Hajj Jamia Ibadat

حج، جامع العبادات

اسلامی اتحاد کے روح پرور نظارے کی مثال کہیں نہیں ملتی، یہ عظیم اجتماع انسانوں کے درمیان تفریق مٹاکر انہیں یگانگت کی لڑی میں پروتا ہے

Hajj Jamia Ibadat
راؤ محمد شاہد اقبال:
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بہت سی پرحکمت عبادات سے ایک پر حکمت عبادت حج بھی ہے۔ حج کے لغوی معنی ارادہ اور قصد کے ہیں اور شرعی اصطلاح میں اس سے مراد ایسی عبادت ہے جو ہر سال ایک خاص لباس میں مخصوص دنوں میں مکہ مکرمہ، منیٰ،عرفات اور مزدلفہ کے مقام پر مخصوص ارکان کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے، قرآن و حدیث کی روسے حج کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔
قرآن مجید میں حج کو صاحب حیثیت انسان کے لئے فرض اور لازم قرار دیا گیا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا”جس شخص نے ایسا حج کیا کہ اس میں گناہ اور بے حیائی کا کوئی عمل نہ کیا گیا ہو یو حج سے ایسے واپس لوٹے گا جیسے آج پیدا ہوا ہو“۔ یعنی اس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے اور وہ بالکل معصوم بچے کی طرح پاک وصاف ہوجائے گا۔

حج میں دونوں عبادات یعنی مالی اور بدنی عبادت کا اشتراک ہے۔

اس لئے فقہائے اُمت نے اس عبادت کا مشترک عبادت یا جامع العبادات بھی قرار دیا ہے۔ اس عبادت کی ادائیگی میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اتنی عظیم فرمائی کہ اس میں ایک خاص لباس کی شرط عائد فرما دی تاکہ انسانی نقابل اور تفاخر کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں اور لوگ اس ایک طرز پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوجائیں جس طرح قیامت کے دن میدان حشرمیں تمام ارواح کا اجتماع عظیم ہوگا۔
حج کی مصلحتیں بے شمار اور اس کو فوائد ان گنت ہیں، سب سے بڑا اور عظیم نکتہ جس پر ادائیگی حج کے دوران زور دیا گیا ہے وہ توحید الہٰی کی درست شناخت ہے۔ حج ہر قسم کے شرک کی نفی کرتا ہے اور انسان کو خدائے وحدہ کی عبادت کا درس دیتا ہے، اگر چشم بصیرت سے دیکھا جائے تو اسی توحید کے اندر خود انسانی شخصیت کی عظمت اور احترام کا راز پوشیدہ ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں طاغوتی طاقتیں روپ بدل بدل کر اپنی پوجا کرواتی رہی ہیں اور انسانی شرف ووقار کو اپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتی رہی ہیں، یہ بت کہیں ظالم اور جابر بادشاہوں اور شہنشاہوں کی شکل میں انسانیت پر مسلط ہوئے کہیں وطن پرستی اور نسل پرستی کے تعصبانہ جذبے کا روپ دھار کر ظاہر ہوئے، موجودہ زمانے میں اس طاغوتی وشیطانی روح نے استکباری طاقتوں کی اجتماعی شکل میں جنم لیا ہے۔
مادی طاقت کے بل بوتے پر سیاسی ریشہ دوانیوں کے سہارے نام نہاد سپر طاقتوں نے دنیا کی کمزور اور پسماندہ اقوام کو اپنے پنجے میں دبوچ کر انہیں سیاسی اور معاشی مقاصد کے حصول کے لئے اپنا آلہ کار بنا رکھا ہے۔ آج دنیا بھر میں بہت سی بے بس اقوام کے معاشی وسائل اور قدرتی ذرائع استعماری قوموں کے مفاد میں بے دریغ استعمال ہورہے ہیں۔ توحیدپرست، ملت مسلمان کو حج کی عظیم الشان عبادت سے ان استعماروں قوتوں کی سر کوبی کا سبق از سر نو پڑھ کر وقت حاضر کے ان بتوں کو پاش پاش کر دینا چاہیے تاکہ کروڑوں بند گان خدا کو سیاسی غلامی اور معاشی استحصال سے نجات حاصل ہوسکے۔
حج کی دوسری بڑی تعلیم یہ ہے کہ حج صحیح معنوں میں انسانوں کے درمیان سے ہر قسم کی تفریق مٹا کر انہیں یگانگت کی ایک لڑی میں پروتا ہے۔ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے مسلمان جو مختلف لباس اور وضع قطع رکھتے ہیں مگر بیت اللہ کی حدود میں قدم رکھتے ہی اس سلے کپڑے کا ایک سادہ لباس زیب تن کر لیتے ہیں اور اس طرح انسانوں کے درمیان تفریق وامتیاز کی تمام خود ساختہ دیواریں گرادیتے ہیں اور اتحاد بین المسلمین کی لڑی میں منسلک ہوجاتے ہیں۔
صحن کعبہ میں انسانوں کا یہ سمندر ایک ہی رنگ میں رنگا ہوا خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کرتا ہو اسلامی اتحاد کا ایک ایسا روح پرور نظارہ پیش کرتا ہے جس کی نظیر دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی ۔ حج کے عظیم الشان اجتماع کے ذریعے اسلامی معاشرہ کے افراد کو جو اہم ترین ثمرہ ہر سال حاصل ہوتا ہے، اگر اسے ہم مختصر جملے میں بیان کرنا چاہیں تو ہم کہیں گے کہ زائرین بیت اللہ شریف میں حج کے موقع پر جو اعمال اور مناسک بجالاتے ہیں اور اس موقع پر جن اخلاقی اقدار کو وہ عملی جامہ پہناتے ہیں اور اس موقع پر جن اخلاقی اقدار کو وہ عملی جامہ پہناتے ہیں۔
فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد ان تمام امور کو زائرین بیت اللہ تا عمر فراموش نہیں کرپاتے بلکہ حج کے بعد جب وہ اپنے اپنے ملک میں واپس پہنچتے ہیں تب بھی انہی اعمال کو اپنانے کی کوشش اور سعی کرتے ہیں تاکہ اس طرح ان کے اعمال و اقدار کا اثرو نفوذ ہمیشہ کے لئے ان کی زندگیوں میں جاری و ساری رہ سکے، چنانچہ فطری امر ہے کہ حج کو اگر اس کی حقیقی روح اور فلسفہ کے عین مطابق اسلامی معاشرہ کے افراد کی انسانی اور اسلامی شخصیت کو سنوارنے کے مرکز میں تبدیل کر دیا جائے تو پھر اسلامی معاشرے میں مکمل طور پر اس عظیم عبادت کے گہرے اثرات مرتب ہونا شروع ہوسکتے ہیں،ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حج کے حقیقی مقاصد کو ضائع نہ ہونے دے،نیز اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھے کہ یہ فریضہ کسی حالت میں بھی اپنے حقیقی خدوخال سے محروم نہ ہونے پائے کیونکہ حج کو اس کی اصل راہ سے منحرف کرنا یااسے اس کے حقیقی مقام ومنزلت سے محروم کر دینا اسلام کی بنیادی تعلیمات اور فلسفہ سے انحراف کے مترادف ہے۔
حج اسلامی معاشرے کی تعمیروترقی میں جو بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے ، اس کے بجائے حج کو محض ایک ایسے فریضہ کی شکل دینا جس کے اعمال کا کوئی مقصد ہی نہ ہو بالکل اسی طرح ہے جس طرح ہم آج کل عصر حاضر میں دیکھ رہے ہیں کہ ہرسال دنیائے اسلام سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد فریضہ حج ادا کرنے کے لئے عازم مکہ ہوتی ہے لیکن یہ حج کسی طرح بھی ان کی سیاسی ، ثقافتی ، اقتصادی اور اخلاقی زندگی میں تبدیل پیدا نہیں کر پاتا۔

Your Thoughts and Comments