پابندی نماز جمعہ پر بھی عائد ہو گی۔

دوحہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments