Phoonko Se Yeh Chirag Bujh Na Jaye Ga

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔۔۔تحریر: زین العابدین

اول سے لے کر آخر تک تمام انبیاء کا بنیادی پیغام توحیدِ باری تعالی پہ ایمان تھا.چنانچہ آمدِ مصطفی سے کائنات میں انقلاب برپا ہوا

پیر دسمبر

phoonko se yeh chirag bujh na jaye ga
”یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں،حالانکہ اللہ کو اپنے نور کی تکمیل کے سوا ہر بات نامنظور ہے چاہے کافروں کو یہ بات کتنی ہی بری لگے“(سورت توبہ،آیت:32) اللہ نے انسان کو پیدا فرمایا تو پیدائش کا مقصد اور منزل کا تعین بھی فرما دیا. وقت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ انسان کی رہنمائی کے لیے اللہ نے انبیاء بھیجے.آخر میں خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث فرما کر نبوت کا دروازہ بند فرما دیا.
اول سے لے کر آخر تک تمام انبیاء کا بنیادی پیغام توحیدِ باری تعالی پہ ایمان تھا.چنانچہ آمدِ مصطفی سے کائنات میں انقلاب برپا ہوا۔توحیدِ باری تعالی کے انوارات نے ساری انسانیت کے قلوب کو منور کردیا.اللہ نے جہاں اہلِ ایمان کو منزل تک رسائی کے لیے کچھ حدود و قیود مقرر فرما دیں وہیں ایمان کے اندرونی اور خارجی دشمن سے بھی آگاہ فرما دیا.
ایمان کا تعلق انسان کے قلب سے ہے. دراصل ایمان دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو بندے اور رب کے درمیان تعلق کا سبب بنتی ہے اور بندہ عشقِ الہی میں غرق ھو جاتا ھے وہ ہر وقت وصالِ الہی کا طالب بن جاتا ھے. ایمان کا اندرونی دشمن ”نفس“کو قرار دیا گیا. نفس ان انسانی خواہشات پہ مشتمل ھوتا ھے جو انسان کو مادی چیزوں کی طرف متوجہ کرتا ھے اور رب سے دوری کا سبب بنتا ھے۔

اللہ نے اس نفس کا اعلاج بھی بیان فرمایا.

پورے قرآن کریم میں کوئی مضمون ایسا نہیں جس کو سمجھانے کے لیے اللہ نے اتنی زیادہ اور مسلسل قسمیں کھائی ھوں. اس مضمون یعنی تذکیہءِ نفس (نفس کو سنوارنا) کو سمجھانے کے لیے اللہ نے سورت الشمس میں مسلسل گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد فرمایا کہ اللہ نے انسان کا نفس بنایا اس میں نیکی اور بدی دونوں کا مادہ رکھ دیا. پھر فرمایا”یقینا کامیاب ہوا وہ شخص جس نے تذکیہِ نفس کیا اور نامراد ھوا وہ شخص جس نے اسے خاک میں ملا دیا.“ یعنی ایک طرف بندے کی نفسانی خواہشات ہیں اور دوسری طرف ایمان کی روح.جس نے نفس پہ قابو پا لیا اس نے ایمان کو پالیا اور جو نفسانی خواہشات کے تابع ھوا وہ ناکام ھو گیا.ایک اور جگہ سورت اعلی میں فرمایا ”بھلا ہوا اس شخص کا جس نے نفس کا تذکیہ کیا اور نام لیا اپنے رب کا, پس نماز پڑھی.“گویا اللہ کے ذکر سے روحِ انسانی کو حیات ملتی ھے اس کے برعکس نفسانی خواہشات ایمان کو کمزور کرتی ھیں.
اللہ نے جہاں نفس کو سنوارنے کی بات فرمائی ساتھ واضح کردیا کہ اللہ کے نام کی ضربیں نفس سنوارنے کا ذریعہ ھیں اور ساتھ نماز کا ذکر بھی فرمایا.دراصل جو فرائض اللہ نے مقرر کیے یہ انسان کے ایمان کی بقا کی خاطر ھیں جنھیں آج انسان بوجھ سمجھتا ھے. اگر یہ فرائض نہ ھوں تو انسان کا ایمان ختم ھو جاتا ھے اور روح مردہ ھو جاتی ھے یہی وجہ ھے کہ حدیث میں ذکر کرنے والے کو زندہ اور ذکر نہ کرنے والے کو مردہ کی مثال سے واضح کیا گیا. اللہ نے جہاں اہلِ ایمان کو اندرونی دشمن سے آگاہ کیا وہیں خارجی دشمن کو بھی عیاں کر دیا.اللہ نے اپنے پاک کلام میں واضح بتلا دیا کہ یہود و نصاری کبھی مسلم کے دوست نہیں جو سکتے ھیں.
وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ھیں اور اسلام کے دشمن ھیں. یہی وجہ ھے کہ شروع سے لے کر آج تک دونوں مل کر اسلام کو مٹانے کی سازشیں کر رھے ھیں. ایک وقت ایسا بھی تھا حضرت عمر  کے دور میں فلسطین فتح ھوا تھا تب عیسائی,یہودیت پہ غالب تھے دشمنی بھی تھی یہاں تک کہ عیسائیوں نے یہ معاہدہ بھی قبول کیاکہ کوئی یہودی بیت المقدس میں آباد نہیں ھو سکتا تھا.
اس وقت سے یہودی سازشوں میں مصروف تھا۔ آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہودی سازشیں تیز ھوتی گئیں اور آج وہ وقت ھے کہ جب بظاھر تو عیسائی دنیا پہ حکومت کر رھے ھیں مگر حقیقت میں یہودی ھیں آج ساری دنیا کی معیشت پہ یہودی غالب آ گئے اور عیسائیوں کو اسلام کے خلاف استعمال کررھے ھیں. تاریخ کے اوراق پلٹیں ایسے حقائق سے پردہ اٹھے گا کہ کس طرح غیر محسوس طریقے سے مسلمانوں کو یہود نے عیسائیوں کو ساتھ ملا کر کمزور کیا حتی کہ آج وہ غالب ھیں.
ایک وقت وہ بھی تھا جب غیر مسلم کوئی اسلام کے خلاف زبان کھولنا تو درکنار گستاخی سوچنے کی جرأت کرنے سے گریز کرتا تھا مگرایک دور یہ ھے کہ جہاں شعائرِ اسلام اور کلامِ الہی کی توہین کرنے کی جسارت کی جا رھی ھے حتی کہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کی گئی۔ آج پوری دنیا میں کہیں بھی صحیح اسلامی خلافت کا نفاذ نہیں اور جہاں کوئی خواب دیکھے یہودی اور عیسائی مل کر کچل دیتے ھیں.
آج مسلمان کو انفرادی طور پہ عبادت کی اجازت تو مل جاتی ھے مگر اجتماعی طور پہ نفاذ اسلام کا نام تک نہیں لینے دیا جا رھا. کیونکہ اللہ کی مدد اجتماعی ایمان کے ساتھ ھوتی ھے.غور کریں تو یہود و نصاری نے فحاشی و عریانی اور مادیت پرستی کو مسلمانوں میں عام کیا ایمان کی روح کو کمزور کیا جب مسلم نفس کی لپیٹ میں آ گیا تو انفرادی طور پہ عبادت تو کرتا ھے مگر روح مردہ ھے بیدار نہیں.
اگر اجتماعی طور پہ روح کو حیات مل جائے تو آج بھی اللہ کی مدد قائم ھے۔ اب آہستہ آہستہ یہودی اور عیسائی یہ چیک کرنے کے لیے کہ مسلم میں کتنی غیرت رہ گئی اور ایمان کتنا ھے، کوئی نہ کوئی گستاخی کرتے ھیں کچھ عرصہ پہلے ایک ملعون نے شانِ رسالت صلی اللہ علیہ و سلم میں گستاخی کرنے کے لیے خاکے شائع کرنے کی کوشش کی اور کچھ دن قبل قرآن کریم کو جلانے کی جسارت کی گئی جس کے ردِ عمل میں ایک غیرت مند نوجوان عمر الیاس نے اپنی حتی الامکان ایمانی جذبہ کا اظہار کیا.
آئے روز ایسے واقعات پیش آتے ھیں. مسلم کو اندرونی دشمن سے بھی لڑنا ھے اور خارجی دشمن سے بھی لڑنا ھے.ایک فیصلہ یہودیوں اور نصاری کا ھے کہ پوری دنیائے کفرمل کر خصوصا یہود و نصاری اسلام کو کرہء ارض سے مٹانے کی سازشیں کر رھے ھیں.مگر دوسری طرف ایک فیصلہ اللہ کا ھے کہ جب تک ایک ”اللہ اللہ“کرنے والا موجود ھو گا قیامت نہیں آئے گی گویا اس کائنات کی بقا مبارک نام ”اللہ“ کے نور سے ھے. چنانچہ یہ نور تا قیامت باقی رھے گا آخر کار دشمن ناکام ھونگے.بقول شاعر نورِ خدا ھے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

Your Thoughts and Comments