مجھے بہت غلط اور بہت ہی فضول فیصلے سے نااہل کیا گیا۔ جہانگیر ترین

منگل 12 اکتوبر 2021 11:51

لودہراں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2021ء) جہانگیرترین نے لودہراں نے نواحی گاؤں چک 379 ڈبلیو بی میں ملک ریاض اعوان کے ڈیرے پر ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن سے 6 ماہ پہلے مجھے بہت ہی غلط اور بہت ہی فضول فیصلے سے نااہل کیا گیا۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی پی ٹی آئی سے 8 سیٹیں زیادہ تھیں ۔ 23 آزاد بنے پھر آپ نے دیکھا کہ جہاز چلا۔ مجھے عمران خان کا میسج آیا کہ پنجاب کے بغیر حکومت کا کوئی فائدہ نہیں میں نے جواب دیا آپ بے فکر رہیں اور پھر ہم نے حکومت بنا لی۔

جہانگیر ترین کا مزید کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت مجھے عمران خان سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر مجھے الگ کردیا گیا۔ جب مجھے عمران خان سے الگ کردیا گیا تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے حکومت بن گئی ہے ، اپنے اچھے لوگ لائیں اور ڈیلیور کریں لیکن سازشی یہاں رکے نہیں بلکہ ڈیڑھ سال میرے پیچھے لگے رہے۔

(جاری ہے)

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی حکومت ایک شخص کے پیچھے اس حد تک گئی ہے۔

لیکن اللہ کا شکر ہے میں سرخرو ہوا۔ لودہراں کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی کسی کی وجہ سے منتخب ہوا۔ ہم سب نے مل کر الیکشن لڑا اور کامیابی ملی۔ میں نے شدید گرمی میں میاں شفیق آرائیں ، زوار وڑائچ اور نذیربلوچ کی کیمپئین کی۔ جب حکومت بن گئی تو میں وزیراعظم ہاؤس بیٹھا تھا وہاں کافی تعداد میں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری بنائے جا رہے تھے۔

میں نے مراد سعید کو فون کیا اور کہا کہ آپ کو کمیونیکیشن کی وزارت ملی ہے  آپ زور ڈال کر میاں شفیق آرائیں کو پارلیمانی سیکرٹری لیں۔ پھر میں نے میاں شفیق آرائیں کو فون کیا اور بتایا کہ میں نے آپ کو پارلیمانی سیکرٹری بنوا دیا ہے۔ اس کے باوجود میاں شفیق آرائیں کو مجھ سے گلے ہیں تو وہ افسوسناک ہیں۔ جہانگیر خان ترین نے مزید کہا کہ ہم نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔

اگر حکومت کے دو سال پورے ہوتے ہیں تو الیکشن میں دو سال پڑے ہیں۔
جو حالات اس وقت بن رہے ہیں ہم ان کے مطابق چلیں گے اور اچھے فیصلے کریں گے۔ لیکن درمیانی فیصلہ کریں گے کہ پاکستان کیلئے کیا اچھا ہے اور لودہراں کیلئے کیا اچھا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے ساتھ جو وزیر ، مشیر اور اراکین اسمبلی کھڑے رہے میں سب کا شکریہ ادا کرتاہوں

لودھراں شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>