پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کراچی کے اس ایشو پر صرف سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کررہی ہیں ،سعید غنی

کچرے کے ساتھ سندھ حکومت کا براہ راست قانون کے مطابق تعلق نہیں ہے۔ مئیر کراچی پی ٹی آئی کے ایجنڈے پر ہیں،وزیر اطلاعات سندھ دعوے سے کہتا ہوں کہ اس وقت ڈسٹرکٹ ایسٹ، ملیر اور ساتھ میں دیگر ڈسٹرکٹ کے مقابلے صفائی ستھرائی کی صورتحال بہت بہتر ہے،میڈیا سے گفتگو

بدھ اگست 16:30

پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کراچی کے اس ایشو پر صرف سیاسی پوائنٹ اسکورننگ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اگست2019ء) وزیر اطلا عا ت و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ کراچی میں کچرے کو ہم سب کو مل جل کر صاف کرنا چاہیے لیکن تحریک انصاف اور ایم کیو ایم جو دونوں وفاقی حکومت میں شامل ہیں وہ کراچی کے اس ایشو پر صرف سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کررہی ہیں اور وہ کراچی کے شہریوں کو سازش کے تحت عذاب میں مبتلا کررہی ہیں تاکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے امیج کو نقصان پہنچایا جاسکے۔

کچرے کے ساتھ سندھ حکومت کا براہ راست کو قانون کے مطابق تعلق نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ مئیر کراچی اس وقت پی ٹی آئی کے ایجنڈے پر ہیں اور وہ ایم کیو ایم، پی ٹی آئی کی بی ٹیم بنی ہوئی ہے۔ میرے پاس کوئی ایسی پیرنی نہیں ہے جو جادو پڑھیں اور پانی سوکھ جائے۔

(جاری ہے)

پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی خواہش اور خواب کوئی نئے نہیں ہیں اور جو یہ خواب اور خواہش رکھتے ہیں سندھ کی عوام نے گذشتہ 10 سالوں سے انہیں ذلیل اور رشوا کیا ہے اور اب یہ چند بچ گئے ہیں وہ بھی انشا اللہ آئندہ الیکشن میں ختم ہوجائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز جامعہ کراچی کے شیخ زاہد اسلامک سینٹر میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایڈمنسٹریشن (NILAT) کے زیر اہتمام ان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پوسٹ گوریجویٹ ڈپلومہ ایوارڈ کی تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محنت رشید سولنگی، کمشنر سیسی کاشف گلزار، ڈی جی نیلات شیخ امتیاز علی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ قانون کے مطابق گلیوں، محلوں اور سڑکوں سے کچرے نکالنے کا کام ڈی ایم سیز کا ہے جبکہ شہر کے بڑے نالوں کی صفائی کی ذمہ داری کے ایم سی اور چھوٹے نالوں کی صفائی کی ذمہ داری ڈی ایم سی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈڈی ایم سیز کی مدد کے لئے بنایا گیا ہے اور وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ ڈی ایم سیز کی کونسل کی منظوری کے بعد ان ڈی ایم سیز میں صفائی اور کچرے اٹھانے کا کام کرتا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ چار ڈی ایم سیز نے اختیار دیا ہے اور دو نے نہیں دیا اس لئے سولڈ ویسٹ ان چار ڈی ایم سیز میں کام کرتا ہے البتہ ڈسٹرکٹ ویسٹ میں مذکورہ کمپنی نے معاہدے کے مطابق کام نہیں کیا اس لئے اس کا معاہدہ منسوخ کردیا گیا ہے اور اب سولڈ ویسٹ تین اضلاع میں کام کررہا ہے اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس وقت ڈسٹرکٹ ایسٹ، ملیر اور ساتھ میں دیگر ڈسٹرکٹ کے مقابلے صفائی ستھرائی کی صورتحال بہت بہتر ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ میڈیا جو کچرہ دکھاتا ہے وہ یا تو سینٹرل یا گورنگی یا پھر کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر وفاقی ایجنسیوں کے زیر انتظام علاقوں کو دکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ جب میں وزیر بلدیات تھا اس وقت ایک اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ سینٹرل اور کورنگی کے چیئرمین نے ہم سے اس حوالے سے مدد طلب کی تو ہم نے سندھ سولڈ ویسٹ کو پابند کیا کہ وہ ان کی مدد کریں اور ان کے ڈسٹرکٹ کے کچرے کو لینڈ فل سائیڈ تک پہنچانے میں کردار ادا کرے اور اس کے بعد خود ڈی ایم سی سینٹرل اور کورنگی کے چیئرمین نے ہمارا اس پر شکریہ ادا کیا۔

سعید غنی نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ مئیر کراچی نے گذشتہ روز بحریہ ٹان اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ صفائی میں ان کی مدد کررہا ہے لیکن اب تک بحریہ ٹان نے جو صفائی کی اس میں سے 31 ڈمپر لینڈ فل سائیڈ پر انہوں نے پہنچائے میں بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔ جبکہ سندھ سولڈ ویسٹ نے صرف ڈسٹرکٹ سینٹرل سے 183 ڈمپر اٹھا کر پہنچائے تو کیا مئیر کو دو لفظ شکریہ کے ان کو بھی کہہ دیتے۔

انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ مئیر کراچی اس وقت پی ٹی آئی کے ایجنڈے پر ہیں، اور یہ بات میں کئی ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ اس وقت ایم کیو ایم کراچی میں پی ٹی آئی کی بی ٹیم بنی ہوئی ہے۔ جو کام پی ٹی آئی نہیں کرسکتی وہ ایم کیو ایم سے کرا رہی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں کئی عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ سیوریج کے لائنوں اور گٹروں میں بوریاں ڈال کر انہیں بند کیا جارہا ہے اور آج خود علی زیدی نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے خود ایک ٹوئٹر پر پوسٹ کی کہ سیوریج کی لائنوں میں بوریاں ڈالی گئی ہیں۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ مئیر کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت کو ٹیکس نہ دیں۔ حالانکہ اس سال سندھ حکومت کراچی میں مختلف ترقیاتی کاموں پر 125 ارب روپے خرچ کرنے جارہی ہے جبکہ اس کے مقابلے وفاقی حکومت جس کو مئیر کراچی ٹیکس دینے کا عوام کو کہہ رہے ہیں اس نے اپنے بجٹ میں صرف 12 ارب روپے کراچی کے لئے رکھیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے 162 ارب سے مطالبہ نہیں کررہے۔

کے فور کے منصوبے کے لئے بات نہیں کی جاتی، ایس تھری سے وفاق سے نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کیوں اس کے لئے فنڈز جاری نہیں کرتی۔ 1200 کیوسک پانی کے اضافی کوٹے کے لئے ایم کیو ایم نے کبھی بات نہیں کی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم کراچی میں سب سے زیادہ کام کررہے ہیں اور ہم کراچی کو مکمل طور پر اوون کرتے ہیں کیونکہ ہم چانتے ہیں کہ کراچی اس ملک کو سب سے زیادہ رونیو دینے والا بڑا شہر ہے۔

انہوں نے کہ پیپلز پارٹی نہ اس شہر کو ڈس اوون کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کے مسائل سے پیچھے ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ کراچی پر ہے لیکن افسوس کہ وفاقی وزیر علی زیدی ہوں یا مئیر کراچی وسیم اختر دونوں اس پر سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کررہے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ مئیر کراچی جس سے مجھے توقع تھی کہ وہ علی زیدی سے کہیں گے کہ وہ نالوں سے کچرہ نکال کر شہر میں سڑکوں، پارکوں اور پلے گرانڈ میں پھیلا رہے ہیں اس پر انہیں روکیں گے کیونکہ اس کے باعث شہر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال مزید خراب ہورہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علی کراچی کی کلین کراچی مہم جو کہ اصل میں کراچی کو گندہ کرنے کی مہم کے باعث کراچی کے مختلف ڈسٹرکٹ کی صورتحال بہت حد تک خراب ہوئی ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ لینڈ فل سائیڈ پر نہیں پھینک سکتے تو وہ اس مہم کو بند کردیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ وزارتوں کی تبدیلی کا اختیار پارٹی کی اعلی قیادت کو ہوتا ہے اور ابھی بھی 12 وزارتوں کو تبدیل کیا گیا ہے، اس لئے یہ کہنا کہ کارکردگی بہتر نہ ہونے پر ہٹایا گیا ہے وہ بالکل درست نہیں ہے کیونکہ اس وقت بھی مجھے جو دو وزارتوں کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں وہ اس سے بھی زیادہ بڑی وزارتیں ہیں اور میری لیڈر شپ کا مجھ پر مکمل اعتماد ہے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ بارشوں سے قبل تیاریاں نہ کرنے کا سوال انتہائی احمقانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں یہی احمقانہ سوال وفاقی حکومت سے کروں کہ انہوں نے سیلاب سے قبل کیوں تیاریاں نہیں کی اور بھارت نے پانی چھوڑا ہے تو اس کے لئے وہ کیوں تیار نہیں تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ بارشوں سے قبل تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھی لیکن جب بارش کا پانی سڑکوں پر آتا ہے تو اس کو نکلنے میں وقت لگتا ہے اور ہم نے اس حوالے سے مکمل تیاریاں کی جس کے باعث اہم شاہراہوں سے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جاسکا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے کئی علاقوں میں جہاں بارش کا پانی سمندر میں جاتا ہے وہاں سمندر میں ہائی ٹائیڈ اور سیلابی پانی کے باعث سمندر میں پانی کی نکاسی رکی اور اس کے باعث وہاں پانی کی نکاسی فوری ممکن نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی پیرنی نہیں ہے جو جادو پڑھیں اور پانی سوکھ جائے۔ اور کراچی کے جن مضافاتی علاقوں میں پانی جمع رہا، وہاں سیوریج کے نظام کو ایم کیو ایم نے اپنے روایتی طریقے کو استعمال کرتے ہوئے بوریوں، رضائیوں، پتھروں اور دیگر رکاوٹوں سے بند کیا اور اس کے شواہد بھی ملیں ہیں اور اس کے پیچھے ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کرسکیں۔

ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسی سیاست پر جہاں عوام کو تکلیف میں مبتلا کرکے سیاست کی جائے۔ پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بننے کے سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی خواہش اور خواب کوئی نئے نہیں ہیں۔ 2008 کے الیکشن کے بعد اس کے بعد 2013 کے الیکشن اور اب ایک بار پھر یہ خواہشات اور خواب جی ڈی اے اور دوسری وہ جماعتیں دیکھ رہی ہیں، ہر آنے والے ایکشن میں سندھ کے عوام ان کو ذلیل اور خوار کرتے ہیں اور ہر الیکشن میں عوام انہیں مسترد کرتے ہیں اور اس بار بھی انہیں مکمل طو ر پر مسترد کردیا ہے اور اب جو بچ گئے ہیں انشا اللہ آئندہ الیکشن میں وہ بھی نہیں رہیں گے۔

وہ آشرے پر رہتے ہیں اور آئندہ 4 سال تک بھی یہ آشرے پر رہیں گے۔قبل ازیں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایڈمنسٹریشن ٹریننگ (نیلات) کے تحت ڈپلومہ ایوارڈ کی تقریب سے خطا ب کر تے ہوئے وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ نیلات کے تمام اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے قا بل گرا ں کا ر نا مے انجا م دیئے ۔ انہو ں نے کہا کہ جب میں وزیر اور کسی بھی عہدہ پر نہیں تھا تب سے میں نیلات کو جانتا ہوںنیلات کا ہمارے ملک میں بڑا مثبت کردار ہے ۔

انہو ں نے اتنے قا بل گرا ں کا ر نا مے انجا م دینے والے ورکرز ہما ر ے معا شر ے کا ستو ن ہیں ان میں سب سے اہم کام سوشل سیکورٹی ہے۔صو با ئی وزیر نے کہا کہ بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جو بھی مزدو ر طبقہ ہے چاہے وہ پان والا ہی کیوں نہ ہو اسے سوشل سیکورٹی فراہم کی جا ئے گی اگر اس ملک کی معیشت کو ٹھیک کرنا ہے تو ہمیں انویسٹرز کے حالات کو بہتر کرنا ہوگ ہمارا مزدور طبقہ کے حا لا ت بہتر نہیں ہونگے تو انڈسٹری بہتر نہیں ہوسکے گی.

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments