Rasool Kareem Rehmatul Lilalameen

رسول کریم ؐرحمۃللعلمین

اسلام دین کا مل ہے ۔یہ جہاں عبادات اور انفرادی توجہ و اصلاح کے ذریعے سے فرد کارابطہ اس کے خالق سے استوار کرنے کی بات کرتا ہے وہیں معاشرہ اور معاشرتی معاملات بھی اس کا موضوع ہے۔

ہفتہ دسمبر

rasool kareem rehmatul lilalameen

ابوالہشام ربانی
اسلام دین کا مل ہے ۔یہ جہاں عبادات اور انفرادی توجہ و اصلاح کے ذریعے سے فرد کارابطہ اس کے خالق سے استوار کرنے کی بات کرتا ہے وہیں معاشرہ اور معاشرتی معاملات بھی اس کا موضوع ہے۔ معاشرتی طبقات ، انسانی مزاجوں کے فرق اور دیگر مذاہب کے حوالے سے اسلام کی تعلیمات باہمی احترام اور حکمت پر مبنی ہیں۔ نبی محترم حضرت محمد ؐ رحمت للعالمین ہیں آپ ؐ کی اس رحمت کا ہالاجہاں اپنے احباب اور ساتھیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا وہیں اس دائرے میں انسانوں کو انسان ہونے کی بناء پرآپ کی شفقت و عنایت بھی میسر آتی رہی ۔

ازاں بعد آپ ؐ اپنے پیچھے ایسی روشن اور واضح تعلیمات چھوڑکرگئے جو اقلیتوں یا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو جو اسلامی ممالک میں موجود ہوں یا وہاں منتقل ہوناچاہتے ہوں کے حقوق کی تاقیامت ضامن ہیں ۔



اس حوالے سے اسلام نے دوبنیادی تصورات متعارف کروائے ایک ذمیت جبکہ دوسرا جزیہ۔ذمیت ذمہ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ذمہ داری یعنی اسلام اپنے بلاد اور سلطہ کے علاقوں میں اقلیتوں کے تحفظ کا ذمہ دار ہے ۔

اس ذمہ داری اور حفاظتی تعلق کی شکل جو حقوق و فرائض کی ادائیگی کے ضمن میں ایک Tangible معاہدہ ہے جزیہ ہے۔ یعنی اقلیتوں کے معاشرتی ، ذاتی ، معاشی اور ریاستی حقوق کی یقینی فراہمی اسلام اپنے ذمہ لیتا ہے جبکہ اس سلسلے میں وہ فقط ایک علامتی اور معمولی ٹیکس ان اقلیتوں پر لاگو کرتا ہے جو اسلامی ریاست میں قیام پذیر ہوں ۔ یہ لوگ کاروبار، عبادت، زندگی گزارنے کے طور طریقے، آئینی و قانونی حقوق میں باقی شہریوں جیسے ہی ہیں۔
اس م نے غیرمسلموں کو ذمیت کے اعتبار سے تین بنیادی درجوں سے تقسیم کیا ہے۔

سب سے پہلے ذمی ہیں جن کی مکمل ذمہ داری ان کی ریاست پر ہوتی ہے ۔ یہ وہ اقلتیں ہیں جو اسلامی ممالک میں قیام پذیر ہیں اور اس ٹیکس (جزیہ ) کی ادائیگی کے عوض ان کی جان و مال ، حرمت و آبرو ، مذہبی آزادی اور معاشرتی حقوق کی یقینی فراہمی اسلامی ریاست کا فرض ہے ۔


دوسرے نمبر پر اصحاب الہدنہ یا ایسی اقلیتیں ہیں جن سے معاہدہ امن موجودہو یعنی مسلم مفتوحہ علاقے جن کے رہنے والے اپنے اپنے علاقوں میں اپنے نظم و نسق کے ساتھ رہیں مگر وہ مسلم ریاست سے معاہدہ امن اور جزیہ کی ادائیگی کے عوض دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ امان اور بیرونی دشمنوں سے مشترکہ حفاظت جیسی سہولت بھی حاصل کررہے ہوں ۔

تیسری جگہ مستعمن یعنی وہ غیر مسلم ہیں جو بلاد اسلام میں سفارت، تجارت، سیاحت یا تعلیم کی غرض سے وارد ہوں ۔
ایسے تمام لوگوں پر اسلام کسی قسم کا کوئی جزیہ یاٹیکس لاگو نہیں کرتا۔

اسلام کی اس خوبصورت درجہ بندی اور فطری معاشرتی معاملات کو اسلام دشمن عناصر ہمیشہ منفی انداز سے پیش کرتے چلے آئے ہیں وہ ذمیت کو ایک کمتردرجہ کی شہریت جبکہ جزیہ کو ذلت پر مبنی مالی ادائیگی سے تعبیر کرتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں اقلیتوںکے حقوق کا دستاویز ی نقطہ آغازمیثاق مدینہ ہے جس میں مدینہ کی ریاست نے غیر مسلموں کو جان و مال کی حرمت ، مذہبی آزادی اور معاشرتی حقوق عنایت کیے۔


صحیح مسلم ،کتاب السلام، میں حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ فتح خیبر کے بعد ایک یہودی عورت اللہ کے رسولؐ کے پاس آئی ۔اور بکری کے گوشت میں زہر ملا کر لائی ۔ حضورؐ نے اسے کھا یا اور اس کا اثر محسوس ہوتے ہی اسے چھوڑ دیا۔ اس عورت کو بلوایا گیا اور آپ ؐ نے اس سے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ کہنے لگی : میں نے آپ ؐ کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا تھا ۔
آپ ؐ نے فرمایااللہ تجھے یہ ہمت نہیں دے گا۔ حضرت علی ؓ اوردیگر صحابہ فوراً بولے اجازت ہو توہم اس کی گردن ماردیں ۔ میرے حضورؐ نے فرمایا : بالکل نہیں۔

یہ ہے حلم کی اصل اور یہ ہے صبر و تحمل اور درگزرکا بہترین درجہ کہ آپ ؐ نے اپنی جان لینے والے دشمن کو بھی معاف کردیا۔وہ یہودی عورت جو آپ ؐ پرکوڑا پھینکتی تھی اس کی بیماری اور آپ کی تیمارداری ایک مشہور واقعہ ہے۔
اسی طرح بدر کے مشرکین جو قیدی بنائے گئے۔ ان سے فدیہ یا دس مسلمانوں کو پڑھانے کے بدلے رہائی دینا ، اپنے اوپر زیادتی کرنے والے دشمنوں کو باوجود قوت اور قدرت کے معاف کر دینااور ایسے حالات میں جبکہ دشمن کمزور ہونے کے باوجود ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر کے بھی آپ ؐ سے نرمی اور رعایت چاہتا تو آپؐ اسے عموماً پھر بھی ایک موقع عنایت کردیتے ۔
اس کی بہترین مثال فتح مکہ ہے جس پر آپ ؐ چاہتے تو مکہ کے کوچہ و بازار خون سے بھر دیتے مگر آپؐ نے عام معافی کا اعلان فرما کر مشرکین مکہ کے جان ،مال اور آبرو کے حق کا پاس کیا۔ سبحان اللہ ! یہ تھے نبی رحمت اور ایسے معاشرے میں ایسے دور میں جبکہ عورت کا کوئی مقام نہ تھا اس کی امان کو اللہ نے نبیؐ،رسولوں کے سردار اور عرب کے حکمران نے اپنی پناہ قرار دیا۔ یہ واقعہ جہاں مشرکین مکہ کے حقوق کے پاس کا عملی مظہر ہے وہیں حقوق نسواں کی پاسداری اور سربلندی کا بھی آئینہ دار ہے۔

Your Thoughts and Comments