اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںوزیراعلی پنجاب کے لئے امیدوار نہیں‘قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر حلف ..

وزیراعلی پنجاب کے لئے امیدوار نہیں‘قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر حلف اٹھا چکا ہوں:سردار محمد خان لغاری

اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کے دوران پنجاب اسمبلی میں ووٹ دیکھنے پر ہنگامہ آرائی ،تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی کا ووٹ کینسل کردیا گیا

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 اگست۔2018ء)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما محمد خان لغاری نے کہا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار نہیں ہیں، وہ قومی اسمبلی کی نشست پر حلف اٹھا چکے ہیں. محمد خان لغاری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے وزراعلیٰ پنجاب نامزدگی سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے قومی اسمبلی کی نشست رکھ لی ہے صوبائی اسمبلی کی نشست سے مستعفیٰ ہوچکے ہیں اور قومی اسمبلی کی نشست پر حلف اٹھا چکے ہیں.

محمد خان لغاری نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 192 اور صوبائی نشست پی پی 292 سے الیکشن میں حصہ لے کر کامیاب ہوئے تھے.

(خبر جاری ہے)

واضح رہے کہ انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست پر شہباز شریف اور صوبائی حلقہ سے اویس لغاری کو شکست دی تھی. دوسری جانب اسلام آباد عمران خان کی زیرصدارت اجلاس جاری ہے جس میں حکومت سازی اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی مشاورت جاری ہے اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کل وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے نام کا اعلان کریں گے.

عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ پنجاب میں ایسا نوجوان وزیراعلیٰ لائیں گے جس پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہو. واضح رہے کہ عمران خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے لیے اتحادی جماعت (ق) لیگ کے پرویز الٰہی کو نامزد کیا ہے. پنجاب میں پچھلے مسلسل 10 سال جبکہ 30 برس تک پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت رہی ہے اور اس میں ماسوائے چند برسوں کے، بقیہ وقت اس کی سربراہی شریف خاندان کے پاس رہی.

حالیہ انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو پنجاب میں آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد عددی برتری حاصل ہو گئی ہے. 179 نشستوں کے ساتھ اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق )کی 10 نشستیں ملا کر وہ حکومت بنانے کے لیے درکار 186 نشستیں حاصل کر لے گی. اس کو ایسا کرنے سے روکنے کے لیے 164 نشستیں رکھنے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) کو پاکستان پیپلز پارٹی کے8 اور4 آزاد اراکین کے ساتھ ساتھ کم از کم 10 مزید اراکین کی حمایت درکار ہو گی مرکزمیں پیپلزپارٹی کے ساتھ اختلافات سامنے آنے کے بعد خیال کیا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی سپیکراور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کی طرح وزیراعلی کے انتخاب میں بھی نون لیگ کی حمایت نہیں کرئے گی.

نون لیگ وزیرِاعلی پنجاب کے امیدوار کے لیے حمزہ شہباز کو نامزد کر چکی ہے. انتخاب میں شکست کی صورت میں وہی قائد حزبِ اختلاف ہوں گے. تاہم ایسی صورت میں اس کا قلعہ سمجھے جانے والے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) مسلسل 10 برس تک حکومت کرنے کے بعد حزبِ اختلاف کی جماعت بن جائے گی. نون لیگ پر پاکستان تحریکِ انصاف کی عددی فوقیت محض چند نشستوں کی ہے‘ ایسے میں ان کی حکومت کتنی پائیدار اور موثر ہو گی؟ ن لیگ اسے کیسے مشکل میں ڈال سکتی ہے؟ ایسے تمام سوال ابھی سے گردش میں ہیں.

دوسری جانب اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کے دوران پنجاب اسمبلی میں ووٹ دیکھنے پر ہنگامہ آرائی ہوگئی،تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی کا ووٹ کینسل کردیا گیا. پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ( ن) کے نو منتخب ارکین اسمبلی نے آپس میں نعرے بازی کی، شور شرابے کے باعث ایوان مچھلی بازار بن گیا. پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے، اسپیکر کے لیے تحریک انصاف اور اتحادیوں کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی اور ن لیگ کے امیدوار چوہدری محمد اقبال کے درمیان مقابلہ ہے.

ووٹنگ کے دوران ووٹ دیکھنے پراسمبلی ہال میں ہنگامہ آرائی ہوئی ،اسپیکرپنجاب اسمبلی نے تحریک انصاف کی خاتون رکن کا ووٹ کینسل کر دیا ہے. اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ووٹ دکھانے پر تحریک انصاف کی رکن صادقہ کا ووٹ کینسل کردیا.

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں