انٹرنیشنل کرکٹرز کی پاکستان آمد ملک کا پرامن اور مثبت تشخص اجاگر کرے گی، چیئرمین پشاور زلمی جاوید آفریدی

جمعہ فروری 19:44

انٹرنیشنل کرکٹرز کی پاکستان آمد ملک کا پرامن اور مثبت تشخص اجاگر کرے ..
کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 فروری2020ء) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز پشاور زلمی کے چیئرمیں جاوید آفریدی نے پی ایس ایل 5 مکمل طور پر پاکستان میں کھیلے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کے سافٹ امیج میں مزید اضافہ ہوگا، انٹرنیشنل کرکٹرز کا پاکستان آنا ملک کے پرامن اور مثبت تشخص کو بھی اجاگر کرے گا، پاکستان سپرلیگ نے نہ صرف پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ ساتھ ہی پاکستان کرکٹ کو استحکام بھی بخشا ہے۔

انہوں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل سے نوجوان کرکٹرز ابھر کر سامنے آئے ہیں، حسن علی کو پشاور زلمی نے پہلے سیزن میں ایمرجنگ کٹیگری میں منتخب کیا تھا اور صرف دو سال بعد وہ دنیاکے بہترین ون ڈے باولر بن گئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اسی طرح دیگر فرنچائز سے بھی نیا ٹیلنٹ سامنے آیا ہے، پاکستان سپر لیگ سیزن فائیو کا پاکستان میں مکمل انعقاد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ اور بین الاقوامی اسپورٹس کے پاکستان میں انعقاد کا باعث بنے گا۔

جاوید آفریدی نے کہا کہ پی ایس ایل سے تمام فرنچائزز کو ہوم گرائونڈ کے سامنے کھیلنے کا موقع مل رہا ہے جو نوجوان فینز کے لیے بھی کرکٹ سے لگائو کا باعث بنے گا، ساتھ ہی انٹرنیشنل کرکٹرز کا پاکستان آنا ملک کا پرامن اور مثبت امیج بھی اجاگر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے پہلے روز سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، تمام فرنچائزز، تمام فرنچائز مالکان اور کھلاڑیوں سمیت شائقین نے پاکستان سپر لیگ کو برانڈ بنانے میں اپنا اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بسنے والے پاکستانیوں اور شائقین کرکٹ نے بھی پہلے چار سیزن میں ہماری حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کی بدولت ہم پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرتے رہیں گے، پی ایس ایل کی پاکستان واپسی میں حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کا کردار بھی شاندار رہا ہے جس کے بغیر پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا خواب ناممکن تھا۔

پشاور زلمی اور دیگر فرنچائزڈ میں کھیلنے والے غیر ملکی کرکٹرز کی سیکوریٹی کے حوالے پوچھے گئے سوال پر جاوید آفریدی نے کہا کہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان نے پی ایس ایل کے غیر ملکی کرکٹرز کو سربراہان مملکت کے لیول کی سیکورٹی فراہم کی جس کی وجہ سے کھلاڑی ہمیشہ مطمن رہے اور کرکٹ کو پاکستان میں انجوائے کیا۔ پی ایس ایل سے ہونے والی آمدنی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر چیئرمین پشاور زلمی نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ پاکستان کرکٹ کا نہیں پاکستان کا وہ برانڈ ہے جس کی پزیرائی دنیا بھر میں ہے، یہ لیگ پاکستانیوں کی ہے اور یقیناً پاکستان میں پی ایس ایل کے مکمل انعقاد سے ہم سب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، یقینی طور پر پاکستان میں لیگ کا انعقاد ہر لحاظ سے پاکستان اور ہم سب کے مفاد میں ہے، تمام فرنچائزز نے پاکستان کرکٹ کے مفاد میں لیگ میں انویسٹمنٹ کی اور پاکستان میں لیگ کا مکمل انعقاد سے پی سی بی اور فرنچائز کے ساتھ پورے ملک میں خوشحالی کا باعث بنے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز پشاور زلمی پی ایس ایل کی تاریخ میں واحد ٹیم ہے جس نے 20 اوورز کرائے اور اسے چھکا نہیں لگا، ڈرین سیمی کی قیادت میں پشاور زلمی نے یہ ریکارڈ کراچی کنگز کے خلاف شارجہ میں کھیلتے ہوئے بنایا، پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پشاور زلمی نے 154 رنز بنائے جس میں امامالحق کی نصف سینچری بھی شامل تھی جبکہ زلمی کے بالر حسین علی نے صرف 15 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/02/2020 - 19:44:44

Your Thoughts and Comments